کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچ قوم کو آپس میں دست وگریباں کرنے کی سازشوں میں مصروف نیشنل پارٹی بلوچوں کے قتل عام میں ڈیتھ اسکواڈ کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہی ہے ۔
میر غوث بخش بزنجو کے نظریات کا سودا کرکے وزیراعلیٰ بننے والے ڈاکٹر مالک بلوچ کی سی پیک سے متعلق معاہدوں میں حیثیت گواہ کی تھی ، حاصل بزنجو کی کارستانیاں دیکھ کر انکے والد میر غوث بخش بزنجو کی روح قبر میں تڑپ اٹھی ہوگی، لیویز تھانہ پر حملے اور اہلکاروں کے قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزم کا انتخابات میں حصہ لینا ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔
بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی خواہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بلوچستان میں حقیقی ترقی و خوشحالی لانے کیلئے جانبدارانہ پالیسیاں ترک کرنا ہونگی ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے بلوچ قومی مفادات کا سودا کرنے کیلئے نہیں بلوچ قوم کے ننگ وناموس عزت وقار اور اپنے اکابرین کو دستار کی سربلندی کیلئے ملک کے ایوانوں کا رخ کیا ہے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے باہر وڈھ میں سرداراخترجان مینگل کی رہائش گاہ پر مسلح افراد کی جانب سے پارٹی کے سربراہ پر حملہ کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاجی مظاہر ے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ، رکن بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار، غلام نبی مری، حاجی زاہد بلوچ، ملک محی الدین لہڑی، آغا خالد شاہ دلسوز، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ویگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ کا کہنا تھا کہ پارٹی قائد کے گھر پر حملہ کی کوشش بزدلانہ فعل ہے ایسے ہتھکنڈروں سے پارٹی کو قومی و جمہوری جدوجہد سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا ۔
پارٹی کے شہداء کی شہید گل زمین حبیب جالب سے لیکر ملک نوید دہوارتک ایک طویل فہرست ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وڈھ میں بی این پی کے رہبر کو قتل کرنے کی غرض سے منصوبہ بندی کے تحت ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ کی پشت پناہی سے رچائی گئی سازش کو لاکھوں ماؤں، بہنوں ، اور بزرگوں کی دعاء نے کامیاب نہیں ہونے دیا اور بزدل دشمن ہمیشہ کی طرح اپنے بزدلانہ عزائم میں ناکام رہے ۔سردار اختر جان مینگل کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے وہ بلوچ قوم کے محبوب قائد ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے واقعہ کو ذاتی رنجش قرار دیکر ملزمان کو رہا کردیا ہے جو قابل مذمت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اپنے اکابرین کی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے وفاق اور صوبے میں وزارتیں اور مراعات لینے کی بجائے ارباب اختیار کے سامنے چھ نکات رکھے ہیں جن پر عملدرآمد سے بلوچستان کے مسائل میں کمی آئے گی۔ ہماری سیاست بلوچ قوم کے لیے ہے ساحل وسائل پر حق حاکمیت کی جدوجہد سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کیلئے اپنے نظریات کا سودا کرکے وزیراعلیٰ بننے والے ڈاکٹر مالک بلوچ کی سی پیک سے متعلق معاہدوں میں حیثیت ایک گواہ کی تھی نیشنل پارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ قوم کی قتل وغارت گری میں ڈیتھ سکواڈ کے ساتھ برابر کی شریک رہی ہے۔حاصل بزنجو کی کارستانیاں دیکھ کر انکے والد میر غوث بخش بزنجو کی روح قبر میں تڑپ اٹھی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں حقیقی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی وصوبائی حکومتوں کو جانبداری کی پالیسیاں ترک کر کے غیر جانبداررہ کر ماضی میں ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی ترقی مخالف نہیں گوادر سے متعلق قانون سازی کی ضرورت ہے جغرافیائی اہمیت سے متعلق ایشاء کا گیٹ وے قرار دیئے گئے گوادر کے سمندر سے مقامی ماہی گیر وں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔
اگر ترقی یہ ہے تو ایسی ترقی ہم کبھی نہیں چاہیں گے ۔ گوادر کے عوام نے حالیہ انتخابات میں پارٹی کو قومی مینڈیٹ دیا ہے حکومت گوادر سے متعلق پالیسیوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی کو اعتماد میں لے ۔ بلوچ مخالف سازشوں کیخلاف صوبائی اورقومی اسمبلی سینٹ میں پارٹی کے اراکین آواز بلند کرتے رہیں گے ۔
مظاہرے سے رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار کا کہنا تھا کہ منفی ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے حالیہ واقعہ سے قبل بھی پارٹی قائد کے گھر پر راکٹوں سے حملے کئے گئے مشرف کی آمریت میں پارٹی قائد کو پابند سلاسل رکھ کر ان کو جسمانی ازدیتیں دی گئیں ، پارٹی قیادت اور کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی اس کے باوجود بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اور ان کے ساتھیوں او رحامیوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وڈھ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے جو قوتیں اس منفی عمل میں ملوث ہیں انہیں منظر عام پر لایا جائے۔ مظاہرے سے غلام نبی مری کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج بھی بلوچستان میں ناانصافیوں کا دوردورہ رہا ہے بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی انداز میں حل کیا جائے ۔
آئین میں تمام اقوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں کو بند کر کے حقیقی جمہوریت کو پنپنے کا موقع دیا جائے۔ ساحل وسائل کا اختیار بلوچ قوم کے سپرد کرکے ہماری ہزاروں سالوں پر محیط تہذیب و تمدن اور قومی تشخص کا دفاع کر کے ریاست اپنی ذمہ داری سرانجام دے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے گزشتہ دور حکومت میں گروہی وزادتی مفادات ومراعات کے لیے بلوچ قومی جدوجہد کا سودا کیا آ ج و ہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی پر بلا جواز تنقید کر رہے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کسی قوم کے خلاف نہیں عوام کو یکجا کر کے اپنے ساحل و وسائل پر اختیار کی ہماری جدوجہد ملکی آئین کے عین مطابق ہے۔ مظاہرے سے زاہد حسین بلوچ محی الدین لہڑی ،خالد شاہ دلسوز ،علی احمد قمبرانی ، ابراہیم پرکانی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
تربت دریں اثناء سردار اختر جان کی رہائش گاہ پر حملے کی کوشش کیخلاف بی این پی کے زیر اہتمام تربت ، ڈیرہ مراد جمالی اور ڈھاڈر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے تربت میں بی این پی کے احتجاجی مظاہرے سے پارٹی کے مرکزی پروفیشنل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالغفور بلوچ کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بی این پی بلوچستان کی واحد قوم پرست جماعت ہے جس کی قیادت کو ہر دفعہ اپنے حقوق مانگنے اور اپنے ساحل و وسائل کی بات کرنے کی پاداش میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت کے علمبردار غیر دانشمندانہ پالیسی ترک کردے ، انہوں نے کہا کہ بلوچ کو اپنی سر زمین میں عزت سے جینے کا حق دیا جائے انہوں نتے کہا کہ سردار اختر جان مینگل وہ لیڈر ہیں جنہیں مراعات نہیں بلکہ بلو چ کے حقوق درکار ہیں اور اسی پاداش میں انہیں مختلف حربوں سے پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے علمبردار پہلے اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ وہ اپنی عابنے نا اندیشیوں سھے ملک کو کس سمت لے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہ ملک کو چلانے کے لیے عجیب و غریب گروپ بنائے گئے ہیں جبکہ ہر ذی شععر انسان کو معلوم ہے کہ گرپ بندی سے ملک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، ڈاکٹر عبداسلغفور بلوچ نے مزید کہا کہ سردار خاتر جان مینگل کے گھر پر حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ان کی قیادت پر فخر ہے ،۔
، بی این پی کے رہنما قانون دان عبدالحمید ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں بھی کوٹ مینگل پر حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذت کی اور کپہا کہ سردار اختر جان مینگل وہ واحد رہنما ہیں جو وزارت کے پیچھے نہیں بھاگ رہے ہیں بلکہ وزارت ان کے پیچھے بھاگ رہی ہے مگر وہ بلوچ قوم اور ساحل و سائل کی خطار وزارت کو بھی موڑ کر نہیں دیکھ رہے ہیں ۔
اہوں نے کہا کہ بی اینم پی کی باشعور قیادت اچھی طرح سے جانتی ہے وزارت اور مراعات بلوچ قوم کے درد کا مداوا نہیں ہیں ، حمید ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب مھیں نیشنل پارٹی کی قیادت کو بھی شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی این پی کی قیادت کے خلاف سازشوں میں این پی کی قیادت کا برابر کا ہاتھ ہے جس کی بلوچ قوم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ این پی نے اپنے ڈھائی سالہ وزارت اعلیٰ شپ میں بلوچ قوم کو تاریخ کے بد ترین نقصانات سے دوچار کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ سردسر اختر جان مینگل کی قیادت پر لاکھوں کارکن بلوچستان ان پر جان نچھاور کرنے کو بھی تیار ہیں ۔
احترجای مظاہرے میں میر حمل بلوچ ، پارٹی ضلعی صدر شے نذیر اور بی ایس او کے ضلعی آرگنائذر ماما عظیم نے بھی خطاب کیا اور کوٹ مینگل پر حملے کی مذمت کی ۔ ڈیرہ مراد جمالی میں بی این پی کے ضلعی دفتر سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء مین بازار قومی شاہراہ سے ہوتی ہوئے پریس کلب پہنچی جہا ں پر احتجاج جلسہ منعقد ہوا جلسہ سے مقررین کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سردار اختر جان مینگل کے گھر پر حملہ بزدلانہ فعل ہے ۔
واقع کی سخت مذمت کی اس طرح کے غیر قانونی ہتھکنڈوں سے بی این پی کے قائدین کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ بی این پی ایک عوامی قوت کا نام ہے جو کہ صوبے کے عوام کی حقوق اور سرزمین بلوچستان کے سائل وسائل کے تحفظ کے لیے جہدو جہد کر رہی ہے ۔
بی این پی کی آواز کو دبانے کے لیے جو حربے استعمال کیے جا رہے ہیں وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں وڈھ میں سردار اختر جان مینگل پرحملے کی ناکام کوشش کا مقصد بی این پی کو بلوچستان کے عوام کی حقوق سے دستبردار کرنے کی گہری سازشوں کا حصہ ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم پارلمیانی سیاست کے ذریعے عوام کی حقوق اور ان کے حق حاکمیت کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتے رہیں گے انہوں نے کہاکہ وڈھ میں سردار اختر جان مینگل کے رہائشگاہ پرحملے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے تاکہ پارٹی کارکنوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو سکے اور واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔
ڈھاڈر میں بھی بی این پی کے مرکزی کال پر ضلعی آرگنائزرادا کریم بلوچ کی قیادت میں ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بی این پی کے پرچم تھامے رندعلی بازار اور شاہی چوک سے نعرہ بازی کرتے ہوئے پریس کلب ڈھاڈر پہنچے اس موقع پر ریلی کی شرکاء سے کریم بلوچ،غلام ربانی مینگل،میر غلام رسول مینگل،الطاف بلوچ،سمیع جلبانی،طارق بلوچ،علی مراد کرد اور دیگر نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا
اختر مینگل کی رہائش گاہ پر حملے کیخلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج
![]()
وقتِ اشاعت : October 15 – 2018