کوئٹہ228مستونگ: پی بی 35 مستونگ سے نومنتخب رکن بلوچستان اسمبلی سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی حکومت نہیں بلکہ چوں چوں کا مربہ ہے۔
گوادر بلوچستان کا اٹوٹ انگ ہے ، باہر سے لوگوں کو لاکر مسلط کرنے اور توسیع پسندانہ منصوبے کسی صورت قبول نہیں۔سی پیک میں بلوچستان کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔تمام تر اوچھے ہتھکنڈے کے باوجود بلوچستان کے عوام نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی نا پسندیدہ حرکتوں کو رد کردیا۔
افسوس ہے کہ انتخابات کے دوران میر غوث بخش بزنجو کے فلسفے کو بندوق کے حوالے کیا گیا۔بلوچستان میں مالی بحران کی بڑی وجہ فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور ان کے اخراجات کی صوبائی حکومت سے وصولی کرنا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار انتخابات میں کامیابی کے بعد مستونگ میں اپنے آبائی علاقے کانک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر بی این پی کے رہنماء لشکری رئیسانی ، منظور بلوچ، سکندر ملازئی ،سیاسی و قبائلی عمائدین بھی موجود تھے۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ 14 اکتوبر کے انتخابات سے قبل اور انتخاب کے دن بھی دھاندلی کی تمام کوششیں کی گئیں۔ دھونس دھمکیوں ، اغواء اور بلیک میلنگ کے ذریعے لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں کیں۔
قلات ڈویژن کے دو حلقوں میں انتخابات ہورہے تھے مگر انتخابات سے چند روز قبل کمشنر قلات کو تبدیل کیاگیا۔ یہ اوچھے ہتھکنڈے اڑھائی دن میں بننے والی جماعت کو جتانے کیلئے کئے گئے مگر مستونگ ، وڈھ ا ور بلوچستان کے عوام نے اسلام آباد اور اقتدار کی حامل قوتوں کو واضح پیغام دے دیا کہ ہم کسی کو بھی اپنی سرزمین پر بے جا مداخلت اور کسی اور کو کہیں سے اور لاکر یہاں بسانے کو قبول نہیں کریں گے۔
اسٹیبلشمنٹ کبھی باہر سے لوگوں کو لاکر شہریت کے نام پر بسانے ،کبھی باہر سے لوگوں کو لاکربلوچ عوام پر مسلط کرنے جیسی ناپسندیدہ حرکتیں کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مستونگ کے انتخابات میں سرکاری پارٹی کے امیدوار کا تعلق مستونگ سے تھا ہی نہیں۔ مشرقی بلوچستان سے امیدوار کو لاکریہاں کھڑا کیا گیا۔
سردار کمال بنگلزئی ایک محترم سردار ہیں اور یہاں کے رہنے والے ہیں لیکن سرکاری پارٹی کے امیدوار کے ووٹ ان سے زیادہ تھے۔باہر سے آنیوالے شخص کو کس طرح یہاں ووٹ ملے یہ دھاندلی کی صاف مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکار کی دھاندلی، دھونس دھمکیوں کے باوجود عوام نے فیصلہ کیا کہ تم جو بھی کررہے ہوں تم غلط کررہے ہیں۔ یہ غیر فطری اور غیر شرعی حرکتیں ہیں جسے عوام ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
ان کے پاس دھونس دھمکیوں کے علاوہ کوئی پروگرام نہیں۔ نہ کوئی ترقیاتی پروگرام اور نہ ہی آنیوالی نسلوں کی بہتری کا کوئی منصوبہ۔ ہم یہاں سینکڑوں سالوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ اس خشک سرزمین کی قدر ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن باپ پارٹی کے ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دے رہا ہے اس سے ثابت ہوگیا کہ دھاندلی کون کررہا ہے۔ باپ پارٹی کی ترجمان بشریٰ رند کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر حیرت ہے وہ ثبوت سامنے لائیں۔
انہوں نے کہا کہ بی این پی ہماری اتحادی جماعت ہے ۔ وہ اسمبلی میں حزب اختلاف میں ہوں یا اقتدار میں ان کا ساتھ دیں گے ۔ انتخابات میں بھی بلوچ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے اکابرین کو یہ پیغام دیا ہے کہ اب ایک ہونے کا وقت آگیا ہے۔
ایک سوال پر نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ نظریاتی سیاست کرنیوالوں کیلئے حکومت بنانا بھی آسان ہوتا ہے اور حزب اختلاف میں رہنا بھی آرام دہ ہوتا ہے۔ مگر اس وقت بلوچستان میں کوئی حکومت نظر نہیں آرہی۔ چوں چوں کا مربہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی ضمنی انتخاب میں ن لیگ سبقت لے گئی۔ حکومت بنانا اورعوامی احساس و جذبات کو سامنے رکھ کر خدمت کرنا ایک فن ہے یہ ہر شخص نہیں کرسکتا۔نواب اسلم رئیسانی نے نیشنل پارٹی کا نام لئے بغیر کہا کہ اس بات پر افسوس ہے کہ میر غوث بخش بزنجو کے فلسفے کو بندوق کے حوالے کردیاگیا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ مستونگ کے تحقیقاتی عمل سے بالکل مطمئن نہیں۔ اس طرح کے بڑے واقعہ کی تحقیقات کیلئے جائے وقوعہ کو محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ شواہد جمع کرنے میں آسانی ہو مگر فرانزک ٹیم پنجاب سے آئی یہاں گھومی پھری اور کچھ نہیں کیا۔
سراج رئیسانی سرکاری پارٹی کے امیدوار تھے مگر حکومت نے اس سانحہ کو بالکل نظر انداز کیا۔ بڑے لوگوں نے آکر صرف فاتحہ خوانی اور امداد کا اعلان کیا اور کچھ نہیں کیا۔ اس واقعہ کے بعد حکومت بالکل بے نقاب ہوگئی۔
نام لیا جاتا ہے کہ فلاں کا ہاتھ اس سانحہ میں تھا ہم کہتے ہیں کہ جس نے بھی یہ دھماکا کیا اس کو بے نقاب اور کیفر کردار تک پہنچایا جاناچاہیے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے بہت پیسہ صوبے میں لیکر آئے اور جب ہم حکومت چھوڑ کر جارہے تھے تو اس وقت ستائیس ارب روپے سرکاری خزانے میں موجود تھے۔
اس کے علاوہ ہر سال گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں آٹھ ارب روپے ترقی کیلئے ایئر مارک کررہا تھا۔ سیندک پراجیکٹ شروع کرنے کیلئے ہم نے رہائشی کالونی بنائی۔ میٹالوجی کی لیبارٹری اور پاور ہاوس بنائی اور ہم پانی کی پائپ لائن بچھارہے تھے ہماری حکومت کی مدت پوری ہوگئی۔ گزشتہ حکومت میں تین وزراء اعلیٰ رہے مگر انہوں نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
اس وقت بلوچستان حکومت کے ذمے سو ارب روپے کے قرضے واجب الادا ہیں ۔بلوچستان کے مالی بحران کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فورسز کی تعیناتی ہے ان کے تمام اخراجات صوبائی حکومت سے لئے جارہے ہیں۔پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیاں یہ مالی بحران باپ پارٹی یا عمران خان پورا کرے گا؟۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے گوادر کسی اور ملک سے حاصل نہیں کیا۔ یہ بے بنیاد بات ہے۔گوادر بلوچستان کا حصہ اور بلوچوں کی ملکیت تھا، ہے اور رہے گا۔ گوادر بلوچستان کا اٹوٹ انگ ہے۔
اپنے دور میں اسے سرمائی دار الحکومت بھی اس لئے بنایا تاکہ بھوت بنگلوں میں بیٹھنے والوں کو پیغام جائے کہ گوادر بلوچ قوم کا لازمی حصہ ہے۔ اس میں جو بھی کاروبار ہوگا،سی پیک ، زمینوں کی الاٹمنٹ اور لوگوں کے شناختی کارڈ بنیں گے وہ بلوچ عوام کی مرضی سے ہوگا۔ سی پیک اگر بلوچ عوام کی ترقی کیلئے نہیں تو ہمیں قبول نہیں انہوں نے کہا کہ گوادر ،مکران اور لسبیلہ میں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کے شناختی کارڈ بنائے جارہے ہیں۔
مکران کو توڑ کر نیا ڈویڑن بنانے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں۔ ہم اسے انتظامی تقسیم نہیں بلکہ لوٹ کھوسٹ کا دھندا سمجھتے ہیں۔ مکران ڈویڑن جیسا ہے اسی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ نیب میں میرے خلاف نائب تحصیلداروں کا کیس بند ہوگیا اور مہرگڑھ معاوضے کا کیس بنتا ہی نہیں کیونکہ یہ معاوضہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر دیا گیا۔
نیب والے بار بار بلاتے ہیں اور کہتے ہیں آپ ہماری مدد کریں۔میں نے انہیں کہاکہ آپ صوبائی حکومت کے قانونی معاملات دیکھنے والے شعبے، ایڈووکیٹ جنرل اور نیب کے لیگل ایڈوائزر سے پوچھیں۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ چین نے افریقی ملک پاپا نیو گنی اور سری لنکا میں ایک پورٹ قبضہ کیا۔ یہ افریقہ اور سری لنکا نہیں۔ ہم یہاں کسی کو توسیع پسندانہ منصوبوں کی اجازت نہیں دینگے۔ گوادر بلوچوں کا ملکیت ہے اور رہے گا۔
کسی نے گوادر میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنا ہے وہ کریں لیکن ہم بلوچستان کے حقیقی باشندوں کے علاوہ گوادر میں کسی کو ووٹ کا حق نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی منصوبہ بندی سے باہر سے لوگوں کو لاکر گوادر میں آبادکاری کی جارہی ہیں جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ڈیموگرافی میں تبدیلی ہمارے لئے خودکشی کے مترادف ہوگا۔
سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض لیکر چین اور چین سے قرض لیکر آئی ایم ایف کا قرض اگرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضے پر شرح سود دو فیصد ہے اور چین سے قرض 14 فیصد پرمل رہا ہے۔ حکومت کیا کررہی ہے۔
ڈالر کہاں پہنچ گیا۔ ہم سے افغانی اور بھارتی کرنسی زیادہ مستحکم ہے۔ ایران نے کئی دہائیوں سے پابندیوں کے باوجود اپنی کرنسی کو مستحکم رکا ہوا ہے کیونکہ حکومت مستحکم ہے اور وہاں انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہورہی۔انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ سی پیک میں یہ شق بھی شامل ہے جن ممالک کا انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہوگی وہ سی پیک کا حصہ نہیں بنیں گے۔
نواب رئیسانی نے کہا کہ بین الاقوامی سیاسی حالت کے پی نظر ہمیں اپنی خارجہ پالسی تبدیل کرکے ہمسائیہ ممالک سے بہتر تعلقات اپنانے ہوں گے۔اس کے بغیر ملکی حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔مہاجرین ہمارے بھائی ہیں ان کی شہریت قبول نہیں۔ اپنی سرزمین میں انہیں حصہ نہیں دے سکتے۔
افغان مہاجرین کو شہریت دینے سے ہمارے تشخص کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ 1940 ء کی قرارداد کو بنیاد بناکر ملک میں ایک نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دے۔عوام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بغیر موجودہ بحرانوں سے نکلنا ممکن نہیں۔
عمران خان آٹھ بھیسنیں اور اسی گاڑیاں بیچنے کی بجائے ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں مرتب کرتے تو ملکی صورتحال اس نہج پر نہیں پہنچتے۔ملک کو دیوالیہ بنانے میں عمران خان ہر اول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے رہنماء4 منظور بلوچ نے کہا کہ انتخابات میں مستونگ اور وڈھ کی عوام نے ثابت کردیا ہے کہ ہم اختر مینگل کے چھ نکات اور بی این پی کے پروگرام کے ساتھ ہیں۔
بی این پی کی قیادت ہر سطح پر بلوچستان کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں غیر جمہوری جماعتوں کی سرپرستی اس لئے کی جارہی ہے تاکہ حقیقی نمائندوں کا راستہ روکا جاسکا۔انتخابات میں باہر سے آنے والوں کو مسلط کیا گیا۔
اگر صحیح معنوں میں انتخابات ہوں تو مسلط کئے گئے کونسلر کا الیکشن بھی جیت نہیں سکتے۔ اگر طاقتور قوتیں چاہتی ہیں کہ بلوچستان پرامن ہوں اور مسائل حل ہوں تو حقیقی نمائندوں کا راستہ نہ روکیں کیونکہ بلوچستان کے عوام اپنے حقیقی نمائندوں کے ساتھ ہیں۔
اس موقع پر سکندر ملازئی نے کہاکہ وہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑرہے تھے مگر نواب صاحب کی بلوچستان کے عوام، ساحل و وسائل ، سی پیک اور سیندک پر واضح مؤقف اور سوچ و فکر کو دیکھتے ہوئے دستبردار ہوئے۔اس وقت بلوچستان کو حقیقی نمائندوں کی ضرورت ہے۔
بلوچستان میں حکومت نہیں چوں چوں کا مربہ ہے ، بلوچستان میں مالی بحران کی وجہ فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی ہے ، نواب رئیسانی
![]()
وقتِ اشاعت : October 16 – 2018