نیا سال کا تحفہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، حکومت کی بے حسی

Posted by & filed under اداریہ.

نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا تحفہ عوام کوپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دیا گیا ۔ اس کا خدشہ پہلے سے موجود تھا پیشگی تجزیے میں ہی اس کا ذکر کیا گیا تھا کہ ہماری معاشی پالیسی کی سمت درست بالکل ہی نہیں ہے۔

2021ء الوداع،نئے سال میں کیا تبدیلی آئے گی؟

Posted by & filed under اداریہ.

2021ء بہت سی یادیں ،لمحات،واقعات، سانحات لے کر رخصت ہوگیا۔ بلوچستان کی بات کی جائے تو یقینا صوبے کے مرکزی سیاستدانوں سے لیکر دیگر اہم شخصیات چلی گئیں جو کہ بڑے صدمے سے کم نہیں جن کا کردار بلوچستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے باب میں لکھا جائے گا۔ سردار عطاء اللہ خان مینگل، میرحاصل خان بزنجو، لالاعثمان کاکڑجیسے زیرک سیاستدانوں نے ایک طویل جدوجہد بلوچستان کے حقوق کیلئے کی ۔بہرحال کسی کے نظریہ سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر اپنے بساط کے مطابق جدوجہد میں سبھی نے حصہ ڈالا۔

ریکوڈک اِن کیمرہ اجلاس، کمپنی کے شرائط، بلوچستان کے حصے میں کیا آئے گا؟

Posted by & filed under اہم خبریں.

نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت 2008ء سے 2013 میں مائننگ کا لائسنس نہ ملنے پر ٹی سی سی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا جن میں سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انسویٹمنٹ ڈسپیوٹس (ایکسڈ) نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کو مجموعی طور چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے حکومت پاکستان چھ ارب ڈالر کے جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ٹھیتیان کاپر کمپنی کے دو شراکت داروں میں سے ایک شراکت دار سے دوبارہ معاہدہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو اسی مجوزہ معاہدے کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

منی بجٹ کی تیاری،عوام کیلئے کیا پیکج ہوگا؟

Posted by & filed under اداریہ.

حکومت نے منی بجٹ لانے کی تیاری کرلی ہے اب اس میں یہ دعوے سامنے آرہے ہیں کہ عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالاجائے گا اور نئے ٹیکسز اس میںنہیںہونگے ۔گوکہ ریلیف دینے کا جو مسئلہ ہے وہ ابھی بھی دعوؤں کے طورپر سامنے آرہاہے کیونکہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران ملک میں مہنگائی نے تاریخی ریکارڈ توڑے ہیں جس میں اہم عنصر ناقص معاشی پالیسی ہے اور متعدد بار وزیر خزانہ کی تبدیلی اس کا ثبوت ہے کسی ایک فرد کو منصب پر رہ کر مکمل ذمہ داری سے کام نہیں لیا گیا یا پھر وہ اس کے اہل کے نہیں تھے۔

گیس بحران، سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی کے بیرون ملک سیرسپاٹے

Posted by & filed under اداریہ.

عوام کے مسائل کا حل کو نکالے گا؟ کون ان کی داد رسی کرے گا؟ کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں؟احتجاج کریں؟شاہراہیں بلاک کریں؟ انتشاری کیفیت پیدا ہوجائے؟ نہ جانے ملک کے اہم محکموں کے اندر بڑے ذمہ داران وآفیسران عوام کو اپنا غلام کیوں سمجھتے ہیں اورعوامی نوعیت کے مسائل کو حل کرنے میں انتہائی غیر سنجیدگی کامظاہرہ کیوں کرتے ہیں۔ عوام کے ٹیکسز سے بھاری تنخواہ وصول کرنے والے آفیسران کو عوامی معاملات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے اگر محکموں کے اندر آفیسران ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے تو شاید بعض حد تک ملک کے اندر موجود بحرانات اور مسائل حل ہوتے اور عوام ہر معاملے پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور نہ ہوتے مگر انہیں اس قدر ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد کا معاملہ ہوجاتا ہے۔ عوام کو اشتعال میں لانے کے ذمہ داران محکموں کے اندر بیٹھے آفیسران ہی ہیں

مہنگائی کی صورتحال،وزراء کے اعترافات، تردیدیں، عوام کنفیوژن کاشکار

Posted by & filed under اداریہ.

وفاقی وزارت قومی صحت نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران تسلسل کے ساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔یہ اعتراف وفاقی وزارت قومی صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تحریری جواب میں کیا گیا ہے۔وفاقی وزارت قومی صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ 2018 میں ادویات کی قیمتوں میں 2.7 سے 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔

انتہا پسندانہ سوچ تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتاہے

Posted by & filed under اداریہ.

دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں انتہاء پسندی کی قسم کی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ برابری کی بنیاد پر بھائی چارگی کے ساتھ سب زندگی گزارتے ہیں۔ تمام اقوام، مذاہب، فرقوں کو سیاسی، معاشی اور عبادات کے حوالے سے آزادی حاصل ہے انسان برابرہیں کوئی کسی سے بالاتر نہیں ہے مگر بدقسمتی سے بعض ممالک میں انتہا پسندی کے رجحان میںاضافہ دیکھنے کوملا ہے تیسری دنیا کے ممالک سمیت مغرب میں بھی انتہاء پسندانہ واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

نواز شریف کی آمد کی بازگشت، پس پردہ رابطوں میں کامیابی کے اشارے

Posted by & filed under اداریہ.

سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کی حالیہ ویڈیو جس میں وہ بہت جلد پاکستان آنے کاذکر کرر ہے ہیںاس کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے ، بات صرف نواز شریف تک محدودنہیں بلکہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی ایک عوامی اجتماع کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بہت جلد وہ لندن جاکر نواز شریف کو ساتھ لائینگے جبکہ مریم نواز بھی اس کا اشارہ دے چکی ہیں ۔اب مختلف آراء سامنے آرہی ہیں کہ یہ ن لیگ کی جانب سے سیاسی دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے اور کچھ حلقے اسے بیک ڈور بات چیت قرار دے رہے ہیں

بلوچستان میں شدیدسردی، گیس ناپید، ہائیکورٹ کا بہترین فیصلہ

Posted by & filed under اداریہ.

بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں سے گیس دہائیوں سے نکل رہی ہے مگر آج تک صوبے کے بیشتر علاقے اس گیس سے محروم ہیں اورچند علاقے جہاں خوش قسمتی سے گیس کی سہولت موجود ہے لیکن سردی کی آمد کے ساتھ ہی وہ بھی ناپید ہوجاتی ہے، گیس لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر کی کمی کا مسئلہ سراٹھاتا ہے۔ صارفین کو یہ مسائل عرصہ دراز سے درپیش ہیں مگر کبھی بھی سوئی سدرن گیس کمپنی کے آفیسران نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ ہمیشہ صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا ہے، کبھی میٹرز اتارے جاتے ہیں کبھی بھاری بھر کم بلز بھیجے جاتے ہیں جبکہ گیس کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہرحال گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے صارفین کو بلوں میں پی یو جی /سلو میٹر چارجز بھیجنے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض شک کی بنیاد پر کسی کو سزاوار ٹھہرانا خلاف قانون اقدام ہے۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے سینئر قانون دان سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے موقع پر پی یو جی / سلو میٹر چارجز سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا۔عدالت کا کہنا ہے کہ کس طرح کسی صارف کو شک کی بنیاد پر پی یو جی / سلو میٹر چارجز اور پی یو جی / جی ایس ٹی چارجز بھیجے جاسکتے ہیں، یہ آئین کے آرٹیکل 8، 9 اور 25 سے متصادم ہے جو بنیادی انسانی حقوق و دیگر سے متعلق ہیں۔عدالت عالیہ نے ایڈیشنل ڈپازٹ چارجز سے متعلق قرار دیا کہ اگر کسی صارف کو اس سلسلے میں شکایت ہے تو وہ کنزیومر کورٹ سے رجوع کرے، مجسٹریٹس کی تمام عدالتیں کنزیومر کورٹس ہی ہیں۔بلوچستان ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کسی بھی صارف کا میٹر اتارنے سے قبل صارف کو نوٹس جاری کیا جائے، اگر صارف کی جانب سے 15دن تک نوٹس کا جواب نہ دیا جائے تو پھر متعلقہ تھانے سے مدد لے کر صارف کی موجودگی میں میٹر اُتارا جائے۔عدالت نے پریشر ریگولیشن اسٹیشنز سے متعلق مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایات جاری کیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ سے پشین تک 160 پریشر ریگولیشن اسٹیشنز (پی آر ایس) ہیں جبکہ زیارت تک 72 پی آر ایس اور قلات و مستونگ تک پی آر ایس کی تعداد درجنوں میں ہے، جہاں لوگ اپنے علاقوں کو گیس پریشر کی بہتری کیلئے دوسرے صارفین کے گیس سپلائی کو بند کردیتے ہیں۔جس پر عدالت نے کمپنی حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس پریکٹس کو روکے اور اگر اس سلسلے میں کمپنی حکام کو مشکلات ہیں تو وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور لیویز سے اس سلسلے میں مدد لے تاکہ کسی صارف کی حق تلفی نہ ہو۔سماعت کے دوران سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے ضلع زیارت میں گیس پریشر سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ زیارت کے 6 ہزار سے زائد صارفین کو گیس کی فراہمی کیلئے کچلاک سے 16 قطر کے پائپ لائن سے گیس کی سپلائی شروع کی گئی لیکن راستے میں آنے والے 70 سے زائد علاقوں میں پریشر ریگولیشن اسٹیشنز و دیگر کے ذریعے زیارت کو گیس پریشر متاثر ہوجاتی ہے، اس لئے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ ضلعی انتظامیہ سے پی آر ایس سینٹرز کے ذریعے گیس پریشر میں کمی اور اس کی بندش کی غیر قانونی اقدام کی روک تھام کیلئے پولیس اور لیویز اہلکاروں کی تعیناتی کی استدعا کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیس پریشر کے مسئلے سے زیارت میں جونیپر درختوں کو خطرہ ہے، گیس کمپنی کو زیارت کے پہاڑی علاقوں تک گیس پہنچانے میں مشکل پیش آرہی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے زیارت وادی کیلئے خصوصی طور پر 8 انچ قطر کے 21 کلو میٹر پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے زیارت میں گیس پریشر کا مسئلہ حل ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گیس اور بجلی کے مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت ووکیشن جج بھی کرے گا، بعد ازاں آئینی درخواست کی سماعت 13جنوری تک ملتوی کردی گئی۔بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے اس مسئلے پر فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہے امید ہے کہ سوئی سدرن گیس اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے صارفین کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے انہیں شدیدسردی میں سہولیات فراہم کرے گی۔ دوسری جانب گیس چوری کا مسئلہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر بلاتفریق کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ گیس چوروں کی وجہ سے غریب صارفین کو عذاب اٹھانا پڑتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داری نبھائیں جبکہ شہری کرپٹ ذہنیت سے نکل کر ایمانداری کے ساتھ گیس میٹرکا استعمال کریں تاکہ یہ مسائل دوبارہ سرنہ اٹھائیں۔ چونکہ گیس چوری کے متعدد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہوئی ہے یہ قابل ستائش عمل ہے مگر گیس کی فراہمی سوئی سدرن کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کرے۔

سردجنگ سے لے کر طالبان کی شکست تک، پاکستان کے نقصانات کاذمہ دارکون؟

Posted by & filed under اداریہ.

ملک میں بڑے اور اہم فیصلے قومی بیانیہ کے مطابق ہی کئے جاتے ہیں چونکہ حکمران اپنے دور کے قومی فیصلوں پر ریاست کو پورا داؤ پر نہیں لگاتا۔ یہاں بات سرد جنگ کی ہورہی ہے جب سوویت یونین نے افغانستان میں پڑاؤ ڈالا اور پیش قدمی کرتے یہاں تک پہنچا سینٹرل ایشیاء پر مکمل کنٹرول کے بعد یہاں کے خطے میں پنجہ گاڑھ کرریاستوں کو سوویت یونین میں ضم کرنا اس کا بنیادی مقصد تھا اور اس نظریہ سے تعلق رکھنے والے افغان اور پاکستان کے سیاستدانوں نے سوویت یونین کو خوش آمدید سمیت ان کے اس نظریہ کی پرچار اور عوامی سطح پر باقاعدہ اجتماعات منعقد کئے ،ان میں بلوچ،پختون قوم پرست سمیت پنجاب، سندھ، کراچی کے بائیں بازو کے سیاستدان، دانشور، ادیب، شعراء سب شامل تھے۔بہرحال بائیں بازو کے نظریہ کی سیاست اور اس سے ریاستوں کی تشکیل کے مقاصد،یہ ایک بہت بڑی بحث ہے جسے چند لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا مگر یہ ضرور ہے کہ بنیادی مقصد برابری اور سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل دنیا سے خاتمہ بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والوں کا اہم جز تھا۔ بائیں بازو کے سیاسی اثرات افغانستان اور پاکستان پر پڑرہے تھے ڈاکٹرنجیب اللہ افغانستان میں مرکزی کردار تھے جن کے مدمقابل دائیں بازو اور اسلامی نظریات رکھنے والے تھے سوویت یونین کی آمد سے سب سے زیادہ خطرہ امریکہ اور اس کے ساتھ جڑے سامراجی قوتوں کودرپیش تھا کہ کس طرح سے اس خطے سے سوویت یونین کو شکست فاش سے دوچار کرکے سرمایہ دارانہ نظام کو بچایا جائے جس کیلئے منظم پلاننگ اور سرمایہ کاری کا آغاز کیا گیااور باقاعدہ اس کے بعد ایک بہت بڑی اتحاد تشکیل دی گئی۔ افغانستان میں ڈاکٹرنجیب اللہ کے نظریات مخالفین کو مکمل مسلح اور طاقت کے ذریعے بھرپورلیس کیا گیا ہر طرح کی سپورٹ انہیں دی گئی پھر افغانستان میں ڈاکٹرنجیب اللہ کے لیے مزاحمت بڑھ گئی یہاں تک کہ افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد جو سوویت یونین کے خلاف لڑرہے تھے انہیں مجبوراََ ڈاکٹرنجیب اللہ نے مزاحمت ترک کرنے کا کہا چونکہ حالات ان کے سامنے ہی تبدیل ہوتے جارہے تھے جبکہ پاکستان بھی امریکہ کے ساتھ اتحادی کے طورپر اس جنگ میں شریک ہوچکا تھا اور جو سرمایہ کاری ڈالرکے ذریعے کی گئی اس کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔بہرحال یہ تمام معاملات جو چل رہے تھے ریاستوں نے اپنے مفادات اور مقاصد کے لیے امریکہ کا ساتھ دیااور بلآخر سوویت یونین شکست سے دوچار ہوگئی، ڈاکٹرنجیب اللہ کو قتل کردیا گیاپھر افغانستان میں ریاستی معاملات اسلامی نظریات سے تعلق رکھنے والی جماعت کے پاس گئے۔ پاکستان میں بھی اس شکست کاجشن منایاگیا اور مولوی کی حمایت یہاں کی مذہبی جماعتیں کرتی رہیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے یہ فرمایا کہ افغان وار سے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اس وقت کے حکمرانوں نے ڈالر کے عوض پوری ریاست کو داؤ پر لگادیا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا، اب اس دور میں ضیاء الحق اور آخر میں مشرف تک یہ معاملات چل رہے تھے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس دوران ان حکمرانوں نے انفرادی حیثیت سے ریاستی فیصلے کئے اور قومی بیانیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دیا،پوچھنا تو اسی دورکے حکمرانوں سے ہے جو اس عمل میں شریک تھے ان سے بھی یہ دریافت کیا جائے کہ یہ جنگ کیوں لڑی گئی اور ان کے مفادات کیا تھے ڈالرز کس کے حصے میں آئے ریاست کا دیوالیہ ہوگیا پھر اس جنگ کا فائدہ چند مخصوص طبقات نے اٹھایا۔کس سے یہ سوالات پوچھیں جائینگے اور کس کو ذمہ دار ٹہرایا جائے گا؟