پاکستان میں عوام دوست بجٹ کا ذکر دہائیوں سے سنتے آرہے ہیں اور ہر حکومت اپنے بجٹ کو عوامی بجٹ کا نام ہی دیتی ہے صرف موجودہ نہیں بلکہ ماضی کی حکومتوں نے بھی عوام کو اسی خوش فہمی میں رکھا کہ ہمارا وژن عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانا ہے تنخواہ دار سے لیکر مزدور طبقے کیلئے ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے اسی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بجٹ بناکر عوام کو بہت بڑی خوشخبری دینگے ان خوشخبریوں کا سلسلہ چلتا آرہا ہے مگر عوام کے یہاں صف ماتم ہی بچھا رہتا ہے۔
بلوچستان اپنے محل وقوع اور سرحدات کی وجہ سے بہت ہی کم بحث کا حصہ بنتا ہے ہاں البتہ کوئی بڑاسانحہ رونما ہوجائے تو گھنٹوں تک اس پر بات کی جاتی ہے مگر اس کے اصل محرکات اور وجوہات کی کھوج اور گہرائی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کیونکر بلوچستان میں اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور اس کے وجوہات اور مقاصد کیا ہیں۔ حسب روایت پرانی باتوں کو دہراکر محرکات پر کھل کر اظہار نہیں کیا جاتا یا پھر معلومات کے فقدان کے باعث سطحی بات زیادہ کی جاتی ہے۔
بلوچستان کاسب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ جتنے ممالک نے بھی یہاں سرمایہ کاری کی انہوں نے بلوچستان کو ایک کالونی پالیسی کی طرز پر چلایا چند منصوبوں کے عیوض بلوچستان سے اربوں ڈالر کا منافع بھرپور طریقے سے کمایا اور اس کے ساتھ قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے باقاعدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے بڑھ کر رقم بٹورنے کی کوشش کی۔اس کی بڑی مثالیں ہمارے یہاں کے میگا منصوبے ہیں جن کا حساب کتاب کبھی کسی وفاقی وصوبائی حکومتوں نے نہیں لیا خاص کر وفاقی حکومتوں کی ترجیحات میں اپنا منافع اور اپنے ساتھیوں کی اس میں شراکت داری رہی ہے۔
ملک میں بجلی کا بحران شدید تر ہوگیا ہے جس کے باعث شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کئی کئی گھنٹوں تک جا پہنچا ہے۔ تربیلا ڈیم میں مٹی آجانے سے بجلی کی پیداواربند ہوگئی جس کی وجہ سے مشینری کوبھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔تربیلا سے بجلی کی پیداوار میں کمی پر نیپرا نے اضافی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیا ہے ، تربیلا سے بجلی کی پیداوار آنے میں وقت لگے گا اور بجلی کے شارٹ فال کے باعث لاہور سمیت پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عروج پر پہنچ گئی ہے، لاہور کی گنجان آبادیوں کو بجلی کی بندش کا زیادہ سامنا ہے۔
خضدار کے تحصیل وڈھ میں31مئی کو سرعام بازار میں ایک ہندو تاجر کے بھانجے اشوک کمار کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا جس کے بعد یہ باتیں سامنے آئیں کہ یہ واقعہ بھتہ نہ دینے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ اسی طرح 9ماہ قبل ایک ہندو تاجر کو بھی وڈھ کے بازار میں قتل کیا گیا تھا مگر اصل محرکات کیا ہیں ۔
6جون کو بحریہ ٹاؤن میںرونما ہونے والے افسوسناک واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پُرتشدد واقعات کی کسی طرح بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کوئی بھی قانون کوہاتھ میں لیتے ہوئے لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچائے ،اپنے حقوق کیلئے پُرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی وقانونی حق ہے ۔ گزشتہ 8سالوں سے بحریہ ٹاؤن کی قبضہ گیریت کیخلاف متاثرین سراپااحتجاج ہیں اور ان کے ساتھ سندھی اور بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور وکلاء بھی شامل ہیں جنہوں نے ہر فورم پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کاٹھور سے لیکر نوری آبادتک زمینوں پر قبضہ کی سازش کیخلاف نہ صرف احتجاج کیا بلکہ تمام تر قانونی راستے بھی اپنائے۔
ایف ایس او راڈینٹ نامی بحری جہازکامعمہ اب تک حل نہیں ہوسکا ہے محکمہ ماحولیات کی متضاد رپورٹ نے بہت سارے سوالات کھڑے کردیئے ہیں، سب سے پہلے اس انڈونیشین جہاز کا ذکر انتہائی ضروری ہے کہ کن ممالک سے ہوتا ہوا یہ جہاز بلوچستان کے سمندری علاقے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ تک پہنچا اور کیونکر دیگر ممالک نے اس جہاز کو اپنے ساحل پرلنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی۔ مال بردار جہاز کی لمبائی229میٹر ہے یہ انڈونیشیاء کے ایک نجی کمپنی کی ملکیت تھی، اسکی عمر 38سال بتائی جاتی ہے اس جہاز کے مالک نے ا ربوں روپے کا منافع کمانے کے بعد اسے بنگلہ دیش کے ایک نجی شپ بریکر یارڈ کمپنی کو فروخت کردیا،جہاز جب بنگلہ دیش کے ساحل پر پہنچاتو انٹر پول اور عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے بنگلہ دیش کی حکومت کو اطلاع دی گئی کہ اسکے توڑنے سے ماحولیات میں تباہی مچ جائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کا خطرہ بالکل ٹل گیا ہے ، بلوچستان عوامی پارٹی کے بیشتر اراکین وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ ہیں باپ کے دوارکان کی ناراضگی کو بھی ختم کرنے کے حوالے سے سینئر ارکان سرگرم ہیں ، بلوچستان عوامی پارٹی کی ایک اہم شخصیت کے مطابق چندماہ قبل یقینا معاملات خراب تھے اور سینئر ارکان کے شکوے وزیراعلیٰ بلوچستان سے تھے کہ انہیں بعض معاملات پر اعتماد میں نہیں لیاجاتابلکہ تمام تر حکومتی امور پر مشاورت چند مشیران سے کی جارہی تھی اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے قریب چند سینئر ارکان نے صورتحال سے انہیںآگاہ کیاتھا کہ اگر اپنے ارکان کی ناراضگی کو نظرانداز کرینگے ۔
عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 84 اموات اور 1 ہزار 923 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 21 ہزار 189 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 30 ہزار 511 ہے۔ملک بھرمیں ایکٹو کیسز کی تعداد 48 ہزار 937 ہے اور 8 لاکھ 60 ہزار 385 افراد کورونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں.
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہمارے یہاں جمہوریت اور پارلیمان کی مضبوطی میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک مخصوص اشرافیہ رہی ہے جو آج بھی سیاسی میدان میں موجود ہے جو جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا راگ الاپ کر تھکتا نہیں اور یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ عام لوگوں کو اس کا علم نہیں کہ کس طرح سے اس اشرافیہ نے چور دروازے کا سہارہ لیتے ہوئے سیاست کے میدان میں یکدم سے نمودار ہوا اور راتوں رات سیاستدان بننے کے ساتھ حکمران بن گئے۔