بلوچستان حکومت کی جانب سے مسلسل کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات اور انتظامات کا جائزہ لیاجارہا ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان مسلسل خود اس معاملے کی نگرانی کررہے ہیں۔ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکنہ اقدامات کو یقینی بنایاجارہا ہے۔یقینا یہ ایک مشکل وقت ہے اور سب نے مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں کرونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد اٹھائیس ہو گئی ہے۔ملک بھر میں دو ہفتے کیلئے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے جب کہ گلگت بلتستان میں بھی تین کیسز سامنے آئے ہیں۔شادی ہالز میں تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں اور سینما گھر بھی دو ہفتے کیلئے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں تعلیمی ادارے 30 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کردیا۔کوئٹہ میں صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے کو کھولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ میٹرک کے امتحانات بھی 30 مارچ تک ملتوی کر دئیے گئے ہیں، تمام فیصلوں سے متعلق گورنر بلوچستان سے مشاورت کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ابھی تک کورونا کے بہت کم کیسز سامنے آئے ہیں۔
طالبان نے افغان حکومت کی جانب سے طالبان قیدیوں کی مشروط رہائی کو مسترد کردیا۔افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے افغان صدر کی جانب سے طالبان قیدیوں کی مشروط رہائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی امریکا کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے برخلاف ہے۔ معاہدے میں باضابطہ طور پر یہ بات شامل تھی کہ پہلے 5 ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے اس کے بعد انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوگا۔طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت بھی قیدیوں کی مشروط رہائی پر آمادہ نہیں اور اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے تو یہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کے خلاف ہوگا۔افغان طالبان کا یہ رد عمل صدر اشرف غنی کی جانب سے 1500 افغان طالبان قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ افغان صدر کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ طالبان کے 5ہزار قیدیوں کی رہائی کے پہلے مرحلے میں 1500 قیدیوں کو رہا کیا جارہا ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 2 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں تصدیق شدہ متاثرہ افراد کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق نئے آنے والے کیسز میں سے ایک کا تعلق حیدرآباد اور ایک کا کراچی سے ہے جبکہ سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔کراچی میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 14 ہوچکی ہے جن میں سے ایک مریض صحت یاب ہوکر گھر جاچکا ہے۔
افغان صدر بننے کی دوڑ نے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ میں تنازع پیدا کردیاہے، ملک کا صدر بننے کی ضد میں دونوں رہنماؤں نے علیحدہ علیحدہ حلف اٹھایا۔افغان الیکشن کمیشن نے گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا تھا، تاہم ان کے مخالف عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔اشرف غنی نے صدارتی ہاؤس میں عہدے کا حلف اٹھایا جبکہ عبداللہ عبداللہ نے سپیدار محل میں عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب کے دوران صدارتی محل اور گرد و نواح میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاداورنیٹو چیف سمیت دیگر امریکی حکام نے بھی شرکت کی۔تقریب حلف برداری کے بعد اشرف غنی نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
ملک کو چیلنجز اور بحرانات کا ہمیشہ سامنا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ معاشی بحران اور درپیش چیلنجز کی وجہ بھی سابقہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ مسلسل غلطیوں کے بعد مزید اب ایسی گنجائش نہیں بچتی کہ انہیں دہرایا جائے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں مسلسل نہ صرف روایتی پالیسیوں کو جاری رکھا گیا بلکہ بیشتر ادوار میں کابینہ میں وہی وزراء دکھائی دیتے ہیں۔ایک طرف جہاں موروثی سیاست کی بات کی جاتی ہے مگر سدابہار وزراء کی طرف توجہ ہی نہیں دی جاتی کہ وہی چہرے ہرحکومتی ٹیم کا حصہ بن جاتے ہیں جن کا سیاسی جماعت کے حکومتی ایجنڈے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا صرف وزارت کیلئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کی جاتی ہیں۔اگر اس کلچر کو بڑی سیاسی جماعتیں ختم کریں تو کسی حد تک گورننس میں بہتری آسکتی ہے اور چیلنجز وبحرانات کا صحیح معنوں میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے چونکہ ایسی شخصیات سب کچھ اچھا کا راگ الاپتے ہوئے چاپلوسی کو پروان چڑھاتے ہیں اور جب اقتدار کسی دوسری جماعت کے پاس چلی جاتی ہے تو یہ چہرے پارٹی کی روش کا بہانہ بناتے ہوئے غائب ہوجاتے ہیں۔
ملک میں نظام کی بہتری سے ہی کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں مقامی انتظامیہ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے اس لئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اس کی بنیادی وجہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کرنا اور بحرانات سے نمٹنا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں کیونکہ ایک مخصوص مافیا سرگرم ہوجاتا ہے جس کا مقصد عوام کی چمڑی ادھیڑ کر رکھنا ہوتا ہے حالانکہ جب پیٹرولیم مصنوعات سستی ہوجاتی ہیں تو اشیاء خورد ونوش سمیت کرایوں میں کمی فوری نہیں کی جاتی بلکہ دونوں ہاتھوں سے غریب عوام کو لوٹا جاتا ہے جبکہ مقامی انتظامیہ خواب خرگوش میں مبتلا رہتاہے جس کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ انتظامات پر نظر رکھے اور ہر جگہ اپنی موجودگی کو یقینی بنائے اور گراں فروشوں سمیت ہر قسم کے مافیاز کے خلاف بروقت کارروائی کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
ملک میں جب قوانین پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو انسانی جان ومال غیر محفوظ ہوکر رہ جاتے ہیں ہمارے یہاں بدقسمتی سے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چند مافیاز مدرپدر آزادہوکر چند روپوں کے عوض ملکی قوانین کی نہ صرف خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں کرپشن کوپروان چڑھاتے ہیں۔ ملک میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی مسلسل جاری ہے تو دوسری جانب خستہ عمارتوں میں موجود غریب عوام کو متبادل جگہ فراہم نہ کرنے کی وجہ سے حادثات رونما ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ روز کراچی میں اس کی ایک جھلک دیکھی گئی، کراچی کے علاقے رضویہ سوسائٹی کے قریب گولیمار نمبر 2 میں تین رہائشی عمارتیں گرنے سے 11 افراد جاں بحق اور18 زخمی ہوگئے۔
بلوچستان کے مسائل کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف نعروں، جلسے جلوس اور اپنے انتخابی مہم کیلئے سیاسی جماعتیں استعمال کرتی ہیں جبکہ حقیقی معنوں میں عوام کی محرومیوں کا احساس کسی کو بھی نہیں صرف بلوچستان کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی اس وقت جب کوئی سیاسی جماعت اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اسے بلوچستان ہر جگہ یادآتا ہے اورپھر بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کا ایسا رونا رویا جاتا ہے کہ جیسے انہیں بلوچستان کادرد سونے نہیں دیتا۔