گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔سپریم کورٹ نے ریلوے کی آڈٹ رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کا سارا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بجائے مینول ہے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ریلوے میں کوئی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی، دنیا بلٹ ٹرین چلا کر مزید آگے جا رہی ہے اور ہم آج بھی اٹھارویں صدی کی ریل چلا رہے ہیں۔
Posts By: اداریہ
پاک ایران گیس منصوبہ پھر تعطل کاشکار
امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاک ایران گیس منصوبے پر کام رک گیا ہے۔سینیٹ میں تحریری جواب میں وزارت توانائی نے بتایا کہ امریکا نے ایران پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں جس کی وجہ سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کام رک گیا ہے۔وزارت توانائی کا مزید کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان نے گیس پائپ لائن ترمیمی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کو منصوبہ مکمل کرنے کے لیے مزید 5 سال کا عرصہ دیا گیا ہے۔وزارت توانائی نے بتایا کہ نئے معاہدے کے باوجود منصوبے کی تکمیل امریکی پابندیاں ختم ہونے سے مشروط ہے۔
مہنگائی کا طوفان اور حکومتی دعوے
ملک میں مہنگائی کا تسلسل جاری ہے،ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں چینی 3 روپے 60 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی اور اس کی قیمت 74 روپے 29 پیسے سے بڑھ کر 77 روپے 89 پیسے فی کلو ہوگئی۔محکمہ شماریات نے بتایا کہ ایک سال میں چینی 18 روپے 86 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی، ایک سال قبل چینی کی قیمت 59 روپے 3 پیسے فی کلو تھی۔ ایک سال میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 167 روپے مہنگا ہوا، آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک سال قبل 788 روپے تھی اور اب آٹے کے تھیلے کی قیمت 955 روپے ہوگئی ہے۔
ملک میں کرپشن کی بڑھتی شرح،حکومتوں کی گڈگورننس پر سوالیہ نشان
پاکستان میں کرپشن آج کی بات نہیں بلکہ ماضی کی حکومتوں نے بھی ریکارڈ توڑ کرپشن کئے ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ کاروباری شخصیات کو سیاست میں شراکت دار بنایا گیا تو سیاستدانوں نے ایوان کو صنعت بناکر رکھ دیا جس کے انتہائی منفی اثرات براہ راست ملکی معیشت پر پڑے۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جن قرضوں تلے ملک اس وقت ڈوبا ہوا ہے اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن نہ صرف کی گئی ہے بلکہ اپنے کاروبار کو انہی قرضوں کے ذریعے ہی وسعت دی گئی جس کا خمیازہ آج غریب عوام بھگت رہی ہے۔ بہرحال موجودہ حکومت کیلئے بھی ایک اشارہ ہے کہ کرپشن کو روکنے کیلئے اقرباء پروری اور اپنوں کو نوازنے کی سیاست کو ترک کرتے ہوئے ملک اور عوام کے وسیع تر مفادات کے تحت اقدامات اٹھائے کیونکہ حکومت وقتی ہوتی ہے پھر یہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔
افغان جنگ، خطے کی معیشت پر اثرات
پاکستان میں ماضی کی نسبت امن وامان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے مگر یہ بدامنی کی سب سے بڑی وجہ افغان وار ہے کیونکہ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اوراس کا برائے راست اثر نہ صرف امن وامان بلکہ معیشت پر بھی پڑا ہے بہرحال اب صورتحال مکمل تبدیل ہوگئی ہے مگر افغانستان میں مستقل امن کے بعد ہی خطے میں بہتری آسکتی ہے جس پر پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ بات چیت کے ذریعے ہی مسئلہ کو حل کیاجائے۔
ٹیکس کا دہرامعیار، ملکی معیشت کیلئے نیک شگون نہیں
گیس 214 فیصد تک مہنگی کرنے کی سمری تیار کر لی گئی جبکہ گھریلو صارفین کیلئے میٹررینٹ میں 300 فیصد اضافے کی بھی تجویز پیش کردی گئی ہے جس کے بعد گھریلو صارفین کیلئے میٹر رینٹ20 روپے سے بڑھ کر 80 روپے ہو جائے گی۔پٹرولیم ڈویژن کی سمری میں سوئی سدرن کیلئے 214 فیصد‘ سوئی ناردرن کیلئے 192 فیصد جبکہ اسپیشل کمرشل صارفین کیلئے 245 فیصد تک گیس مہنگی کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اسی طرح نادرن کمرشل کیلئے گیس 221 فیصد‘فرٹیلائزر سیکٹر کیلئے 153 فیصد‘سی این جی سیکٹرز کیلئے 32 فیصد مہنگی کرنے کی سمری تیار کی گئی ہے۔اکنامک کورڈینیشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی تجویز میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم فروری سے کیا جائے۔
ملک بھرمیں آٹے کا بحران، عوام کی مشکلات کم نہ ہوسکی
ملک بھر میں اس وقت آٹے کا بحران پیدا ہوچکا ہے جبکہ بلوچستان میں دیگر صوبوں کی نسبت میں آٹے کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ تھی۔ کوئٹہ شہر میں اس وقت آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 11 سو سے 1120 روپے تک ہو گئی ہے۔کوئٹہ اور بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہوا تھا۔اکتوبر سے پہلے آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 850 روپے تھی لیکن اس کے بعد اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کی ترقی، مضبوط مقامی حکومتوں کاکلیدی کردار
ملک میں حالیہ مسائل میں سب سے بڑی وجہ بلدیاتی اداروں کی غیر فعالی ہے جس کی بنیادی وجہ مقامی حکومتوں کا بااختیار نہ ہوناہے یہ اب ملکی سطح پر مباحث کا حصہ بن چکا ہے جس طرح گزشتہ روز ایک وفاقی وزیر نے صوبوں کی کارکردگی کے متعلق خط لکھا تھا جس میں خاص طور پر ضلعی سطح پر کام نہ ہونے کے معاملے کو اٹھایا تھا جس کا مرکز خاص پنجاب ہی تھا مگریہ مسئلہ سب سے زیادہ بلوچستان کو درپیش ہے۔کیونکہ بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے اور اس کی آبادی وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے لہٰذا یہاں مقامی حکومتوں کی مضبوطی انتہائی ضروری ہے تاکہ نصف پاکستان ترقی کرسکے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری کے دوران مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ کابینہ اجلاس میں دیگر اہم فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔
امریکہ ایران کشیدگی
امریکہ اور ایران کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہیں کیونکہ دونوں ممالک طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کررہے۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک مدِمقابل رہ چکے ہیں مگر حالیہ معاملہ بہت ہی گھمبیر ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد دونوں کے درمیان سخت کشیدگی نے جنم لیاجس سے مشرق وسطیٰ کے امن کو جہاں خطرات لاحق ہوچکے ہیں وہیں پرایران کے پاکستان کے پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے بھی خطے میں امن وامان کے حوالے سے خطرات دیکھے جارہے ہیں جوکہ خطہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ افغان جنگ کے اثرات اب تک موجود ہیں۔
بلوچستان کے عوام کو سستے داموں غذائی اجناس فراہم کی جائے
رواں برس بھی گندم کی فصل تیار ہونے سے قبل ملک بھر میں آٹے کی قیمت بڑھ گئی جبکہ کے پی کے میں آٹے کا بحران بڑھتا جارہا ہے باوجود اس کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سستا آٹا تقسیم کیا گیا مگر بحران کم نہ ہوسکا۔مقامی انتظامیہ کی جانب سے وعدے کے باوجود پشاورمیں سستے آٹے کے ٹرک نہیں پہنچائے جا سکے۔