جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرکے پلان بی کا اعلان کیا گیا جس میں شاہراہوں کی بندش شامل ہے، مولانا فضل الرحمان نے نومبر میں اسلام آباد میں دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا جس میں اہم مطالبہ وزیراعظم کا استعفیٰ تھا مگر اس معاملے میں اپوزیشن میں واضح طور پر اختلافات دکھائی دے رہی تھیں اور اس کا مظاہرہ دھرنے کے دوران دیکھنے کو ملا جو کہ اپوزیشن کی دوبڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی دھرنے میں عدم شرکت تھی مگربارہا جے یوآئی ف کی قیادت کی جانب سے یہ کہاجارہا تھا کہ رہبر کمیٹی میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا البتہ دونوں جماعتوں نے نومبر میں دھرنا نہ کرنے کی بات کی تھی اورتاریخ میں مزید توسیع کاکہاجارہا تھا مگر مولانا فضل الرحمان بضد رہے اور انہوں نے نومبر میں ہی دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا اور وزیراعظم کے مستعفی ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کی بات کی، جس کا پہلے سے ہی تجزیہ کیاجارہا تھا کہ دھرنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی وزیراعظم کا استعفیٰ ہاتھ آئے گا اور یہی ہوا۔
میاں محمد نواز شریف کی خرابی صحت پر سب ہی متفق دکھائی دیتے ہیں مگر نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل ہے جس کی وجہ سے نواز شریف کی بیرون ملک علاج تاخیر کا شکار ہورہی ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) سے نکالنے کیلئے دائر کی گئی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں عدالت کا بینچ درخواست کی سماعت کرے گا۔مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر شہبازشریف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نوازشریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے۔
حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر نواز شریف کو بیرون ملک علاج کرانے کے لیے 4 ہفتوں کی اجازت دی گئی ہے تاہم ان کی صحت کو دیکھتے ہوئے بعد میں مزید وقت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کے لیے 7 ارب روپے کے گارنٹی بانڈز جمع کرانے ہوں گے۔ کابینہ کو ہم نے بتایا ہے کہ نواز شریف کی صحت انتہائی تشویشناک ہے۔
کراچی، لاہور، پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے شہریوں کو پریشان کردیا۔کراچی میں ایک کلوآلو 40 روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ ایک کلو ٹماٹر 200 روپے سے 320 تک میں فروخت کیا جارہا ہے۔لاہورمیں ٹماٹر 175 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے،فیصل آباد میں فی کلوٹماٹر240 روپے اور آلو80 روپے جبکہ ملتان میں فی کلوٹماٹر 250روپے اور آلو 80 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
پاکستان میں سکھوں کے 2 مقدس ترین مقامات ہیں، پہلا جنم استھان ننکانہ صاحب،جہاں سکھ مذہب کے بانی باباگرونانک دیو جی کی پیدائش ہوئی اور دوسرا گوردوارہ دربار صاحب کرتاپور، جہاں باباگرونانک نے اپنی عمر کے آخری 18سال گزارے اور یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبر بنائی گئی ہے۔گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرامقدس ترین مقام لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اورپاک بھارت سرحد سے صرف 4کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے،گوردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سکھ مت کے بانی باباگرونانک دیو جی نے اپنی عمر کے آخری 18سال گاؤں کوٹھے پنڈ میں گزارے اور 22 ستمبر 1539ء کو یہیں وفات پائے، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبربنائی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمدنواز شریف کی صحت کے حوالے سے بہتری کی رپورٹس کم جبکہ خراب صحت کے حوالے سے خود ڈاکٹرز تصدیق کررہے ہیں،ان کے گھر میں ہی انتہائی نگہداشت وارڈ بنایا گیا ہے جہاں پر ان کا علاج ہوسکے۔پہلے یہ خبر باز گشت کررہی تھی کہ میاں محمد نواز شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں اور اپنا علاج ملک کے اندر انہی حالات میں کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ یہ باتیں بھی سنائی دے رہی تھیں کہ نوازشریف نے جیل سے باہرآنے کیلئے بیٹی کی رہائی کی بھی بات کی تھی جنہیں بعض حلقوں میں ڈیل کا نام دیا جارہا تھا جبکہ سنجیدہ حلقے اس پر شدید تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ماضی میں سیاسی غلطیوں اور انتقام کی وجہ سے سیاسی شخصیات کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا گیا اور اب نواز شریف کی صحت ابتر ہے جس پر سیاست کی بجائے اس کی زندگی پر انسانی بنیادوں پر توجہ دینی چاہئے اور ایسے موقع پر ڈیل کی بات کرنا زیادتی ہوگی۔
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے احتجاجی دھرنا جاری ہے تعجب کی بات ہے کہ اب اس احتجاج کا پورا محور ومرکز اپوزیشن جماعتوں سے ہٹ کر صرف مولانا فضل الرحمان اور اس کی جماعت بنی ہوئی ہے، یہ تو واضح ہے کہ احتجاجی دھرنے سے وزیراعظم مستعفی نہیں ہونگے اور نہ ہی اس سے حکومت گھر چلی جائے گی، ماضی کی مثالیں سامنے ہیں کہ پی ٹی آئی کے 126 روزہ دھرنے کے باوجود مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ مدت پوری کی گئی اور یہ جمہوریت کیلئے ایک اچھی بات ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں جمہوری تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے بحرانات کا سامناکرنا پڑا ہے۔
سیاست کامقصد معاشرے میں بہتری لانا ہے جس کے اپنے اصول ہیں البتہ سیاسی فیصلوں میں ہمیشہ عوامی خواہشات اور ترجیحات کو اہمیت دینا ضروری اور فرض سمجھا جاتا ہے مگر بعض اوقات ایسے سیاسی فیصلے اور راستے اختیارکئے جاتے ہیں جو عوامی خواہشات کے برعکس ہوتے ہیں کیونکہ ان سے سیاسی اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں سیاسی مقاصد کو ہمیشہ گروہی بنیاد پرترجیح دی گئی اس لئے ہر وقت سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی اور فیصلوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ملک کی ترقی بغیر استحکام کے ممکن نہیں پاکستان اس وقت بیرونی چیلنجز کا مقابلہ تو کررہا ہے مگر دوسری جانب سیاسی کشیدگی کے باعث اندرونی چیلنجز بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جو کسی صورت ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں اصلاحات پر کام کریں مگر بدقسمتی سے اس جانب کبھی بھی سیاسی جماعتوں نے خاص توجہ مرکوز نہیں کی جس کی نظیر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دیکھنے کو ملتی ہے۔
حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنے کا فیصلہ جب مولانافضل الرحمان کی جانب سے کیا گیا تو اس دوران بارہا جے یوآئی ف کی جانب سے خاص کر یہی بات دہرائی گئی کہ یہ فیصلہ رہبرکمیٹی میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بعد کیا گیا مگر اس حوالے سے ملک کی دوبڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے عملی طور پر کھل کر شرکت کا اظہار نہیں کیا اور جب آزادی مارچ شاہراہوں سے گزری تو محض ان کی جانب سے استقبالیہ چھوٹے کیمپ ہی لگائے گئے جبکہ دونوں جماعتوں کے قائدین بھی کسی مقام پر دکھائی نہیں دیئے البتہ اسلام آباد میں جب مارچ پہنچی تب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین آئے، اپنی شرکت ظاہر کی مگر اس کے بعد وہ مسلسل مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کنٹینر پر دکھائی نہیں دیئے۔