بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو دی جانے والی نیم خودمختاری کی حیثیت اور خصوصی درجے کے خاتمے کے اعلان کے بعد وادی مسلسل دوسرے دن بھی باقی پوری دنیا سے کٹی رہی۔اتوار کی شب سے کشمیر میں ٹیلیفون، موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ تاحال بند ہیں۔ وادی میں پیر سے بند کیے جانے والے تمام تعلیمی ادارے اور بیشتر دفاتر منگل کو بھی بند رہے اور پوری وادی انڈین سکیورٹی فورسز کے زبردست حفاظتی حصار میں ہے۔
پاک بھارت تعلقات جب سے عالمی سطح پر ایک بار پھر اجاگر ہوئے ہےں تو بھارت نے بجائے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے جارحیت کا راستہ اپنایا ہے ۔ پاکستان نے اپنی تمام ترکوششوں کو جاری رکھا ہےَ
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی ۔ اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کےلئے مطلوبہ اکثریت ثابت نہ کرسکی ۔ چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کےلئے پیش کی جانے والی قرار داد پر ہونے والی خفیہ ووٹنگ کے نتیجے میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف 50ووٹ پڑے جبکہ اس کے حق میں 45ووٹ آئے اور5ووٹ مسترد ہوئے ۔
چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحاریک ناکام ہو گئیں۔صادق سنجرانی کواپوزیشن کے 9 ووٹ ملنے سے متحدہ حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔قرارداد،پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء راجہ ظفرالحق نے پیش کی اور بیرسٹر سیف نے بطور پریزائیڈنگ افسر اپنے فرائض سرانجام دیئے۔
کوئٹہ کے مصروف علاقے میں بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دھماکا پیر کو مغرب کے وقت کوئٹہ کے مصروف ترین علاقے باچا خان چوک پر سٹی پولیس تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
ملک میں اقتدار کی رسہ کشی نے سیاست پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں، اقتدار میں کوئی بھی جماعت آجائے اس کی سب سے اہم ذمہ داری ملکی معیشت کو بہترکرنا، عوام کوروزگارکی فراہمی کو یقینی بنانا، عوام کے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا، عوام کوتمام تر بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانا شامل ہے جبکہ ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دیناجو ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہو اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی جماعتیں اقتدار یااپوزیشن میں ہوں ان کیلئے ریاست ماں جیسی ہی ہے۔
چیئرمین سینیٹ کے خلاف جب سے عدم اعتماد کی تحریک لانے کافیصلہ اپوزیشن کی جانب سے کیا گیا ہے اسی روز سے بلوچستان حکومت کے متعلق بھی افواہیں گشت کرنے لگی ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں مال مویشی کی منڈیاں سج گئی ہیں۔ملک بھر سے بڑی تعداد میں مال مویشیوں کے کھیپ در کھیپ منڈیوں میں لائے جارہے ہیں۔مویشی منڈی میں اکثر بیوپاریوں کو شکایات رہی ہیں کہ ماضی میں عید قرباں کے موقع پر ان سے بھتہ وصول کیاجاتا رہا ہے، 5ہزار سے لے کر10 ہزار روپے تک بھتہ وصولی جیسے کوئی بات ہی نہیں،اس گھناؤنے عمل کو روکنا تو کجا کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں کی جاتی۔ اندرون ملک سے مال مویشی لانے والے ٹرکوں سے وصولی کے نام پر من مانا ٹیکس بھی لیاجاتارہاہے۔
25جولائی کو موجودہ حکومت کو بنے ایک سال کا عرصہ مکمل ہوا، اس پورے دورانیہ میں سیاسی ماحول انتہائی گرم رہا۔ شاید ہی ملکی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی ہوا ہو۔ اگر حکومتی کارکردگی کے ایک سال کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی دورائے نہیں کہ معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے شاید ہی کوئی ایک بھی چیز ایسی ہو جس پر ٹیکس نہیں لگایا گیا ہو۔ ظاہر سی بات ہے مہنگائی کابم عوام پر ہی گرا ہے۔
پاکستان کی سیاسی نفسیات شدت پسندی کی تاریخ نہیں رکھتی، ملک کے تمام علاقوں کے اپنے سماجی روایات رہے ہیں قبائلی علاقوں کی اگر بات کی جائے تو وہاں سرد جنگ کے دوران ایسے حالات بنے کہ لوگوں کو شدت پسند بنایاگیا اور اس طرح سے یہ طول پکڑتا گیا،اس کی جڑیں اس قدر مضبوط ہوگئیں کہ ان کے خلاف سخت ترین آپریشن کیا گیا۔