ہمارے ہاں معمول بن چکا ہے کہ ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے، قیمتوں میں یہ اضافہ کون کرتا ہے،اس کا ذمہ دار کون ہے، اس کا اب تک تعین نہیں کیا گیا۔رمضان کے مہینے کو منافع کا مہینہ تصور کیا جاتا ہے، اس میں آڑھت، دکانداراور تاجر دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹتے ہیں۔ محدود آمدنی والے طبقے کے لیے رمضان اور عید خوفناک ایام اور تہواروں کا روپ دھار چکے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی کی شرح مہنگائی کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایاگیا۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھرمیں مزدور تنظیموں کی جانب سے جلوس نکالے گئے اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کے حصول کی جدوجہد کا اعادہ کیا گیا۔یہ دن شہدائے شکاگو کی یادمیں منایا جاتا ہے۔ پاکستان بھر میں بھی مزدور تنظیمیں اس دن کو اس جذبے کے ساتھ مناتی ہیں کہ وہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کی حفاطت کریں گی اور ان تمام قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی جو ان کا استحصال کررہی ہیں۔
قیمتوں پر کنٹرول، اشیائے ضرورت کی فراوانی اور ان کے معیار پر کبھی اور کسی دور میں بھی توجہ نہیں دی گئی خصوصاً بلوچستان میں جنگل کا قانون رائج ہے۔ جعلی اشیاء کے انبار تقریباً ہر دکان اور اسٹور میں وافر مقدار میں دستیاب ہیں وجہ یہ ہے کہ کمپنی کی اشیاء پر منافع کی شرح دس سے بیس فیصد تک ہے جبکہ جعلی اشیاء میں منافع کی شرح 70سے لے کر80 فیصد ہے۔ زیادہ منافع کے لالچ میں دکاندار جعلی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔
گزشتہ روزسیندک پروجیکٹ کے ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے اوردیگرمطالبات کے حق میں احتجاج کرکے کام بندکردیا۔ملازمین کا کہنا تھا کہ مہنگائی دوسوفیصدبڑھنے کے بعد بھی پروجیکٹ انتظامیہ نے سالانہ 6 سے 8 ڈالر یعنی 2.8 فیصدتا3 فیصدتنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جوسراسر زیادتی ہے، ملازمین کے مطابق انہیں دھونس اور دھمکیاں بھی دی گئیں مگر اس کے باوجود ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجاََ پروجیکٹ پر کام بند کردیا۔
وزیرمملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفراللہ مرزا نے کہاہے کہ قومی ادارہ صحت کو ہرممکن وسائل فراہم کرینگے۔وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے یہ بات آج قومی ادارہ صحت اسلام آباد کے دورے کے موقع پر کہی۔اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔
بلوچستان میں آئندہ مالی سال کی پی ایس ڈی کے حوالے سے اب تک مختلف اجلاس منعقد ہوئے ہیں جن میں خاص اس بات پر توجہ دی جاتی رہی ہے کہ بروقت مکمل ہونے والے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کیاجائے گا جبکہ وہ منصوبے جو عرصہ دراز سے بجٹ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اورجو دس برس بعد بھی مکمل نہیں ہوئے ان کے لیے مزید رقم مختص نہیں کی جائے گی۔
پولیو کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر بھر پور کوششیں جاری ہیں اس کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ پولیو کے خاتمے کی مہم پاکستان میں بھی تواتر سے جاری ہے تاکہ اس مرض سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑائی جا سکے کیونکہ اس مرض سے بچے عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ملک میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز میں اشیاء سستی بیچنے کیلئے امدادی رقم مختص کی جاتی رہی ہے تاکہ ضرورت مند اور کم آمدنی والے افراد اس کا فائدہ اٹھائیں۔ یہ رقم ہر سال اورہر حکومت رکھتی آئی ہے اور اس کا فائدہ عوام الناس کو پہنچتا رہاہے۔
صوبائی حکومت نے صوبے سے غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کے لئے مائیکروفائنانس پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا ہے جس کا مقصدنوجوان طبقے کو اپنی صلاحیتیں معاشرے اور اپنے خاندان کے لئے بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔