ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عام لوگ معمولی علاج کرانے سے بھی قاصر ہوگئے ہیں ملک میں اس وقت مہنگائی کا طوفان ہے ، اشیاء خورد ونوش سے لیکر ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں جس کا بوجھ عوام برداشت نہیں کرپارہی ۔گزشتہ روز وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے ڈریپ کو ادویات کی قیمتوں سے متعلق اسپیشل آڈٹ کرانے کا حکم دیا۔دواؤں کی قیمتوں میں از خود اضافے کے معاملے پر وفاقی وزیر صحت نے گزشتہ حکومت کی کارکردگی سامنے لانے کا فیصلہ کیاہے۔
گزشتہ روز ہزار گنجی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے میں 20 افراد جاں بحق جبکہ 45کے قریب لوگ زخمی ہوئے ۔ وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگونے پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ ہزار گنجی میں ہونے والا حملہ خود کش تھاجس میں جاں بحق ہونے والوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 8 افراد کے علاوہ ایک سیکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔
کوئٹہ شہر میں تجاوزات سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے شہرکی خوبصورتی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے اور مسائل دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں جب بھی تجاوزات کے خلاف مہم تیز کی جاتی ہے تو کچھ طاقتور لوگ اس میں خلل ڈالنے کیلئے عام لوگوں کو ڈھال بناکر استعمال کرتے ہیں چونکہ یہ عناصر غیر قانونی طریقے سے سرکاری املاک پر قابض ہیں اور تجاوزات قائم کرکے عرصہ دراز سے کاروبار کررہے ہیں اس لیے وہ آسانی سے اپنے تجاوزات کا خاتمہ نہیں ہونے دینگے ۔
کوئٹہ کے شہریوں خصوصاً مضافات میں رہنے والے لوگوں کے لئے سستی ٹرانسپورٹ کا حصول ایک مشکل امربن گیا ہے۔ اندرون شہر اور تجارتی مراکز میں ٹرانسپورٹ اتنا بڑا مسئلہ نہیں،ایک لاکھ سے زائد قانونی اور غیر قانونی آٹو رکشوں نے یہ مسئلہ حل کررکھا ہے لیکن مضافات میں رہنے والوں کو شہر تک پہنچنے اور واپس اپنے گھر تک جانے کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے ۔
دہائیوں سے وفاقی اورصوبائی ادارے شجر کاری کی مہم بھر پور طریقے سے چلاتے آرہے ہیں۔مگراس شجر کاری کا ملک بھر میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا جتنا ہونا چائیے تھا۔ماضی میں یہ دیکھنے کو ملا کہ اخبارات اور میڈیا میں افسران اور حکمرانوں کی پبلسٹی ضرور ہوئی مگر متعلقہ حکام اس مہم کے بعد سب بھول گئے اور شجر شجر نہیں رہے ، دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر درخت سوکھ گئے اور یوں پوری محنت ضائع ہوگئی۔
بلوچستان ایک وسیع وعریض صوبہ ہے جس کی آبادی منتشر ہے یقیناًایسی صورت میں شہریوں کو سہولیات کی فراہمی ایک مشکل امر ہے مگر ناممکن نہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بڑے شہروں کا جائزہ لیاجائے تو وہاں تمام شہری سہولیات دستیاب ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے وہاں کی آبادی اورجغرافیہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے روڈ میپ تیار کیاجاتا ہے جس میں ماہرین کو شامل کیاجاتا ہے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکیں۔
افغانستان میں امن و استحکام اور طالبان کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات میں خاصی پیشرفت ہوئی ہے تاہم بعض معاملات کے بارے میں اتفاق رائے کی کوشش کی جارہی ہے ان میں افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء، اس کے لیے ٹائم فریم اور اس دوران عبوری انتظامیہ کے بارے میں اتفاق رائے کے معاملات شامل ہیں، فریقین نے مذاکرات کے دوران بات چیت کے عمل کو خوشگوار قرار دیا اور یہ تسلسل جاری ہے ۔
پیٹرول، ایل پی جی اور بجلی کے بعد درآمدی ایل این جی کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی( اوگرا) نے اپریل کے لیے درآمدی ایل این جی کی قیمت بھی بڑھا دی۔ سوئی نادرن اور سوئی سدرن کے لیے گیس کی قیمت میں 0.27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے۔اوگرا کی جانب سے سوئی نادرن کے لیے گیس کی قیمت 10.57 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ سوئی سدرن کے لیے گیس کی قیمت 10.52 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی گزشتہ حکومت کے دور میں نافذ کی گئی تھی جس کیلئے اربوں روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیمی ایمرجنسی لگائی ہے ۔
مقامی حکومتوں کا معاملہ اختیارات کی تقسیم کا ہے۔ہمارے یہاں گزشتہ 70سالوں کے دوران اختیارات وزیراعظم ،وزرائے اعلیٰ کے پاس رہے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے تمام باشندے ‘ خواہ کوئی ہو، ان کے ماتحت اور زیر نگیں رہے جو کہ غیر جمہوری رویہ ہے۔