پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں میں گوادر فری ٹریڈ زون سمیت پانچ منصوبے خاص کر شامل تھے،جن میں گوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ کا قیام،مقامی افراد کیلئے50 ہزار ملازمتیں ، گوادر میں 150 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر،300 بستروں پر جدید ہسپتال کا قابل ذکر ہیں ۔اقتصادی راہداری منصوبوں میں فری ٹریڈ زون ،بزنس کمپلیکس آف گوادرپورٹ اتھارٹی، پاک چین پرائمری اسکول، دوڈیمز اورگوادر یونیورسٹی شامل ہیں‘ اس کے علاوہ37 ارب ڈالر توانائی کے شعبے کیلئے مختص کیے گئے تھے۔
بلوچستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہاں اکثر مخلوط حکومت بنتی آئی ہے۔ ایسی صورت میں نظام کی بہتری کی گنجائش کم ہی رہتی ہے کیونکہ پھر شخصی مفادات زیادہ اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ پنجاب،سندھ اور کے پی کے کی نسبت بلوچستان میں سیاسی ڈھانچہ یکسر مختلف رہا ہے ۔ بلوچستان کے اسی سیاسی کلچر نے پسماندگی اور کرپشن کو دوام بخشااور اس طرح صوبہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہا۔
بلوچستان کو ترقی دینے کے دعوے اور اعلانات تو ہمیشہ ہر حکومت اور ہر دور میں سنائی دیتی رہی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ علاج معالجہ ، تعلیم ، روزگار کی باتیں تو خواب جیسی ہیں۔ بلوچستان کی پسماندگی کی حقیقی تصویر بہت بھیانک ہے اور اس سے بھی بھیانک صورتحال یہ ہے کہ ہم اس کے بارے میں سننا ہی نہیں چاہتے، اسے دور کرنے کی کوشش تو دورکی بات ہے۔
بلوچستان بجٹ کا جب تک تاریخی طور پر جائزہ نہیں لیاجائے گا، یہ رونا حکومتی واپوزیشن اراکین کی جانب سے جاری رہے گا ۔گزشتہ حکومت کے دوران بھی بجٹ سے شاید ہی کوئی خوش رہا ہے محض تقاریر اور تنقید سے کوئی راستہ نہیں نکلے گا اور یہ ذمہ داری حکومت بشمول اپوزیشن کی بھی ہے کہ ایک پلاننگ اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ہی بجٹ کے حقیقی مقاصدکو حاصل کیاجاسکتا ہے بلکہ عوامی مفادات کیلئے اسے خرچ بھی کیاجاسکتا ہے۔
نیوزی لینڈ میں رونما ہونے والے ہولناک سانحہ کے بعد جس طرح وہاں کی حکومت اوردیگر ذمہ داران نے کردار ادا کیا اسے ہر سطح پر سراہا جارہاہے ۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ایک واضح پیغام دنیا بھر میں گیا کہ دہشت گردی ایک نفسیات ہے جس کا تعلق کسی مذہب، قوم یا ملک سے نہیں ہوتا۔
پاکستان اور افغانستان نے اب سرحد عبور کرنے والے تمام عمر کے افراد کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین یا قطرے دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا آغاز دونوں ممالک کی جانب سے 25 مارچ سے ہوگا۔دس سال سے زائد عمر کے افراد پر اگرچہ یہ وائرس حملہ نہیں کرتا لیکن یہ لوگ وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں۔
بلوچستان کا دارالخلافہ کوئٹہ شہر کی آبادی بڑھتی جارہی ہے جبکہ شہر 1935کے زلزلے کے بعد بننے والی ڈیزان پر ہی موجود ہے جس کی وجہ سے شہر میں مسائل دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں ، شہری سہولیات سے کوئٹہ کے عوام اب بھی محروم ہیں ۔
23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی جو قیام پاکستان پر ہونے والی لازوال جدوجہد پر مہر ثبت ثابت ہوئی۔برصغیرپاک و ہند میں جب مسلمانوں کی محرومیاں حد سے تجاوز کر گئیں تو ان میں ایک نئے وطن کی صدا بلند ہونے لگی اور قیام پاکستان کی لہر چل پڑی جس نے تاریخ میں مسلمانوں کو الگ پہچان اور رتبہ دلایا۔
بلوچستان میں لیویز فورس دہائیوں سے فرائض سرانجام دے رہی ہے خاص کر اندرون صوبہ میں یہ فورس تعینات ہے۔ اگرجرائم سمیت دہشت گردی کے رونماہونے والے واقعات کا موازنہ کیاجائے تو لیویز فورس جن علاقوں میں موجود ہے وہاں اس کی شرح بہت ہی کم ہے جبکہ لیویز فورس کے پاس تمام سہولیات بھی موجود نہیں جو مکمل ایک فورس کے پاس ہونی چاہئیں ۔
گزشتہ 17 سالوں سے افغانستان جنگ کی لپیٹ میں ہے اور اس کے جتنے تباہ کن اثرات خطے پر پڑے ہیں ان کا اندازہ بھی لگانا مشکل ہے، اس جنگ میں یقیناًافغانستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اب تک اس کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے بلکہ اس جنگی شدت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔