ملک میں رائج طرز حکمرانی پر چھوٹے صوبوں کی شکایتیں ہمیشہ بآواز بلند سنائی دیتی رہیں ہیں لیکن جنھیں کبھی بھی درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ ان آوازوں میں اہل بلوچستان کی آواز ہمیشہ واضح رہی ہے ۔ ناانصافیوں کی ایک طویل تاریخ ہے جس نے صوبے کے حالات کوکبھی پرسکون نہیں ہونے دیا۔وفاق نے بلوچستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹااور اس پر کبھی تاسف کا اظہار بھی نہیں کیا۔اس رویے کے خلاف بلوچستان میں قوم پرستوں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بارہا اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا مگر مرکز سے محض طفل تسلیوں کے عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔
جس معاشرے میں انصاف اور عدل نہ ہو وہاں انتشار اور انارکی پیدا ہوتی ہے، ہمارے یہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے سرمایہ دار سیاستدانوں نے حکمرانی کی جس کی وجہ سے معاشی ناہمواری پیدا ہوئی اور عام لوگوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ غربت کی شرح میں اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ دار حکمرانوں نے ملکی وسائل لوٹ کر اپنی جائیدادیں بنائیں اور اپنے کاروبار کو وسعت دیا۔
بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے ۔ اس میں بے شمار خوبصورت مقامات ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہر شعبے کی طرح سیاحت کا شعبہ بھی نظر انداز رہا اور کسی نے بھی اس کی خوبصورتی پر توجہ نہیں دی ۔ ایک وقت ایسا بھی تھا سیاحوں کی بڑی تعداد بلوچستان کارخ کرتی تھی اندرون ملک اوربیرونی ممالک سے سیاح یہاں تفریح کی غرض سے آیا کرتے تھے ۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے مختلف بحرانات اور چیلنجز کاسامنا کررہا ہے۔ دنیا کی بدلتی پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ نے کوئی ایک سمت نہیں اپنائی، پاکستان نے فرنٹ رول کا کر دار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو کچھ کیا شاید اتنا کسی اور ملک نے کیا ہو، اس کے لیے پاکستان کو بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ، لیکن بدلے میں امریکہ سمیت عالمی برادری کو پاکستان کوجو مقام دینا چاہئے تھا وہ نہیں دیا جبکہ پڑوسی ملک بھارت زیادہ انہیں عزیز رہا ۔
بلوچستان میں تین دن تک جاری رہنے والی طوفانی بارشوں اور شدید برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم اس نے نظا م زندگی کو درہم برہم کردیا۔ کوئٹہ،تربت ، مستونگ، نوشکی،چاغی،قلعہ عبداللہ، پشین ، دکی، سمیت دس سے زائد اضلاع میں سیلابی ریلوں کے باعث ہونیوالی تباہی کے اثرات سامنے آگئے ہیں جس سے سینکڑوں مکانات منہدم جبکہ ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ زرعی زمینوں اور دیگر املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
بلوچستان میں گزشتہ کئی عرصوں سے بلوچستان فوڈ اتھارٹی غیر فعال رہی ہے جبکہ دیگر صوبوں خاص کر پنجاب اور سندھ میں فوڈ اتھارٹی کو مکمل فعال بنایا گیا ہے، بلوچستان میں فوڈ اتھارٹی نہ ہونے کی وجہ سے عموماََ غیر معیار ی غذائی اجناس کی فروخت کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں جبکہ اشیاء خورد ونوش میں ملاوٹ بھی عام بات ہے ۔
بلوچستان کا واحد صنعتی زون ڈسٹرکٹ لسبیلہ ہے مگر یہاں کی صنعتوں میں بیشتر مزدوروں کا تعلق سندھ کراچی شہر سے ہے جبکہ مقامی آبادی کا اچھا خاصا حصہ روزگار سے محروم ہے، بلوچستان میں دوسری بڑی صنعت کوئلہ کان کنی ہے المیہ یہ ہے کہ لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے سے انہیں ماہانہ معاوضہ نہ صرف کم دیاجاتا ہے بلکہ ان کی جانوں کی حفاظت کیلئے بھی کوئی انتظامات نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے بڑے بڑے حادثات پیش آتے ہیں۔
گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال کشیدہ ہے، پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے ایک جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ، بھارت کی جانب سے انتہائی جارحانہ رویہ اپنایا گیا جبکہ پاکستان نے اس تمام صورتحال کے دوران کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش کی مگر معاملہ اس وقت خراب ہوا جب بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر حملہ کیا اور جھوٹے پروپیگنڈے شروع کئے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابہی نندن کو رہا کرنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو پذیرائی ملی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان امن اور بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کا حل چاہتا ہے۔
بلوچستان کے ساتھ تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا گیاہے،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوتا گیا۔ سوئی گیس اور او جی ڈی سی ایل کے سربراہان نے بلوچستان کے صرف ترقیاتی اسکیموں کا ذکر کیا اور ان کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دونوں کمپنیوں نے تیل اور گیس کی تلاش کی بات کبھی نہیں کی۔