کراچی میں ایک ریستوران میں مضر صحت کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ گزشتہ روز کراچی میں ایک نجی ریسٹورنٹ سے مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 5 کمسن بہن بھائی جبکہ ایک خاتون جاں بحق ہوگئی جوکہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔
بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے قحط سالی کی لپیٹ میں ہے ، مطلوبہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے بعض اضلاع کو قحط سالی کا سامنا ہے ، صوبہ میں حالیہ بارشوں سے کسی حد تک خشک سالی سے نمٹا جاسکتا تھا مگر بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے پانی ذخیرہ کرنے کیلئے کوئی خاص منصوبہ نہیں بنایا جس کی وجہ سے حالیہ بارشوں نے تباہی زیادہ مچائی۔
بلوچستان میں غربت کی شرح دیگر صوبوں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ روزگار کا فقدان ہے ، لے دے کے ایک سرکاری ملازمتیں بچتی ہیں جو کہ حکومت پر زیادہ بوجھ ہے حالانکہ صوبہ میں بہت سے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے مگر یہاں کے عوام کو ان منصوبوں سے روزگار فراہم نہیں کیا گیا۔
بھارت کے ساتھ جب بھی پاکستان نے مذاکرات کرنے اورخطے میں امن کیلئے بات کی، جواب نفی میں ملا، بھارت کبھی بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتاجب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے بغیر کسی ثبوت، تحقیق اور دلیل کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردیتا ہے، اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب پلوامہ میں حملہ ہوا تو چند گھنٹے ہی نہیں گزرے تھے کہ بھارتی میڈیا نے واویلا مچانا شروع کردیا اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آمداورلک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو حکومت کی اب تک سب سے بڑی کامیابی گردانا جارہا ہے اور سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اسے سراہاجارہا ہے۔سعودی سرمایہ کاری کے بعد ملک میں ایک بڑی معاشی تبدیلی آئے گی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے معاشی بحران اور دیگر چیلنجز کا سامنا کررہا ہے مگر اب امید پیدا ہوگئی ہے کہ سعودی سرمایہ کاری کے بعد ہم معاشی اہداف سمیت دیگر بحرانات کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہونگے۔
پاکستان میں سعودی عرب 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جارہا ہے جس میں خاص کر آئل ریفائنری گوادرشامل ہے، اس کے ساتھ دیگر تجارتی معاہدے بھی کئے جائینگے ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ماضی میں بھی خوشگوار تعلقات رہے ہیں مگر تجارتی حوالے سے اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔
خطے میں بڑھتے مسائل اور تبدیلی نے کسی حد تک مسلم ممالک کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ جس طرح سے گزشتہ بیس سالوں کے دوران ایک خلیج دہشت گردی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اس نے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کو متاثر کررکھا ہے۔
بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے ، اس کی آبادی پھیلی ہوئی ہے جہاں صحت جیسی سہولیات کی بروقت فراہمی انتہائی مشکل اور ایک چیلنج سے کم نہیں۔ صوبہ میں موذی امراض کا بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہاں اموات کی شرح بہت زیادہ ہے ۔
بلوچستان میں پانی بحران ایک سنگین مسئلہ ہے ، بارشیں ہونے کے باوجود ہمارے پاس ان کو ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیمز کی قلت ہے جس کے باعث پانی بحران سراٹھاتا رہتا ہے، اگر بارشیں زیادہ ہوں بھی تو منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے پانی ضائع ہوجاتا ہے۔
تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی اس کے بغیر بہترین سماج تخلیق کی جاسکتی ہے ، جدید دور میں دنیا کی ترقی صرف علمی بنیادوں پر ہوئی ہے ہم وسائل سے مالامال ضرور ہیں اگر تعلیم کے زیور سے ہماری نسل محروم رہے گی تو وہ اپنے وسائل کا بہترین استعمال اپنے لوگوں اور سرزمین کیلئے نہیں کرسکتا۔