افغانستان مسلسل شورش کی لپیٹ میں

Posted by & filed under اداریہ.

افغانستان پر قابض ہونے کی کوششوں نے اسے ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے کہ وہاں شورش ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ مذاکرات کے کتنے دور گزرے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا ۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں خود مختار حکومت کبھی نہیں بنی، بلکہ ہمیشہ ایسی حکومت رہی جو عالمی طاقتوں کے زیر اثر رہا، یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ دیرپا امن کیلئے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہے۔

کوئٹہ ماسٹرپلان ، عوامی توقعات

Posted by & filed under اداریہ.

کوئٹہ شہر کے بڑھتے ہوئے مسائل کی ایک بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی ہے، دارالخلافہ کو ایک اہم شہر کی حیثیت سے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔بعض ایسے گھمبیر مسائل ہیں جن پر ماضی میں کوئی توجہ نہیں دی گئی وگرنہ اس چھوٹے سے شہر کو خوبصورت اور بنیادی مسائل سے چھٹکارا دلانا کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔ 

وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات ، انتظامیہ کا غیرذمہ دارانہ رویہ

Posted by & filed under اداریہ.

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ سمیت تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنر وں کو تجاوزات ہٹانے اوردکانداروں کو نرخنامے لگانے کا پابند بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں مگر ایک ہفتہ ہونے کو ہے اس پر عملدرآمد نہیں کیاجارہا ، کوئٹہ شہر جو صوبائی دارالخلافہ ہے سب سے زیادہ تجاوزات سے متاثر ہے جبکہ نرخنامہ کا وجود ہی نہیں اور صورتحال جوں کی توں ہے، اندازہ دارالخلافہ سے ہی لگایاجاسکتا ہے جب یہاں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے واضح احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا تو اندرون بلوچستان کس طرح سے کارروائی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ 

افغان امن عمل، امریکی پالیسی واضح نہیں

Posted by & filed under اداریہ.

افغانستان دہائیوں سے عالمی طاقتوں کے زیر اثر ہے، روس کے بعد امریکہ ، عالمی طاقتیں اور بھارت نے اپنے پنجے یہاں گاڑ رکھے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں امن وامان کی صورتحال بہتری کی طرف نہیں جارہی ، مذاکرات اور جنگ دونوں ساتھ ساتھ چلتے آرہے ہیں اور مستقل حل کی تلاش کیلئے سنجیدگی بہت کم دیکھنے کو ملی ہے ۔

کوئٹہ پیکج ،خوبصورت شہر کا خواب

Posted by & filed under اداریہ.

گزشتہ حکومت نے کوئٹہ پیکج متعارف کراتے ہوئے شہر کی خوبصورتی کو بحال کرنے کیلئے مختلف منصوبوں کے اعلانات کئے جن میں سڑکیں، پُل، انڈرپاسز، پارکنگ پلازے، روڈپارکنگ سمیت تفریح گاہوں کا قیام شامل تھا۔ کوئٹہ کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر کوئٹہ پیکج کا اعلان کیا گیا جس کیلئے اربوں روپے بھی مختص کئے گئے ۔

افغانستان میں امن محض خواب ہی رہے گا؟

Posted by & filed under اداریہ.

گزشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان میں بدامنی کی وجہ سے پورا خطہ شدید متاثر ہوکر رہ گیا ہے خاص کر پاکستان نے اس پورے دورانیہ میں مختلف اتارچڑھاؤ دیکھے اور سب سے زیادہ اثرات بھی پاکستان پر پڑے ہیں ۔ بدامنی، سماجی تبدیلی، مہاجرین کی آمد ان تمام عوامل کی وجہ سے آج بھی پاکستان متاثر ہے اور افغان امن عمل کی کامیابی سے سب سے زیادہ خوشی پاکستان کے عوام کوہو گی ،اس لئے پاکستان نے افغان امن عمل کو ہمیشہ سنجیدہ لیا ہے۔ 

بلوچستان میں ڈاکٹروں کااحتجاج

Posted by & filed under اداریہ.

ڈاکٹر ابراہیم خلیل شیخ کو 13 دسمبر2018 کو کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن سے اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ نجی کلینک سے رات ساڑھے گیارہ بجے اپنے گھر جارہے تھے ۔ اس دوران مسلح افراد نے انہیں گاڑی سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔اغواء اور ذہنی کوفت کا اثر ڈاکٹر ابراہیم خلیل شیخ کی گھرآمد کے بعد ان کے چہرے سے محسوس کیاجاسکتا ہے کہ کتنی تکلیف میں انہوں نے یہ دن گزارے ہیں حتیٰ کہ وہ میڈیا سے بات کرنے سے بھی قاصرتھے۔

بلوچستان کے وسائل کا تحفظ ضروری ہے

Posted by & filed under اداریہ.

بلوچستان میں جتنے بھی میگا منصوبوں پر ماضی میں کام ہوا، اس میں ہونے والے تمام معاہدوں میں صرف وفاقی حکومت کا کرداررہا ہے، صوبائی حکومت کو ان معاملات میں کبھی بھی اعتماد میں نہیں لیاگیا جو مرکز اور بلوچستان کے درمیان دوری کا سبب بنا جس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوئے۔ 

بلوچستان کی مقامی قیادت کو اہمیت دی جائے

Posted by & filed under اداریہ.

بلوچستان کے متعلق جب بھی مرکز میں گونج اٹھی ہے تو حسب روایت وہی روایتی طرز اپنا یا گیا ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر ان کو حق دیا جائے تو وہاں کے لوگوں میں موجود احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا۔یہ صرف ہمدردانہ بیانات تک ہی محدود رہا ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلتاآرہا ہے۔ 

بلوچستان کی غیر محفوظ شاہراہیں

Posted by & filed under اداریہ.

بلوچستان کی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کا رونما ہونا معمول کی بات ہے مگر سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ شاہراہوں پر حادثات کے باعث بیشتر متاثرہ افراد راستے میں ہی دم توڑدیتے ہیں جس کی بڑی وجہ معالج گاہوں کا نہ ہونا ہے اور جہاں کہیں چھوٹے چھوٹے صحت مراکز ہیں وہاں عملہ نہیں ہوتا،کہ حادثے کے شکار افرادکو بروقت طبی امداد دی جاسکے ۔