کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز نے پاک-افغان سرحدی علاقے چمن میں آپریشن ردالفساد کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے بھاری اسلحہ برآمد کرلیا۔
کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز نے پاک-افغان سرحدی علاقے چمن میں آپریشن ردالفساد کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے بھاری اسلحہ برآمد کرلیا۔
بلوچستان میں خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑگیا ہے، 90 فیصد علاقے متاثر ہونے کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد مشترکہ طور پر منظور کی گئی تھی جس میں یہ زور دیا گیا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پرامدادی کاموں کا آغاز کیاجائے۔
بلوچستان میں ڈاکٹروں کی اغواء کاری کا تاثر صوبہ کیلئے انتہائی تشویشناک ہے، ملک کے دیگر حصوں میں اب یہ بحث ہورہی ہے کہ بلوچستان ڈاکٹروں کے لئے غیر محفوظ صوبہ بن گیاہے۔مسلسل اغوا ء اور قتل کی وارداتوں کے بعد 100 سے زائد ڈاکٹر صوبہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔
بلوچستان میں تعلیمی شرح کم ہونے کی وجہ ضلعی سطح پر تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے ۔گزشتہ روز بلوچستان کابینہ نے محکمہ تعلیم میں 9سے 15گریڈ کے ٹیچنگ اسٹاف کی بھرتی کی پالیسی میں ترمیم اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی بھرتی کی پالیسی کی اصولی منظوری دی۔
بلوچستان میں پیش ہونے والے بجٹ ہمیشہ خسارے کا ہوتے ہیں جن میں ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے، گزشتہ حکومت کے دوران ہر سال تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اربوں روپے رکھے گئے۔
پاک ایران برادر ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام بھی اس سے مستفید ہوسکیں۔ تعلقات صرف سرکاری سطح پر محدود نہیں رہنے چائیں بلکہ ان کو وسعت دی جائے تاکہ دو طرفہ تجارت اور آمد و رفت میں اضافہ ہو۔ اس مقصد کے لئے ہم نے ہمیشہ ایران ‘ پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کی حمایت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ اس کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔
وزیراعظم عمران خان ان دنوں پڑوسی ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی بہترین قدم ہے کیونکہ پاکستان اپنے محل وقوع کے حوالے سے خطے کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں تجارتی حوالے سے خاص فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
بلوچستان میں غذائی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ میں حالیہ اسکریننگ کے دوران چالیس فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار پائے گئے۔
بلوچستان میں انسانی وسائل کی ترقی کی لیے گزشتہ حکومت کے دوران اربوں روپے مختص کئے گئے تاکہ صوبہ میں تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ کیاجاسکے اور اسی بنیاد پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی مگر پورے دورانیہ میں خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے، بلوچستان میں تعلیمی شرح انتہائی کم ہے خود حکومتیں اس بات کا اعتراف کرچکی ہیں کہ لاکھوں بچے اسکولوں سے آج بھی باہر ہیں اور اسکولوں کی حالت زار بھی انتہائی ابتر ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پناہ لینے والے غیرملکی باشندوں کیلئے واضح پالیسی اور قوانین موجود ہیں۔ کاروبار، سیر وتفریح یا پھر مہاجرین کی صورت میں جو لوگ مغرب کا رخ کرتے ہیں انہیں وہاں کے تمام قوانین کی مکمل پاسداری کرنی پڑتی ہے، کسی طرح بھی انہیں اس قدر آزادانہ نقل و حمل کی اجازت نہیں ملتی جس طرح ہمارے یہاں کئی دہائیوں سے یہ چلتا آرہا ہے جس کی وجہ سے ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔