حکومتی واپوزیشن جماعت کے ارکان گزشتہ روزاسمبلی اجلاس میں وفاق پر برس پڑے۔مشترکہ قرار داد پرارکان کا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان میں کثیر الجہتی غربت کی شرح80فیصد سے زائد ہے جبکہ گوادر ،لسبیلہ ، کیچ اور پنجگورمیں غربت کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے جس کی بناء پر ان کا شمار شدید غربت سے متاثرہ اضلاع میں ہوتا ہے جبکہ گزشتہ دس سالوں سے گوادر میں اربوں مالیت کے جائیداد کی خریدو فروخت ، گوادر ڈیپ سی پورٹ اور دیگر تعمیراتی و ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں ۔
پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کا چھٹا اور آخری بجٹ پیش کردیا۔وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 59 کھرب 32 ارب 50 کروڑ روپے ہے اور یہ 1890.2 ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے جو کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 4.9 فیصد ہے۔ماضی کے پانچ بجٹ کے برعکس اس بجٹ کی کوئی خاص سمت متعین نہیں کی گئی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے صوبائی وزراء نے ملاقات کی،ملاقات میں چار اضلاع نوشکی، چاغی، خاران اور واشک پر مشتمل رخشاں ڈویژن کے قیام کے سلسلے میں تبادلہ خیا ل کیا گیا، جس پروزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوشکی، چاغی ، خاران اور واشک کا رقبہ وسیع اور آبادی بھی زیادہ ہے، ان علاقوں پر مشتمل نئے ڈویژن کے قیام سے لوگوں کی درپیش مشکلات میں کمی آئی گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں فورسز پر ہونے والے افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتاہوں آئی جی پولیس سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں تین صوبوں ، سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے وفاقی پی ایس ڈی پی کو مسترد کر تے ہوئے واک آؤٹ کیا اور ضمنی بجٹ پیش کر نے کا اعلان کر دیا۔
گزشتہ روز کوئٹہ شہر کے دو علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ، پہلا واقعہ مستونگ روڈ میاں غنڈی کے قریب ایف سی چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا جس میں دو خود کش حملہ آوروں نے ایف سی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں شاہر اہوں کی توسیعی منصوبوں کے مکمل ہونے سے بلوچستان کے لو گوں کو درپیش مشکلات اور مسائل سے نجات ملنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا مسئلہ بھی حل ہو گا ، وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے محض اعلانات کئے گئے ہیں ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں مالی سال 2018۔19ء کا صوبائی بجٹ 8مئی کو پیش کرنے کی منظوری دی گئی، اجلاس میں رواں مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کا اجراء 27اپریل کو روک دیا جائے گا۔
کراچی میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور اسمبلی فلور سے لے کر سڑکوں تک احتجاج جاری ہے۔ کے الیکٹرک کے خلاف کراچی کی شاہراہیں بینروں سے سجی نظر آرہی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دے ر ہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ماہی گیری کے شعبہ سے ہزاروں بلوچستانیوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہے ہم مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔