کشمیر میں بھارتی جارحیت سے 20 نہتے کشمیری شہید جبکہ 200 زخمی ہو گئے، کشمیر میں حالات اب تک کشیدہ ہیں ۔ مختلف حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق آزاد کشمیر کی حکومت نے ان ہلاکتوں کے خلاف یوم مذمت منانے کا اعلان کیا ہے۔آزاد کشمیرکے وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی فوج اور خفیہ ادارے کشمیریوں کی نسل کشی کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی دعوت پر جمعہ کو افغانستان کے دورے پر کابل پہنچے ۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان وفود کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وی آئی پی موومنٹ کے دوران سڑکوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کو ہدایت کی کہ آئندہ وی آئی پی شخصیات کو سیکورٹی ضرور دیں لیکن پورا دن سڑکوں کو بند نہ رکھا جائے۔
گزشتہ شب وزیراعلیٰ بلوچستان نے ٹراما سینٹر کا اچانک دورہ کیااور ہسپتال میں گندگی، ڈاکٹروں اور اسٹاف کی عدم دستیابی اورمریضوں کی جانب سے ادویات نہ ملنے کی شکایات پر سخت برہمی کا اظہارکیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کاکہنا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کا نقصان پاکستان کو ہو گا وفاق بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز جاری کر ے، وزیراعظم پلاننگ کمیشن کو پی سی ون پر عمل کی ہدایت کریں، وفاق کا تعاون نہیں ہوگا توبلوچستان پسماندہ رہے گا۔
گوادرمیں ٹینکر مالکان نے پیسوں کی عدم ادائیگی پر پانی کی سپلائی روکنے کا اعلان کر دیاہے۔ پانی کی فراہمی ٹینکر مالکان کو کر ائے کی عدم ادائیگی پربندکیاگیاہے۔ ٹینکر مالکان نے مؤقف اختیار کیاہے کہ ان کے گزشتہ 6 ماہ کے واجبات باقی ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر ملک میں مشکلات ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ اداروں کے سربراہوں سے ملیں اور ان مشکلات کا حل نکالیں۔سرگودھا میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے ساتھ اپنی ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور سپریم کورٹ کے سربراہ سے مل سکتے ہیں۔
بلوچستان کی سیاسی تاریخ ہمیشہ تلخ رہی ہے ،نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد جب رکھی گئی تو بلوچستان کے زیرک سیاستدان اس سے وابستہ ہوئے جن میں میرغوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ خان مینگل، نواب خیر بخش مری سمیت دیگر سیاسی اکابرین شامل تھے گوکہ نواب اکبرخان بگٹی نیپ کے باقاعدہ رکن نہیں تھے مگر وہ نیپ کیلئے سرگرم رہے۔