پارلیمان کی بالادستی

Posted by & filed under اداریہ.

بہت عرصے بعد ملک میں پارلیمان اور نمائندہ حکومت کی بالادستی کو تسلیم کرلیا گیا بلکہ اعلانیہ طورپر تسلیم کر لیا گیا جس پر ملک کے اندر بعض حلقے ناخوش اور ناراض نظر آتے ہیں ، اس میں ہمارے بعض سکہ بند صحافی بھی شامل ہیں جو ہر حال میں نمائندہ حکومت کا تختہ الٹتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں وہ عناصر اداروں کے درمیان محاذ آرائی کو زیادہ ہوا دے رہے ہیں ۔

صوبوں کی سرکاری زبانیں۔۔۔ بلوچی، پشتو،سندھی،پنجابی

Posted by & filed under اداریہ.

سینٹ قائمہ کمیٹی کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ ’’ مقامی ‘‘ زبانوں کو صوبوں کی سرکاری زبانوں کا سرکاری طورپر درجہ دے دیا گیا ہے۔ آج سے بلوچستان کی سرکاری اور تسلیم شدہ زبان بلوچی ہوگی ، باقی تمام مقامی زبانیں اقلیتی اور ثقافتی اقلیتوں کی زبانیں ہوں گی ۔

ایران سے بہتر تعلقات قائم کریں

Posted by & filed under اداریہ.

حالیہ دنوں میں حالات یہ بات ثابت کررہی ہیں کہ پاکستان کے تعلقات افغانستان اور بھارت سے خراب تر ہوگئے ہیں۔ بھارت آئے دن لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کرتا ہے اور دوسری افغانستان نے بھی پاکستان کے خلاف معاندانہ رویہ اپنایا ہوا ہے ۔

بلوچستان میں بجلی کی ضروریات پوری کریں

Posted by & filed under اداریہ.

بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جس کے اہم ترین مسائل کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جارہا ہے اور ان کے حل کی کوئی کوششیں نظر نہیں آتیں ۔وفاقی حکومت اور اس کی نوکر شاہی کے ساتھ ساتھ صوبے کے منتخب نمائندے بھی اس میں برابر کے ذمہ دار ہیں

شہروں میں قلت آب

Posted by & filed under اداریہ.

بلوچستان کو مجموعی طور پر قلت آب کا سامنا ہے اکثر علاقوں اور شہروں میں پینے اور گھریلو استعمال کیلئے پانی دستیاب نہیں ہے تمام گزشتہ حکومتوں نے اس بنیادی مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی ، زیادہ تر توجہ حکومتوں کو بچانے پر صرف کئے،

بلوچستان میں پانی کی قلت

Posted by & filed under اداریہ.

بلوچستان ایک بڑے خطرے سے دوچار ہے جس کو وفاقی سطح پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اتنے وسیع وعریض خطے میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ گزشتہ 70 سالوں سے کچھی کے اضلاع اور شہروں میں پانی کی قلت ہے پینے اور گھریلو استعمال کیلئے پانی دستیاب

چمن پر افغانستان کا فوجی حملہ

Posted by & filed under اداریہ.

حال ہی میں حکومت پاکستان نے افغانستان کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی کیلئے بہت سے اقدامات اٹھائے، ان میں فوجی اور پارلیمانی وفود کے کابل کے دورے شامل تھے یہاں تک کہ افغان صدرکو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی گئی

دمگی جیڑگاں گوں بے سروکی

Posted by & filed under ساچینک بلوچی.

۱۹۵۰ ءَ وہدے نوکر شاہی ءَ خواکہ نظام الدین ءِ حکومت ھلاس کت ہما روچ ءَ پد نوکرشاہی ءُپ آئیءِ کاردار دمگی جیڑگانی حلاپ ءَ کار بندات کت ۔اولی روچ ءَ ایشانی کوشش ہمے بوتگ کہ پاکستان ءَ یک طرزی حکومت بہ مانیت ءُُ وفاق بنگواج کنگ بہ بیت۔۱۹۵۰

بلوچستان بجٹ ……سفارشات (2)

Posted by & filed under اداریہ.

چین کے ساتھ معاہدہ کے خاتمے کے بعد حکومت بلوچستان سندھک پلانٹ خود چلائے اور اس کی ساری آمدنی حاصل کرے۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ سندھک کے تانبے اورسونے کے ذخائر سے آدھا آدھا حصہ چین اور اسلام آباد لے گئے