توقع کے مطابق پوری کی پوری وفاقی حکومت بمعہ اس کے تمام اداروں کے چند پختون رہنماؤں کے دباؤ میں آگئی اور ان کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا کہ افغانستان سے آئے ہوئے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو مزید ایک سال تک پاکستان اور اس کی خراب ترین معیشت پر بوجھ رہنے دیا جائے۔ اور اب یہ غیر قانونی تارکین وطن اگلے سال دسمبر تک ہمارے مزید مہمان ہوں گے ۔ اور ان کو وہ تمام آزادیاں حاصل ہیں جو پاکستانیوں کو اپنے ملک میں حاصل نہیں ہیں ۔ پہلے تو ایک ڈرامہ رچایا گیا
یہ ایک خوش آئند خبر ہے کہ صوبائی حکومت ریلوے نظام میں دلچسپی لینی شروع کی ہے ۔ وفاقی بجٹ میں بھی رواں سال ریلوے کے لئے زمین خریدنے کے لئے رقم مختص کی گئی ہے اور ریلوے حکام نے بنیادی کام شروع کردیا ہے
گزشتہ دنوں کچھی کینال کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے چیف سیکرٹری کی موجودگی میں ملاقات کی اور ان کو منصوبہ سے متعلق تازہ ترین اطلاعات فراہم کیں اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا کہ وفاقی حکومت کچھی کینال کی جاری
توقع کے مطابق کوئٹہ مئیر کے خلاف علم بغاوت بلند ہوگئی ابتداء سے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ مئیر اور اس کے حمایتی کونسلرز عوامی خدمت سے زیادہ جماعتی سیاست اور مفادات کو اہمیت دیتے ہیں اس لیے ان کے لئے یہ وقت آنا تھا
بلوچستان ایک وسیع خطہ ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں دو کروڑ ایکڑ سے زیادہ زر خیز زمین کاشتکاری کے لئے موجود ہے ۔ یہ بات حکمرانوں کو گزشتہ ستر سالوں سے معلوم ہے لیکن انہوں نے اتنی وسیع و عریض زمین پر کاشت کاری کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ۔ 1991ء میں جب صوبوں کے درمیان دریائے سندھ کی پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوگیا تو بلوچستان کو دس ہزار کیوسک اضافی پانی دیا گیا یہ صوبوں کا متفقہ فیصلہ تھا آج دن تک یعنی پچیس سال گزر نے کے بعد بھی بلوچستان کو اس کا تسلیم شدہ حق نہیں دیاگیا بلکہ جان بوجھ کر نہیں دیا گیا ۔
بھارت کا جنگی جنون آج کل سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ آئے دن لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری جاری ہے جس کا واحد مقصد پاکستان پر فوجی دباؤ بر قرار رکھناہے اور دنیا کی توجہ کشمیریوں کے زبردست احتجاج اور آزادی کے مطالبہ سے ہٹانا ہے اور دنیا پر اس وقت یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ علاقے کے امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں ۔ لہذا دنیا کشمیر کے مسئلے کو بھول جائے ، لاکھوں کشمیریوں کے بھرپور احتجاج پر توجہ نہ دے
حکومت اور خصوصی طورپر مقامی انتظامیہ عوامی مسائل سے لا تعلق نظر آتے ہیں ، ان کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ گزشتہ دنوں معذور افراد نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر مظاہرہ کیا اور ٹریفک کو بند کردیا جس کی وجہ سے دن بھر کاروبار زندگی کوئٹہ شہر میں جزوی طورپر مفلوج رہا۔ وجہ یہ بنی کہ کوئٹہ کی تمام بڑی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک جام تھا اور لوگوں کے ہزاروں کام کے گھنٹے ضائع ہوئے جس کی براہ راست ذمہ دار صوبائی حکومت اور بالخصوص مقامی انتظامیہ ہے۔
ترک صدر اردگان کی پاکستان آمد سے چند روز قبل وفاقی حکومت نے ترک اساتذہ کو ملک بدری کا حکم تھما دیا ۔شاید ترک صدر کی آمد سے قبل طیب اردگان کو یہ تحفہ دینا مقصود تھا کہ ہم بھی ترک اساتذہ کے خلاف کارروائی کررہے ہیں ۔ حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی افسوسناک اور یہ تعلیم دشمنی کے مترادف ہے ۔ ترک اساتذہ کے زیر تعلیم تقریباً 12 ہزاربچے ہیں ترک اسکول پاکستان میں اپنی معیاری تعلیم کے بارے میں اچھی ساکھ رکھتے ہیں
بھارت کے رویے سے قیاس کیاجارہا ہے کہ وہ پورے خطے کے امن کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے ۔ گزشتہ چار ماہ سے کشمیر کی صورت حال میں جو انقلابی تبدیلی آئی ہے اور کشمیریوں نے بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے اس پر بھارت اور بھارتی حکمران چراغ پا ہیں کہ کشمیر کا مقبوضہ علاقہ ا ن کے ہاتھ سے جاتا دکھائی دے رہا ہے ۔