آنے والے سال کا بجٹ بہت ساری امیدوں کے ساتھ گزشتہ سالوں کی بہ نسبت ایک بہتر بجٹ ہونے کے اشارے ملے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے خود یہ اشارے دئیے ہیں کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوام دوست ہوگا اس کے بعد کے بیانات سے پتہ چلتا ہے
Posts By: اداریہ
مہنگائی کا طوفان اور جعلی اشیاء
قیمتوں پر کنٹرول، اشیائے ضرورت کی فراوانی اور ان کے معیار پر کبھی اور کسی دور میں توجہ نہیں دی گئی خصوصاً بلوچستان میں جنگل کا قانون رائج ہے ۔ جعلی اشیاء کے انبار تقریباً ہر دکان اور اسٹور میں وافر مقدار میں دستیاب ہیں وجہ یہ ہے کہ کمپنی کی اشیاء
بلوچستان میں غیر ترقیاتی اخراجات
صوبائی چیف سیکرٹری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبے میں 77فیصد آمدنی غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ ہورہی ہے ۔ صرف 23فیصد رقم ترقیاتی کاموں کے لئے بچ جاتی ہے ۔ بلوچستان کا سالانہ میزانیہ کا حجم 200ارب روپے سے زیادہ ہے
کوئٹہ کو خوبصورت بنانے کا خواب
وزیراعظم پاکستان اور صوبائی وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے کوئٹہ کو خوبصورت بنانے کے لئے خصوصی گرانٹ کے اعلانات کیے تھے ابتدائی چند دنوں میں میونسپل کارپوریشن کی کچھ گاڑیاں سڑکوں پر کچرا لے جاتے ہوئے ضرور دکھائی دیئے
بجٹ اور بلوچستان میں ترقیاتی عمل
گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچستان میں ترقی کا عمل انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے یوں تووفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے بڑے رقوم کا مختص ہونا عام سی بات ہے لیکن سال کے خاتمے پر عوام الناس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا نصف حصہ بھی بلوچستان میں خرچ نہیں ہوا بلکہ وہ رقم وفاقی خزانے
شکایات حکومت سے ، سزا مریضوں کو
ڈاکٹروں کی ہڑتال طول پکڑتی جارہی ہے اور نوجوان ڈاکٹروں کا رویہ زیادہ سخت ہوتا جارہا ہے ۔ خصوصاً مایوسی کے عالم میں حکومت ان کے ہڑتال اور احتجاج پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے اس لئے وہ زیادہ سخت ترین اقدامات اٹھانے کو تیار نظر آتے ہیں
امریکا سے تعلقات۔۔۔ سرد مہری سے کشیدگی کی جانب
سلالہ چیک پوسٹ پر ہوائی حملے کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات کشیدگی کی جانب بڑھتے جارہے ہیں حالیہ ہفتوں میں یہ تعلقات سرد مہری کا شکار تھے غالباً اسی وجہ سے وزیراعظم نے امریکا میں جوہری سیکورٹی کانفرنس میں خودشرکت نہیں کی
بلوچستان میں سیم اور تھور کا مسئلہ
گزشتہ کئی دہائیوں سے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ بلوچستان میں سیم اور تھور سے ہٹ گیا ہے حکمرانوں کو ذاتی مفادات کے تحفظ سے فرصت نہیں اور نہ ہی بلوچستان کے نوکر شاہی کو عوامی مسائل اور مشکلات سے دلچسپی ہے ۔ وہ صرف حکمرانوں کی چاپلوسی میں ملوث پائے جاتے ہیں سب کے سب نہیں
بلوچستان، وفاقی بجٹ سے توقعات نہ رکھیں
گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے بجٹ کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے ایک اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور وفاقی حکومت خصوصاً وزیر منصوبہ بندی اور ترقیاتی کے طرز عمل پر احتجاج کیا ۔ اب اسکا اثر یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت یا منصوبہ بندی کمیشن
وزیراعلیٰ کا احتجاج اور واک آؤٹ
ہر آنے والے سیاسی یا فوجی حکومت نے بلوچستان کو بہ حیثیت وفاقی اکائی کبھی تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کو پنجاب کا ایک تحصیل سمجھ لیا اور اس لحاظ سے وفاقی حکمرانوں اور نوکر شاہی نے سلوک کیا۔ ظاہر ہے اتنا بڑا بلوچستان جو تمام صوبوں سے بڑا ہے