چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ہر وقت عوام کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ انصاف سب کے لیے یکساں ہونا چاہئے، عدالتی نظام کو کسی دباؤ یا فرمائش کے ذریعے نہیں چلانا چاہئے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے لیڈران کو چور اور ڈاکو کے القابات سے نوازتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ من پسند ججز چاہتے ہیں،
سی پیک بلوچستان کے ماتھے کا جھومر اور ترقی کی کنجی ہے۔ سی پیک سے بلوچستان خطے میں سب سے زیادہ خوشحال اورترقی پذیر علاقے میں شمار ہوگا۔ صنعتیں،شاہراہیں، بجلی گھر تجارت سمیت روزگار کے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہونگے۔تعلیم،صحت تمام تر سہولیات بلوچستان کے عوام کو فراہم کیے جائینگے اس کے ساتھ بہت سارے میگامنصوبوں کی نوید بھی سنائی جاتی ہے مگر حالت یہ ہے کہ ایک بل نے وفاقی حکومت سمیت اسلام آباد کی اصل نیت کوآشکار کردیا ۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی نے 24 جامعات کے قیام کا بِل پاس کیا ہے ان میں ایک پاک چائنا گوادر یونیورسٹی بھی شامل ہے اور اس یونیورسٹی کا نام اس وقت سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے۔
گزشتہ روز خیبرپختونخواہ کے علاقے باجوڑ میں جے یوآئی(ف) کی کارنرمیٹنگ کے دوران دہشتگردانہ حملہ ہواجس کے نتیجے میں 54 افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق جے یو آئی کا جلسہ دوپہر 2 بجے شروع ہوا اور دھماکا 4 بجکر 10 منٹ پر ہوا۔ دھماکے کی جگہ سے بال بیرنگ وغیرہ ملے ہیں، دھماکا خود کش تھا اور حملہ آور گروپ کی شناخت ہوئی ہے۔
موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہے مگر ساتھ ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے گئے اس سے عوام کا ردعمل انتہائی خطرناک سامنے آرہا ہے۔
بلوچستان کے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں حل کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ چاہئے۔ صرف ایک حکومت آکر بلوچستان میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لاسکتی، بلوچستان کو خوشحالی اور معاشی ترقی کی طرف لے جانے کے لیے ایک مکمل معاشی پلان اور اس کا تسلسل یقینی ہوناچاہئے لیکن بدقسمتی سے ہر نئی حکومت بلوچستان کی محرومیوں، پسماندگی سمیت سیاسی مسائل حل کرنے کے حوالے سے بڑے دعوے کرتی ہے ۔
ملک میں معاشی مسائل کی ایک بڑی وجہ کرپشن اور بدعنوانی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے قومی محکمے تباہ ہوکر رہ گئے ہیں، بڑے آفیسران سے لے کر نچلی سطح کے ملازمین تک ریکارڈ کرپشن کرتے آرہے ہیں مگر افسوس کہ اب تک بڑے اسکینڈلز میں ملوث اہم شخصیات کو قانون کی گرفت میں نہیں لایاگیا اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی سرپرستی بھی ہے ۔
ملک میں نگراں حکومت کے قیام اور سیٹ اپ پر کونسی شخصیات آئینگی ان دنوں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع یہی ہے مگر اس کے ساتھ جڑے دیگر مسائل بھی موجود ہیں کہ نگراں حکومت جسے الیکشن کرانے ہیں اور جاری منصوبوں کی نگرانی کرتے ہوئے ان کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے ،خود سے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرنا ہے اس حوالے سے بھی بھازخبریں گردش کررہی تھیں۔
بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی ابتر صورتحال سب کے سامنے ہے ۔ دارالحکومت کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں سرکاری تعلیمی اداروں خاص کر اسکولوں میں کوئی سہولت موجود نہیں یہاں تک کہ اساتذہ تک دستیاب نہیں ہیں۔ اگراساتذہ بھرتی بھی ہوئے ہیں تو وہ ڈیوٹی نہیں دیتے جس کی وجہ سے لاکھوں بچے اسکولوںسے باہر ہیں۔
ملک میں عام انتخابات کی تیاریوں ا ور نگراں سیٹ اپ کے حولے سے سیاسی جماعتوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں، عام انتخابات اپنی آئینی مدت میں ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملک میں جمہوری تسلسل جاری رہ سکے۔ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتیں آئندہ عام انتخابات کے لیے مکمل تیار دکھائی دی رہی ہیں اور اس حوالے سے نگراں سیٹ اپ کی تشکیل کیلئے مشاورت جاری ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے جس طرح سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کے ذریعے اپنی سیاست کو چمکانے کی کوشش کی اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے قومی مفادات کو داؤ پر لگایاجبکہ دوست ممالک سمیت عالمی سطح پر بھی تعلقات خراب کئے۔