بلوچستان میں ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘قتل ایک انسان نہیں ہو رہا، پورا سماج لاش بنتا جا رہا ہے ہر سال درجنوں عورتیں اور نوجوان صرف اس لئے مار دیئے جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی جسارت کی لیکن اس قتل میں صرف کسی فرد کا ہاتھ نہیں ہوتا، یہ قتل ایک نظام کرتا ہے ،اس میں قبائلی، پدرشاہی، ظالمانہ اور ریاستی نظام شامل ہیں،
میڈم آج ہم نے دور کے گاؤں جاکر خواتین کو میسر غذائی اجزاء کے بارے میں بتایا ہے اور کچھ بچے کم وزن کے ساتھ ملے تھے جن کو ہم نے غذائی پیکٹس دیئے ہیں، ساتھ کے گاؤں کے 4 بچے اب نارمل وزن تک پہنچ گئے ہیں ضروری ہدایات کے ساتھ ان بچوں کو فارغ کر دیاہے۔
ضلع جعفرآباد کے قریب کے رہائشی غلام جان سے ملاقات اسکولوں کے وزٹ کے دوران ہوئی جب سب علاقے کے لوگوں کو لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کر رہے تھے۔۔ دوران گفتگو جب اسکول چھوڑ دینے والی بچیوں کو دوبارہ اسکول داخلے کے لیے آمادہ کر رہے تھے تو غلام جان نے کہا کہ میری بیٹی نے پانچ پاس کیا ہے آگے کوئی مڈل یا ہائی اسکول نہیں تھا