
سیاسی جماعتیں اگر وقت و حالات کے ساتھ اپنا جائزہ لینے سے قاصر رہے ،آئین و منشور کو فراموش کرتے رہے،آئین کو عمل میں لانے سے گریز کرتے رہے، افکار و نظریات پس منظرمیں چلے گئے،اظہار رائے کے آزادی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے،جمہوریت پسندی محض خواب ہی رہے ،تنقید برائے تعمیر خود ساختہ منصبی و شخصی وقار و آبرو کی بے توقیری سے مربوط رہے،سیاسی سوال منصبی و شخصی مخالفت سے منسلک ہوتے رہے،احتسابی عمل معیوب سمجھے جانے لگیں،کارکناں کی خدشات و تحفظات کی کوئی وقعت نہ رہے،آئین و منشور سے منحرف اراکین، عہدیداران اور نماہندگان کے خلاف موئثر تادیبی کاروائی(سزا و جزا کا عمل)ماند پڑھ جائے، تو یقینی طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کو وقت کی بے رحم موجیں بہا کر لے جاتی ہیںیا حالات کی سخت تپش انہیں پگھلا دیتی ہے۔