پاکستانی بلوچستان کا ساحل تقریباً ایک ہزار کلو میٹر طویل ہے جبکہ ایرانی بلوچستان کا ساحل دو ہزار کلو میٹر ہے جو ساحل مکران کہلاتا ہے اور مجموعی طورپر یہ تین ہزارکلو میٹر طویل ہے ۔ ان دونوں ممالک میں اس ساحلی پٹی پر 99فیصد آبادی بلوچوں کی ہے ۔ بلکہ گلف آف اومان کے آدھے حصے پر بھی بلوچ ہی آباد ہیں ۔
کوئٹہ: بلوچستان کے مری قبائلی علاقے میں سوئی سے بھی زیادہ بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے، یہ گیس کا ذخیرہ جندران کے علاقے میں دریافت ہوا ہے۔ یہ علاقہ مری اور کھتیران قبائل کے سنگم پر واقع ہے جہاں پر تیل اور گیس کی تلاش کا کام دہائیوں سے جاری
روز اول سے ہی کوئٹہ کے شہریوں کو ماس ٹرانزٹ کے حق سے محروم رکھا گیا ہے اور لوگوں کو دہائیوں پرانی بسوں اور رکشوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا کوئٹہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ یہاں پر ریل کا بہتر نظام موجود ہے
علاقائی معاشی گروپنگ میں روس کی اعلانیہ شرکت کے بعد پورے خطے کا معاشی منظر نامہ بدلتا نظر آرہا ہے اب یہ قوی امید پیداہوچکی ہے کہ روس گوادر ،چاہ بہار کی معاشی گزر گاہ کو تجارت کیلئے استعمال کر سکے گا۔ چین سے کہیں زیادہ روس معاشی فوائد حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔
کوئٹہ: بلوچستان میں جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کیلئے مقدمات تیار کر لئے گئے۔ جس کے تحت جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث افراد میڈیکل سٹورز اور جعلی ادویات بنانے والوں کو سخت سزائیں دی
گوستگیں ۳۵ سالاں بلوچستان ءِ سر شہر بوھگ ءَ ابید ہم کوئٹۃ یکشل ءَ ڈلگچار کنگ بوتگ ہر دور ءِ حکومتاں بلوچستان ءِ سر شہر ڈالچار کتگ پمشکہ اے شہرءَ مدام چہ بنکی آسراتیاں زبہر بوتگ چوکہ ایندگہ دمگانی شہر کراچی ،پشاور ،لاہور، ءُُ اسلام آباد دیمروئی ءِ نیمگ ءَ برتگ انت ۔راجکارانی حکومتاں اے شہر ءَ را بنکی آسراتیاں دئیگ ءِ بدل ءَ مدام وتی راجکاری کارندہاں
تاریخی طورپر کوئٹہ برطانوی استعمار کا ہیڈ کوارٹر رہا ہے ۔ یہ گیریژن ٹاؤن تھا اور برطانوی افواج کی چھاؤنی بھی ۔ یہاں پر تاج برطانیہ کا نمائندہ اے جی جی رہتا تھا ۔ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد کوئٹہ کی اہمیت چھاؤنی کی وجہ سے تھی اور ون یونٹ میں یہ کوئٹہ ڈویژن کا دارالخلافہ تھا۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد کوئٹہ بلوچستان صوبے کا دارالخلافہ بن گیا ۔ گزشتہ 35سالوں میں کوئٹہ کی یہ حیثیت برقرار ہے یہاں کے مقامی قبائل میں شاہوانی ‘ رئیسانی ‘ کرد‘ کانسی کے علاوہ بڑی تعداد میں ہزارہ قبائلی اور پنجابی آباد کار بھی تقریباً ایک صدی سے موجود ہیں۔