کوئٹہ : رواں سال کے وفاقی بجٹ میں گوادرپورٹ سٹی کو پاکستان بھر کے ریل لنک سے منسلک کرنے کیلئے اراضی خریدنے کیلئے ایک ارب 33کروڑ20لاکھ روپے رقم مختص کردیئے گئے ہیں گوادر پورٹ سٹی کو کراچی یاجیک آباد ریلوے لائن سے کنکیٹ کیا جائے گا ‘ مالی سال 2015-16ء میں وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ کے قریب ریلوے کنٹینر یارڈ کیلئے 88کروڑ20لاکھ روپے مختص کیے ہیں
اسلام آباد: کئی دہائی بعد پہلی بار فاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں گوادر کی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کیے گئے ہیں جس میں گوادر ڈیپ سی پورٹ اور اس سے منسلک منصوبے شامل ہیں ، وفاقی بجٹ 2015-16ء میں گوادر میں بین الاقوامی معیار کے ائیر پورٹ کی تعمیر کیلئے تین ارب روپے مختص کیے گئے ہیں
یہ ایک اچھی خبر ہے کہ ملک کے بڑے بڑے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ گوادر بندر گاہ تک پہنچنے والی گزر گاہ کہاں کہاں سے گزرے گی۔ جیسا کہ پہلے خیال تھا کہ یہ ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب ‘ کوئٹہ اور پھر گوادر کی بندر گاہ تک پہنچے گی۔ اس سے قبل پختون رہنماؤں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کو ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب شاہراہ سے نہیں گزارا گیا تووہ اس روٹ کو بننے نہیں دیں گے
پورے ملک میں یہ غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ گوادر کی بندر گا ہ کو راہداری یا گزر گاہ کی ضرورت ہے اکثر سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں نے اس خیال کو نہ صرف اپنا لیا ہے بلکہ خرید لیا ہے اور وہ اس خیال کو آگے فروخت کرنا چاہتے ہیں
حاکمیت اور اقتدار کے نمائش بہت ضرروی ہے خصوصاًاس کااظہار شان و شوکت سے ہو اس میں دو رائے نہیں کہ حکمران اور اقتدار لوگ پورے پاکستان میں یکساں طرز عمل کے حامی ہیں اور اس پر عمل در آمد کرتے ہیں اکثر معاملات سے معلوم ہوجاتا ہے
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انصار اللہ جنگجو جن کا تعلق حوثی شیعہ ملیشیاء سے بتایا جاتا ہے عدن شہر میں داخل ہوچکے ہیں اور رات گئے تک عدن کا ہوائی اڈہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاء کے قبضے میں چلا جائیگا اطلاعات آرہی ہیں کہ عدن ایئرپورٹ کا کنٹرول ٹاور شیعہ ملیشیاء کے قبضے میں چلا گیا ہے
سندھ رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف ایک کاری وار کی ہے نائن زیرو جو متحدہ کا پارٹی ہیڈ کوارٹر ہے اس پر اچانک اور قابل اعتبار اطلاعات کے بعد چھاپہ مارا ہے وہاں سے سزا یافتہ قاتل، سزائے موت کے قیدی، ٹارگٹ کلرز کے علاوہ بڑی تعداد میں جدید ترین اسلحہ برآمد کیا ہے
پورے ملک بشمول کراچی اور حیدرآباد میں افغان غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں ہورہی ہیں۔ مگر حکومت بلوچستان اب تک خاموشی کا لبادہ اوڑھے اونگھ رہی ہے کہ کب بلوچستان میں آبادی کا تناسب تبدیل ہوگا۔ بلوچ کتنی جلد اپنے ہی وطن میں اقلیت بن جائیں گے