تعلیمی بحران۔۔۔

| وقتِ اشاعت :  


قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان آج بھی احساس محرومی کی دھوپ میں پسماندگی کی تپش لیئے ترقی کے ڈگر پر ہچکولے کھا رہاہے۔۔۔۔ جہاں صحت و روزگار جیسی بنیادی سہولیات اب بھی عوام کی دسترس سے دور ہیں۔۔۔



پلی بارگین ، نیب کتنا قصور وار

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان خزانہ کیس میں سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی اور ٹھیکیدار سہیل مجید شاہ کے اعتراف جرم اور پلی بارگین کی درخواست نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جتنے منہ اُتنی باتیں، بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں، کوئی نیب کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے



ہاں یہ پریم کی بستی ہے

| وقتِ اشاعت :  


حسبِ معمول درس وتدریس کے عمل سے فارغ ہونے کے بعد جب تھکا ہارا رات کو گھر پہنچا توایک سفید رنگ کا لفافہ اپنے اندر ایک کارڈ کو سمیٹے میرے کمپیوٹر ٹیبل کی زینت بنا ہوا تھا ، فورًااس کارڈ کی طرف متوجہ ہوا



سی پیک اوربلوچ طلباء

| وقتِ اشاعت :  


سی پیک تو بلوچستان میں ہے مگر ترقی پنجاب میں ہورہی ہے ؟یہ سوا ل گوادر کی ایک طا لبہ نے خادم ۱علیٰ پنجاب جناب شہباز شریف سے پو چھا ۱س سو۱ل کا جواب دینے سے تو خادم ۱علیٰ قاصر رہے مگر ایک قہقہے کے بعد خاموشی اختیار کرلی۔!!! اس خبر کو میڈیا نے بہت چلایا اور اپنا ہیڈ لائن بنایا۔۔



تکبرانہ قہقہے اور زیردست کا احساس

| وقتِ اشاعت :  


بالادست و زیردست،آقا و غلام،جاگیردار و محنت کش، زمیندار و باجگزار،مالک و مزدور کا رشتہ کوئی نیا نہیں، اس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ رشتہ دنیا کا سب سے زیادہ تکلیف دہ رشتہ ہے.



ریگستان کا پیاسا گوادر

| وقتِ اشاعت :  


گوادر کی ترقی اور پاک چائنا اقتصادی راہداری کے چرچے اور گوادر کو سنگاپور بنانے کی خبریں اور اشتہارات کی برمار نے ہم جیسے پسماندہ ذہن رکھنے والوں کو کافی پریشان کر دیا ہے کہ گوادر تو ترقی کرکے کہاں پہنچا ہے اور ہم تعلیمی لحاظ سے کہاں کھڑے ہیں ۔کیا ہم آنے والے چلینجز کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔



پولیو تدارک ! ایک تعمیری عزم

| وقتِ اشاعت :  


کھیلوں کی دنیا کا ایک بہت بڑا نام لیکن جسمانی طور پر معذورکھلاڑی راجر کریفورڈکا کہنا تھا “آزمائشوں کا سامنا زندگی کے چند بنیادی حقائق میں سے ایک ہے جس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی، تاہم جدوجہد ترک کرتے ہوئے خود کو شکست کے دہانے پر لا کھڑا کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے”۔



بلوچستان کے ساحل پر غیر قانونی ٹرالنگ کے آسیب

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کی ساحلی پٹی 770میل طو یل ہے یہ نہ صرف اپنی جغرافیائی محل و وقوع کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ اپنے زرخیز اور قیمتی و نایاب آ بی حیات کی وجہ سے بھی اہم سمجھا جا تا ہے ۔ ڈام بندر سے لیکر جیونی کے نیلگوں پانی کے دہانے



سی پیک اورپیاسا گوادر

| وقتِ اشاعت :  


کوہِ باتل کے دامن میں دیمی زِ ر اور پدی زِر کے حسین سنگم سے ایک جزیرہ نما شہر گوادر سے میری بہت ہی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں ، جن کا تعلق میری روح سے سمٹی ہوئی اپنائیت اور محبت کے ساتھ سیاست کا وہ خارزار ہے کہ جس میں دکھ سکھ کے ساتھیوں کی ایک بڑی فہرست میری زندگی کے ہر پہلو میں پیوست نظر آتی ہے