حکومت اوراپوزیشن مارچ،تصادم کاامکان، سنگین مسائل کا خدشہ !

| وقتِ اشاعت :  


حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مارچ اور جلسے کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں ہیں، اب پارلیمان کے اندر اور باہر زبردست دنگل سجنے والا ہے یقینا یہ ایک محاذ آرائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ جو جنگ قانونی اور آئینی ہے اب میدان میں لڑی جارہی ہے اس امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا کہ اسلام آباد میں حکومت اوراپویشن کی جانب سے جلسے تصادم کا باعث نہیں بنیں گے بلکہ کارکنان کے درمیان بڑے تصادم اور کلیش کا سبب بن سکتا ہے۔



وزیراعظم اور اپوزیشن کے سرپرائز کاعوام کو انتظار

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی تبدیلی تو ویسے ہی آئے گی عدم اعتماد کی ناکامی اور کامیابی دونوں صورتوں میں سیاسی پارہ ہائی رہے گا کیونکہ اس وقت حکومت اوراپوزیشن دونوں نے یہ تہیہ کرلیا ہے کہ نہیں چھوڑنا ہے ۔وزیراعظم عمران خان اگر عدم اعتماد اور موجودہ سیاسی بحران سے نکل گئے تویہ گمان کیاجارہا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کے تعاقب میں لگ جائینگے جو گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے جاری ہے اس دوران اپوزیشن کے بڑے لیڈران کو جیل بھیجا گیا بعدازاں وہ رہا بھی ہوئے ،ضمانتوں پر بھی ہیں ۔نواز شریف کے متعلق حالیہ کاوے کا بیان بھی سامنے آچکا ہے



سیاسی جنگ اسمبلی کے باہر، نظام کی کمزوری کے اصل اسباب کیاہیں؟

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں جمہوریت کا تسلسل ویسے توچل رہا ہے گزشتہ دو حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی ہے گوکہ اس دوران وزیرا عظم تبدیل ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ دہائیوں سے چلتا آرہا ہے، ایسا بھی ہوا ہے کہ چند ماہ کے بعد حکومت تحلیل کردی گئی تو کبھی ڈیڑھ سال اور پھر چار سال کے قریب آتے ہی سیاسی بحران ضرور پیدا ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سیاسی کشمکش رہی ہے جمہوری حکومتوں کی رخصتی میں ہروقت سیاسی جماعتیں خود ہی پیش پیش رہی ہیں، سیاسی چپقلش نے نظام کو اس قدر کمزور کرکے رکھ دیا ہے کہ آج تک پارلیمان زیادہ مضبوط دکھائی نہیں دیتی۔ ہر معاملہ عدالتوںمیںجاتا ہے جس کی ایک واضح مثال موجودہ سیاسی کشیدگی ہے۔



بلوچستان میں شعبہ صحت پر توجہ دینے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں صحت کا مسئلہ سب سے زیادہ گھمبیر ہے گزشتہ کئی دہائیوں سے صوبے کے بیشتر علاقوں میں صحت کے مراکز غیر فعال ہیں جس کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہری علاج کے لیے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں جنہیں بڑی اذیتیں جھیلنے پڑتی ہیں اس میں بزرگ، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جب وہ کوئٹہ آتے ہیں تو انہیں بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں جن میں ڈاکٹروںکی ہڑتال، اوپی ڈیز کی بندش ،ادویات کا نہ ہونااور مشینری کی خرابی یہ وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہوناپڑتا ہے۔



واقعہ اسلام آباد میں واردات سندھ میں کیوں؟ طاقت کا استعمال کسی کے مفاد میں نہیں

| وقتِ اشاعت :  


ڈی چوک اسلام آباد میں سیاسی پاور شو سے قبل ہی سیاسی حالات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد سندھ ہائوس میں پی ٹی آئی اور اتحادی ارکان اسمبلی کے منظر عام پر آنے کے بعد نیا ہنگامہ برپا ہوگیا ۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گورنر راج لگایا جائے مگر اس کے لئے محض وزیر داخلہ کا ہارس ٹریڈنگ کاجواز ہی کافی نہیں کیونکہ گورنر راج اس وقت لگایا جاسکتا ہے جب ایمرجنسی جیسے حالات ہوں، امن و امان کی گھمبیر صورتحال ہو جو حکومتی ناکامی سبب بنے۔لیکن ایسے حالات سندھ میں تو ہیں ہی نہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ واقعہ اسلام آباد میں ہوا ہے اور واردات سندھ میں کی جائے گی تو اس پر سوالات اٹھیں گے، اس لیے جو آئینی اور سیاسی راستہ ہے وہ اپنایا جائے۔



سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین، بدلتے سیاسی حالات، دلچسپ مقابلہ جاری

| وقتِ اشاعت :  


سندھ ہاؤس میں موجود حکومتی اراکین کے نام سامنے آ گئے۔سندھ ہاؤس میں موجود حکومتی اراکین میں راجہ ریاض، باسط سلطان بخاری، نور عالم خان، ملتان سے رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ، نواب شیر وسیر سمیت دیگر شامل ہیں۔حکومتی رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ نے نام سامنے آنے پر کہا کہ اپنی مرضی سے سندھ ہاؤس آئے ہیں حکومت کا پیسوں کا الزام جھوٹ پر مبنی ہے۔ چند ماہ قبل ملتان میں ریسکیو 1122 کو 40 کروڑ روپے کی زمین عطیہ کی۔انہوں نے کہا کہ ہم پیسے لے کر بکنے والے نہیں ہیں۔نور عالم خان نے کہا کہ ہم لائے نہیں گئے بلکہ خود آئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ یا کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تو کہا گیا کیا آپ پیپلز پارٹی میں ہیں۔ میرے حلقے میں گیس نہیں آتی کوئی بات سننے والا نہیں ہے۔



حکومتی اتحادی پچ کے دونوں طرف، پی ٹی آئی اپوزیشن مدِ مقابل

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جب سے عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی ہے ملکی سیاست میں ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ حکومت اوراپوزیشن نے اب تک درجنوں پریس کانفرنس ،مارچ اور جلسے کئے ہیں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ بھی زوروں پرہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین سمیت حکومتی اتحادیوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اہم ملاقاتوں کے دوران کچھ لو، کچھ دو پر بات کی ہے جبکہ پنجاب میں بھی تبدیلی کے حوالے سے فیصلے کئے گئے ہیں۔



تصادم کسی کے مفاد میں نہیں

| وقتِ اشاعت :  


اسلام آباد ڈی چوک پر سیاسی دنگل یا محاذ آرائی ہونے جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک والے روز دس لاکھ کا مجمع اکٹھاکرنے کا اعلان کیاگیا ہے اور بتایاجارہا ہے کہ جشن منایاجائے گا تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض ذمہ داران یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ووٹ کاسٹ کرنے والے اسی راستے سے ہی ووٹ کاسٹ کرکے آئے اور جائینگے۔ اب اس جملے کا کیا مطلب نکالاجائے ،کیا یہ جمہوریت کے برعکس نہیں ۔یہ بھی بالکل ٹھیک نہیں کہ اپوزیشن کی اپنی نجی ملیشیاء ارکان قومی اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سیکیورٹی کے نام پر وہاں مامور رہے۔



سیاسی برتری کی جنگ، نظام میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں

| وقتِ اشاعت :  


ملک کو 70سال سے زائد کاعرصہ ہوگیا، مختلف حکومتیں بنیں اور چلی گئیں۔ بہت ہی کم حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی جبکہ وزرائے عظم میں سے تو بیشتر رخصت ہوتے رہے ہیں۔ 2008ء سے لیکر اب تک ایک تسلسل جمہوریت کا چل رہا ہے مگر اس دورانیہ میں بھی وزیراعظم تبدیل ہوئے ہیں گویا ایک تسلسل جو جمہوریت کی ہے اس میں اب تک بہت سی خامیاں موجود ہیں او ر اس کی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کی آپس کے اختلافات اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے معاملا ت ہیں۔ سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک مخصوص گروپ اس سیاسی گہما گہمی میں اپنے مفادات کے تعاقب میں تاک لگائے بیٹھاہے کہ کس جانب پلڑا بھاری ہوگا وہاں اپناحصہ ڈال کر اپنے مفادات کو حاصل کرسکے۔ یہی مخصوص گروپ ہر حکمران جماعت میں اہم وزارتوں اور عہدوں پر دہائیوں سے دکھائی دے رہاہے ۔