دنیا میں پاور پالیٹکس کی اہمیت بہت زیادہ ہے عالمی طاقتوں نے ہر وقت اپنے مفادات کے تحفظ اور معیشت کو تقویت دینے کے لیے تیسری دنیا کے ممالک کو زیرعتاب رکھا۔ پہلی اوردوسری جنگ عظیم میں سب سے بڑی کالونی بننے والے ممالک پر عالمی طاقتوں کا غلبہ صدیوں تک برقرار رہا اور انہی ممالک کے روٹس، جنگ کے لیے افرادی قوت، وسائل استعمال کرتے رہے مگر جیسے ہی دوسری جنگ عظیم اپنے اختتام کو پہنچی تو الگ بلاک بننا شروع ہوگئے اور ایک نئی جنگ جسے معاشی جنگ قرار دیا گیا اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اتحادوں کی تشکیل شروع ہوئی جو تاہنوز جاری ہے۔
خواتین کے معاملے میں بعض ممالک میں حساسیت پائی جاتی ہے اور ہر وقت کسی نہ کسی حوالے سے خواتین زیر بحث آتی رہتی ہیں جیسا کہ پاکستان میں عورت مارچ، میرا جسم میری مرضی جیسے معاملات پر بھی زبردست بحث ہوتی ہے بعض حلقے اسے خواتین کا جائز حق جبکہ بعض سلوگن پر مبنی نعروں پر کڑی تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ خواتین کو اس طرح کی سلوگن لیکر نہیں آنا چاہئے مگر اس بات کو لیکر کوئی مثبت سوچ سامنے نہیں لاتا کہ خواتین کی جوآزادی ہے۔
ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے روز مرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جو غریب عوام کی دسترس میں ہو۔عوام اس وقت بدترین مالی مسائل سے پریشان ہیں تو دوسری جانب آئے روز اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کے باعث ان کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے اس جانب کسی سطح پر بھی توجہ نہیں دی جارہی ہے یہ کہنا کہ اگلے چند روز یا مہینوں میں صورتحال بہتر ہوگی قرین قیاس نہیں لگتا کیونکہ ہر چیز ابتری کی طرف جارہی ہے۔
معروف دانشور، مصنف ،بزرگ صحافی لالا صدیق بلوچ کی چوتھی برسی آج6 فروری کو منائی جارہی ہے۔برسی کے موقع پر لالا صدیق بلوچ کے کالموں کے مجموعہ پر مبنی کتاب ” صدیق بلوچ ء گچین اوتاگ” کی رونمائی بھی ہوگی۔ لالا صدیق بلوچ کا شمار ملک کے بڑے صحافی اور تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی سیاسی و صحافتی زندگی میں بلوچستان کے حقوق کو ملک سمیت دنیا بھر کے مختلف فورمز پر اجاگر کیا خاص کر بلوچستان کے حقیقی سیاسی معاملے کا مقدمہ اپنے کالموں، تجزیوں میں پیش کیا جس سے اس کے ناقدین بھی اتفاق کرتے تھے کہ لالا صدیق بلوچ جن سیاسی، معاشرتی اور سماجی مسائل کے حل کی تجویز پیش کرتے ہیں اگر ان پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو بلوچستان کے بیشتر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے ن لیگی قیادت سے ملاقات کے بعد حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مطالبہ کردیاتاہم ن لیگ نے حتمی فیصلہ نواز شریف پر چھوڑ دیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان اہم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عوام کا اعتماد حکومت سے اٹھ گیاہے، اب پارلیمان کا اعتماد بھی حکومت سے اٹھ جانا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے، ملک بچانا ہے تو حکومت کو گرانا ہوگا۔ میڈیا سے بات چیت میں شہباز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تجاویز میاں نواز شریف کے سامنے رکھیں گے۔
کورونا وائرس نے جس طرح عام لوگوں کی زندگی میںمشکلات پیدا کیں ،وہیں ادویات، طبی آلات بنانے والی کمپنیوں نے لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ نجی لیبارٹریز نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ بھی شہریوںکو دونوں سے ہاتھوں سے لوٹتے رہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ اس بحرانی کیفیت کے دوران بھی مافیاز غریب عوام کاخون چوسنے میں مصروف رہے ،یہ وہی مافیاز ہیں جو غذائی خوراک سے لے کر ہر اشیاء کو ذخیرہ کرکے منافع خوری کرتے ہیں جبکہ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں ۔ بااثرشخصیات کے نام بھی اس دوران سامنے آئے مگر قانون کی گرفت ان پر نہیں رہی۔
ملکی گرتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ متحرک ہوگئے ہیں ملک میں معیشت کے پہیہ کو ٹریک پر لانے اور اس کی ترقی کے حوالے سے تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لینے کے ساتھ تاجر برادری کے ساتھ نشستیں بھی لگائی جارہی ہیں جوکہ خوش آئند ہے۔گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کا معروف صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ حکومت عالمی منڈی میں مہنگائی اور اس کی وجہ سے عوام پر بوجھ کا احساس رکھتی ہے۔
حکومت اور مسلم لیگ ن کے درمیان شدید اختلافات اب تک موجود ہیں سب سے زیادہ اختلافات اس پورے دورانیہ میں اپوزیشن جماعتوں میں ن لیگ کے دیکھنے کو ملے جبکہ پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بعض معاملات پر لچک کا مظاہرہ دکھایا ضرور گیا ہے مگر بات اس طرح بنی نہیں کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں پی ٹی آئی کے قریب آسکیں ۔فی الحال ملک کے اندر دو بڑی جماعتیں مدِ مقابل ہیں اور اس میں نواز شریف کی واپسی سمیت لیگی رہنماؤں پر کیسز کا معاملہ ہے دونوں اطراف سے سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے ایک طرف یہ بات کہی جاتی ہے کہ ن لیگ کے چند اہم مرکزی کردار بیک ڈور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے کرکے شریف خاندان کو سائیڈ لائن کرنا چاہتے ہیں
ملک بھرکے شہروںکا سب سے بڑا مسئلہ بلدیاتی اداروں کے بے اختیار ہونے کا ہے جس کی ایک واضح مثال بلوچستان ہے ملک کا نصف حصہ ہونے اور منتشر آبادی کی وجہ سے شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک بہت ہی گھمبیر مسائل میں گِرے ہوئے ہیں اس سے قبل جتنے بھی بلدیاتی نمائندگان آئے انہیں کسی نہ کسی طرح کام سے روک لیا گیا اور ایم پی ایز، وزراء ان کے فنڈز پر سانپ کی طرح بیٹھے رہے، انہیں فنڈز فراہم نہیں کیا، بلدیاتی نمائندگان ہر وقت فریادیں کرتے دکھائی دیتے تھے کہ انہیں بااختیار کرکے باقاعدہ فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ جن غریب عوام سے انہوں نے ووٹ لیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک باپھر اضافے کا امکان ہے جس کے بعد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پیٹرولیم مصنوعات جائینگی یقینا اس سے براہ راست عوام ہی متاثر ہونگے کیونکہ پہلے سے ہی ملک میں مہنگائی کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے عام لوگوں کے دسترس سے روز مرہ کی اشیاء… Read more »