اومی کرون ویرینٹ،ایک بار پھر دنیا کی معیشت متاثرہونے کاخطرہ

| وقتِ اشاعت :  


کورونا کی نئی قسم نے دنیا کے بیشتر ممالک کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا ہے تیزی سے پھیلنے والا نئے وائرس کی وجہ سے بیشتر ممالک نے ابتدائی طور پر سفری پابندیاں عائد کرنا شروع کردی ہیں جبکہ عالمی سطح پر معاشی حوالے سے تیل پر بھی اس کے منفی اثرات پڑنے شروع ہوگئے ہیں ،خدانخواستہ اس نئی شکل نے اگر پنجے گاڑنا شروع کردیئے اور لوگوں کو متاثرکیا تو ایک بار پھر پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوجائے گی اور لوگوں کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوجائینگی خاص کر پاکستان ان دنوں شدید بحرانات کا سامنا کررہا ہے اس لیے ضروری ہے کہ حکومت پیشگی اقدامات اٹھانا شروع کردے جو بھی ضروری احتیاطی تدابیر ہیں۔



افغانستان میں اشتراکی حکومت ضروری ہے

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان اور بھارت کے درمیان ابتدائی رابطے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ابتدائی رابطے کا بنیادی مقصد انسانی بنیادوں پر واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی گندم اور ادویات کو افغانستان بھیجنا ہے۔بھارتی جریدے کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذریعے انسانی امداد افغانستان بھیجنے کے لیے بھارت نے جو تجاویز اکتوبر میں دیے تھے ان کا پاکستان نے 24 نومبر کو جواب دیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت انسانی بنیادوں پر واہگہ بارڈر کے ذریعے 50 ہزار ٹن گندم اور ادویات افغانستان بھیجنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اسی حوالے سے گفت و شنید ہو رہی ہے۔



آڈیواور ویڈیولیکس کی سیاست

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ چند ماہ کے دوران ویڈیواور آڈیولیکس نے سیاسی ماحول کوخاصہ گرمایا ہواہے، ججز اور سیاستدانوں کی ویڈیو ز اورآڈیوز لیکس ہونے کے بعد ایک نئی سیاسی بحث جہاں چھڑ چکی ہے وہیں اداروں کے ماضی کے فیصلوں اور سیاسی جماعتوں کی حکمرانی پرسوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ یکے بعد دیگر حملے سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے پر جاری ہیں پہلے کارکردگی اور کرپشن کے معاملات پر بیان بازی پریس، کانفرنسزدیکھنے کو ملتے تھے اب ہر نئے روز یہ انتظار رہتا ہے کہ کوئی نئی ویڈیویا آڈیوتو منظر عام پر نہیں آرہی اور اس میں کونسے راز سامنے آنے والے ہیں ۔بہرحال گزشتہ دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے جڑی ایک مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے۔



لاپتہ طلباء کے اغواء کامعاملہ، بلوچستان میں بنیادی مسئلہ اور سوال اپنی جگہ موجود!

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان یونیورسٹی میں لاپتہ دو طلباء کی بازیابی کے حوالے سے گزشتہ کئی روز سے احتجاجی دھرنا جاری ہے، طلباء تنظیموں کی جانب سے یہی مطالبہ کیاجارہا ہے کہ دونوں طلباء کی بازیابی تک ہم اپنااحتجاج جاری رکھیں گے جبکہ حکومت کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب ہمیں نہیں مل رہا اور ملاقاتیں بھی بانتیجہ ثابت نہیں ہورہی ہیں جب تک عملی طور پر اقدامات نہیں اٹھائے جائینگے اور ہمیں مطمئن نہیں کیاجائے گا ہم اپنا احتجاج نہ صرف بلوچستان یونیورسٹی بلکہ بلوچستان سمیت اسلام آباد تک مارچ کرکے پھیلائینگے۔



بلندوبالاعمارتوں کیخلاف اعلیٰ عدلیہ کے بڑے فیصلے

| وقتِ اشاعت :  


ملک میںایک اور بڑا مسئلہ غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات کاہے ۔ شاید ہی کوئی ایسا صوبہ ہو جہاں پر رقم دے کر بلندوبالاعمارتیں تعمیر نہ کی گئیں ہوں ۔افسوس کا عالم ہے کہ پورا ایک کرپٹ مافیا ہے جس کا جال ملک بھر میں پھیلا ہو اہے اور یہ کام میونسپل کارپوریشن کے آفیسران کی ناک کے نیچے ہوتا ہے, اس کے ساتھ ان کی سرپرستی سیاسی حوالے سے بھی کی جاتی ہے ۔ اگر ملک بھر میں رہائشی پلازوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے بیشتر غیرقانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ انہیں نقشے رقم کے عوض جاری کئے گئے ہیں مگر کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا مگر جب سے اعلیٰ عدلیہ نے کراچی میں غیرقانونی عمارتوں کے معاملے پر ہاتھ ڈالا ہے تو بلڈرمافیاز کے ہوش اڑگئے ہیں۔



اشرافیہ ٹیکس سے بری الذمہ ، تمام بحرانات کا بوجھ عوام کے کندھوںپر

| وقتِ اشاعت :  


ملک کے اندر بڑے بحرانات کا ملبہ ہر وقت عوام پر ہی گِرا ہے ستر سال سے زائد عرصے کے دوران عوام نے بہت سی مصیبتیں جھیلیں ہیں ، ملک کو جب بھی چیلنجز کا سامنا ہوا تو عوام اس میں پیش پیش رہی، شاید ہی کوئی ایسا موڑ ہو جہاں عوام ریاست کے ساتھ کھڑی دکھائی نہ دیتی ہو۔ آج بھی ملک شدید بحرانات کا شکار ہے تو عوام اس بحرانی کیفیت کو بھی برداشت کررہی ہے بڑے پیمانے پرلوگوں پر مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔



سردی کی آمد،گیس بحران، عوام کی مشکلات حل کرنے کاکوئی فارمولہ نہیں

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان میں جیسے جیسے سردی بڑھ رہی ہے گیس بھی نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ملک کے بیشتر شہروں میں سردی میں اضافے کے ساتھ ہی گیس لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی ہے جس کے باعث گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کراچی، پشاور، کوئٹہ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، ملتان، سکھر، میرپور خاص میں گیس کی قلت نے شہریوں کو آٹھ آٹھ آنسو رلا دیا ہے۔مہنگائی کے طوفان میں روز روز باہر کا کھانا بھی چیلنج بن گیا ہے جبکہ بلوچستان میں گھریلو صارفین دُہری اذیت کا شکار ہیں اور گرم چائے سے محروم شہری خون جماتی سردی میں گیس ہیٹر جلانے سے قاصر ہیں۔گھریلو صارفین کے علاوہ ملک کے مختلف صنعتی علاقوں میں بھی گیس کی قلت سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔



ملک میں معاشی بحران، عوام کیلئے خوشخبری ایک خواب

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں مہنگائی کے اعداد وشمارمیںاضافہ ہوتاجارہا ہے اشیاء خورد ونوش سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہورہا ہے شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جس کی قیمت کم ہوئی ہو، عام لوگوں کے لیے اب تو مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور صورتحال اس طرح دیکھنے کو مل رہی ہے کہ آئندہ مہنگائی مزید بڑھے گی، کوئی پالیسی نظر نہیں آرہی کہ مہنگائی پر قابو پایاجاسکے ۔بارہا یہی کہاجارہا ہے کہ عوام کو تسلیاں دی جارہی ہیں ناقص منصوبہ بندی اور پالیسیو ں کاملبہ ماضی کی حکومتوں کے گلے ڈال کر جان چھڑائی جارہی ہے مگر یہ پالیسی کب تک اس طرح جاری رہے گی۔



پارلیمان کی مضبوطی ہی چیلنجز کا حل ہے

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ تین سے چار سالوں کے دوران ملکی سیاست میں سب سے بڑی بحث اداروں کی سیاسی مداخلت پر رہی ہے اور یہ باتیں خود سیاسی جماعتیں ہی کرتی آرہی ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ، فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا معاملہ ہو یا پھر خبروں اور تجزیوں میں ہر ادارے کو ہدف بناکر یہی کہا گیا کہ مخصوص ایجنڈے پر اور ڈکٹیشن کے ذریعے یہ سب کچھ ہورہاہے۔ بدقسمتی سے تمام سیاسی جماعتوں نے ہر وقت اپنے من پسند اورتعریف کے عمل کو ہی پسند کیا ہے چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن اداروں کو نشانہ بناتے آئے ہیں یہی المیہ ہے کہ آج پارلیمان اس طرح مضبوط نہیں جس طرح سے ہونا چاہئے تھا ۔حکومتوں نے اپنے من پسند بلز کے ذریعے اپنے مفادات اور خواہشات کی تکمیل کو یقینی بنایا تاکہ ان کے لیے مستقبل میں بھی حکومتی ایوانوں تک رسائی کے راستے صاف ہوں ۔



ای وی ایم مشین،بلوچستان میں کس حد تک عمل ممکن ہوگا؟

| وقتِ اشاعت :  


وفاقی حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین بل پاس کرنے میں کامیاب ہوگئی مگر ای وی ایم کا مستقبل کیا ہوگا،اس پر سوالات بہت اٹھائے جارہے ہیں کہ کس طرح سے اس کی شفافیت ممکن ہوگی، کیا ٹمپرنگ نہیں ہوگی ،اس کی گارنٹی کون دے گااور کس طرح سے پورے انتخابی عمل کو شفاف طریقے سے مکمل کیاجائے گاکیونکہ بعض ممالک میں ای وی ایم کے ذریعے انتخابات پر بہت زیادہ سوالات اٹھائے جاچکے ہیں دھاندلی کے الزامات بھی لگے ہیں یہ کہنا کہ مکمل طور پر اس میں شفافیت ہوگی توایسا نہیں ہے البتہ یہ پورے نظام کے اوپر منحصر ہے اور اس میں الیکشن کمیشن کا کلیدی کردار ہوگا ۔ دوسری جانب ملک کے ایسے حصے ہیں جہاں مواصلاتی نظام اور نیٹ تو موجود ہی نہیں ہے خاص کر بلوچستان کا بہت بڑاحصہ اس سہولت سے محروم ہے جس کی ایک مثال کورونا وباء کے دوران آن لائن امتحانات میں سامنے آیا۔