ایف ایس او راڈینٹ نامی بحری جہازکامعمہ اب تک حل نہیں ہوسکا ہے محکمہ ماحولیات کی متضاد رپورٹ نے بہت سارے سوالات کھڑے کردیئے ہیں، سب سے پہلے اس انڈونیشین جہاز کا ذکر انتہائی ضروری ہے کہ کن ممالک سے ہوتا ہوا یہ جہاز بلوچستان کے سمندری علاقے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ تک پہنچا اور کیونکر دیگر ممالک نے اس جہاز کو اپنے ساحل پرلنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی۔ مال بردار جہاز کی لمبائی229میٹر ہے یہ انڈونیشیاء کے ایک نجی کمپنی کی ملکیت تھی، اسکی عمر 38سال بتائی جاتی ہے اس جہاز کے مالک نے ا ربوں روپے کا منافع کمانے کے بعد اسے بنگلہ دیش کے ایک نجی شپ بریکر یارڈ کمپنی کو فروخت کردیا،جہاز جب بنگلہ دیش کے ساحل پر پہنچاتو انٹر پول اور عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے بنگلہ دیش کی حکومت کو اطلاع دی گئی کہ اسکے توڑنے سے ماحولیات میں تباہی مچ جائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کا خطرہ بالکل ٹل گیا ہے ، بلوچستان عوامی پارٹی کے بیشتر اراکین وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ ہیں باپ کے دوارکان کی ناراضگی کو بھی ختم کرنے کے حوالے سے سینئر ارکان سرگرم ہیں ، بلوچستان عوامی پارٹی کی ایک اہم شخصیت کے مطابق چندماہ قبل یقینا معاملات خراب تھے اور سینئر ارکان کے شکوے وزیراعلیٰ بلوچستان سے تھے کہ انہیں بعض معاملات پر اعتماد میں نہیں لیاجاتابلکہ تمام تر حکومتی امور پر مشاورت چند مشیران سے کی جارہی تھی اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے قریب چند سینئر ارکان نے صورتحال سے انہیںآگاہ کیاتھا کہ اگر اپنے ارکان کی ناراضگی کو نظرانداز کرینگے ۔
عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 84 اموات اور 1 ہزار 923 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 21 ہزار 189 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 30 ہزار 511 ہے۔ملک بھرمیں ایکٹو کیسز کی تعداد 48 ہزار 937 ہے اور 8 لاکھ 60 ہزار 385 افراد کورونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں.
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہمارے یہاں جمہوریت اور پارلیمان کی مضبوطی میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک مخصوص اشرافیہ رہی ہے جو آج بھی سیاسی میدان میں موجود ہے جو جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا راگ الاپ کر تھکتا نہیں اور یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ عام لوگوں کو اس کا علم نہیں کہ کس طرح سے اس اشرافیہ نے چور دروازے کا سہارہ لیتے ہوئے سیاست کے میدان میں یکدم سے نمودار ہوا اور راتوں رات سیاستدان بننے کے ساتھ حکمران بن گئے۔
ملک میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ دہائیوں سے چلتا آرہا ہے مگر مستقل بنیادوں پر کسی بھی حکومت نے اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ہر بار یہ بڑا تنازعہ بن کر سامنے آتا ہے اور صوبے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگاتے ہیں اس صورتحال سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہمارے یہاں کوئی مستقل پالیسی پانی کی تقسیم کے حوالے سے موجود نہیں اگر کوئی میکنزم ہوتا تو یہ تنازعہ ہر بار سر نہیں اٹھاتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ بات سننے کو مل رہی ہے کہ پانی کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس بحران کے خاتمے کیلئے بڑے ڈیمز تعمیر کئے جائینگے تاکہ ملک سے آبی قلت کا کا خاتمہ ہوجائے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پانی کے بغیر یقینا زراعت کا شعبہ ترقی نہیں کرسکتا اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیاجائے تو پانی کی تقسیم اور بحران نے زراعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ملک میں گزشتہ تین حکومتوں کے دوران وفاقی حکومتوں کی جانب سے ہر وقت یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہمارے دور میں بلوچستان کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی اور فنڈز میں اضافہ کیا گیاتاکہ بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کا خاتمہ ہوسکے ۔مگر بلوچستان میں ترقی اور انفراسٹرکچر کی صورتحال سب کے سامنے عیاں ہے کہ صرف گزشتہ تیس سالوں کے دوران حکومتوں کے دعوؤں اور زمینی حقائق کا جائزہ لیاجائے تو تمام دعوے کھل کر سامنے آجائینگے کہ بلوچستان دیگر صوبوں کی نسبت ترقی کے حوالے سے کہاں کھڑاہے؟
این سی او سی نے گزشتہ روز آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے خط لکھا ہے جس میں 2ماہ کیلئے انتخابات کو ملتوی کرنے کاکہا گیا ہے، این سی او سی کے اس خط کو بعض حلقے شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں کہ اس عمل کے پیچھے پی ٹی آئی کی حکومت شامل ہے تاکہ آزاد کشمیر میں انتخابی گراؤنڈ بنانے میں پی ٹی آئی کو وقت مل سکے کیونکہ موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن ایسی نہیں کہ وہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکے ۔
افغانستان میں امن و امان کا مسئلہ اپنی جگہ ابھی تک برقرار ہے جس کی بڑی وجہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں غیر سنجیدگی ہے اور اس کی ذمہ داری امریکہ پر عائدہوتی ہے جس نے افغان حکومت کو مکمل بے اثر کرکے رکھ دیا ہے ۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے صرف دو ہی فریقین مذاکرات کرتے آرہے ہیں جن میںطالبان اور امریکہ شامل ہیں جبکہ افغان حکومت کا کوئی خاص کردار اب تک نظر نہیں آرہا ۔دوسری جانب بین الافغان مذاکرات میں بھی کوئی خاص پیشرفت نہیں ہورہی جو دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کا حصہ ہے ،یہ معاملہ افغانستان میں قیام امن کیلئے انتہائی غیرمعمولی ثابت ہوگا کیونکہ خطرہ ہے کہ دوبارہ مختلف گروپس منظم ہونگے جبکہ شمالی اتحاد بھی مسلح ہونے میںتاخیر نہیں کرے گی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر کا گزشتہ روزاسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فلسطین پر بے عملی اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے پچھلے ہفتے فلسطین کی صورتحال پر میٹنگ بلائی، اس میٹنگ کا مقصد تھاکہ سکیورٹی کونسل کی خاموشی اور ڈیڈلاک کا ازالہ کیا جائے، اس اہم معاملے پر بے عملی اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے، امید ہے سکیورٹی کونسل میں بھی اس اہم اور ضروری مسئلے پر متفقہ آواز سنائی دے گی۔
پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، دونوں ممالک نے بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کردئیے۔پاکستان اور روس کے درمیان دو ارب ڈالر سے زائد کے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پروجیکٹ (این ایس جی پی پی) پر کام شروع کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط گزشتہ روز وزارت توانائی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیاگیا۔ پاکستان کے سفیر شفقت محمود اور روس کے وزیر توانائی نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میںبتایا گیا کہ معاہدے سے نارتھ سائو تھ گیس پائپ لائن کی تعمیر کے منصوبے پر پیش رفت تیز ہوگی۔ معاہدے کے 60 روز کے اندر پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن قائم کی جائے گی۔ کمپنی پائپ لائن منصوبے پرعملدرآمد کرائے گی۔