کوروناوائرس کا چیلنج، غیرذمہ داری گھمبیر صورتحال پیدا کرسکتی ہے

| وقتِ اشاعت :  


کورونا وائرس کی تیسری لہر کی شدت زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے، دنیا بھر میں ایک بار پھر کورونا وائرس کے کیسز زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں بعض ممالک میں صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جہاں اسپتالوں میں لوگوں کو رکھنے کی گنجائش بھی ختم ہوچکی ہے اور اسپتالوں میں وینٹی لینٹر اور آکسیجن کی کمی کے باعث کثیر تعداد میںاموات واقع ہورہی ہیں جس کی واضح مثال بھارت ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں جبکہ اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے ۔مگر پاکستان میں صورتحال قدرے بہتر ہے البتہ الارمنگ صورتحال ہے اگر احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو یقینا کورونا کاپھیلاؤ تیز ہوگا اور اس سے انسانی جانوںکے ضیاع کا خطرہ پیدا ہوگا لہٰذا اب عوام کو ذمہ داری کے ساتھ احتیاطی تدابیر اور ایس اوپیز پر عمل کرنا ہوگا کیونکہ حکومت اب سخت فیصلے کرنے جارہی ہے جس کی وجہ کوروناوائرس کے دوران احتیاط نہ کرنا ہے۔



طالبان کی امن کانفرنس میں عدم شرکت، افغان امن عمل کامستقبل؟

| وقتِ اشاعت :  


افغان طالبان نے ترکی امن کانفرنس میں شرکت طالبان قیدیوں کی رہائی سے مشروط کردی۔طالبان کاکہنا ہے کہ کانفرنس میں شرکت کے بدلے امریکا طالبان رہنماؤں پرعائد پابندیوں کے خاتمے کو یقینی بنائے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ترکی میں 24اپریل کو ہونے والی افغان امن کانفرنس طالبان کی غیر حاضری کے باعث عید الفطر کے بعد تک ملتوی کردی گئی ہے۔ ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو کا کہنا ہے کہ کانفرنس کو طالبان کی شرکت یقینی نہ ہونے پر ملتوی کیا گیا کیونکہ طالبان کے بغیر کانفرنس کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔



بلوچستان سے دہشت گردی کاخاتمہ، نیشنل ایکشن پلان پر جنگی بنیادوںپر عمل کرنے کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے زرغون روڈ سرینا چوک پر نجی ہوٹل کے پارکنگ میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاںبحق جبکہ 12افراد زخمی ہوئے ۔پولیس کے مطابق کوئٹہ کے زرغون روڈ پر مقامی ہوٹل کے پارکنگ میں زورداردھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔دھماکے سے ہوٹل کے پارکنگ میں کھڑی متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی،لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیاگیا ،زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے۔جاں بحق افراد میں2 سیکیورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے جبکہ دھماکے میں 2 اسسٹنٹ کمشنرز بھی زخمی ہوئے۔



ملک میں انتشارکاماحول، سیاسی جماعتیں کیاروڈمیپ تیارکرینگی؟

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ چند روز سے ملک میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب تھی اور اس کی وجہ کالعدم تنظیم کی جانب سے دھرناتھا اور اس جماعت کی جانب سے پہلی بار دھرنا نہیںدیاجارہا تھااور نہ ہی یہ مسئلہ پہلے والے دھرنوں سے الگ ہے۔ فیض آباد دھرنے سے لیکر اب تک اس تنظیم کامطالبہ وہی ہے جس پر باقاعدہ ن لیگ اور پھرموجودہ حکومت نے تحریری معاہدہ کیا تھا اس احتجاج اور معاہدے کے حوالے سے پہلے جو کچھ حکومتوں کی جانب سے کیا گیا اب اسی پر زیادہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔بہرحال ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاناانتہائی ضروری ہے۔



شوکت ترین کی ترجیحات معاشی تبدیلی ثابت ہو،ناکہ قلمدان کی تبدیلی

| وقتِ اشاعت :  


وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔گزشتہ روز میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ آج وزارت خزانہ میں میرا پہلا دن ہے اور 11 سال بعد وزارت خزانہ میں آیا ہوں، مجھے نہیں معلوم یہاں کیا ہورہا تھا۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد اپنی ترجیحات کا اعلان کروں گا جب کہ آئندہ بجٹ کی تیاری شروع کردی ہے، بجٹ پر وزارت خزانہ سے بریفنگ لی ہے، اس کے علاوہ 2 گھنٹے کے دوران معاشی امور پر بریفنگ لی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری کے لیے بہت سے منصوبے ہیں، میڈیا کو ترجیحات سے آگاہ کروں گا۔



ڈریپ کا احسن اقدام ،معیاری ادویات کی عوام تک رسائی ممکن ہوگی

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے صوبائی حکومتوں کو خط لکھ کر کہا ہے کہ سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ڈاکٹر برانڈڈ ادویات کا نام لکھنے کی بجائے دوا کا فارمولہ تجویز کیا کریں۔ پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے یہ خط وزیر اعظم ڈیلیوری یونٹ کی ہدایت پر لکھا ہے۔ڈائریکٹر فارمیسی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ڈاکٹر عبدالرشید کی جانب سے لکھے گئے خط میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے سیکریٹری صحت اورچیف کمشنر اسلام آبادسے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کسی برانڈڈ ادویہ کا نام تجویز کرنے کے بجائے عام فارمولہ تجویز کریں۔



مکران سے منسلک پاک ایران سرحد کی بندش،غریب عوام کی دادرسی کون کریگا؟

| وقتِ اشاعت :  


مکران سے منسلک پاک ایران سرحدکی بندش کے باعث لوگوں کا ذریعہ معاش تباہ ہوکر رہ گیا ہے مکران سمیت دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی آبادی کا معاشی پہیہ اسی سرحد کے ساتھ جڑا ہوا ہے جب سے اس کی بندش کا معاملہ سامنے آیا ہے سیاسی ، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج اور ردعمل سامنے آرہاہے کہ جلد ازجلد سرحد کوکھول دیاجائے تاکہ معاشی سرگرمیاں بحال ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی بڑی تعداد جو بیروزگاری کے باعث نان شبینہ کا محتاج ہوکر رہ گئی ہے وہ ان گھمبیر مسائل سے نکل سکیں۔



ملک میں بڑھتی مہنگائی، حکومتی دعوے، آئی ایم ایف کی پالیسی

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کیلا، ٹماٹر، آلو، آٹا، گوشت اور گھی مہنگا ہو گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ ہفتہ وار جائزہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کیلا 16 روپے 22 پیسے فی درجن مہنگا ہوا ہے۔ اسی طرح ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر 7 روپے 16 پیسے، آلو 3روپے 17 پیسے فی کلو مہنگا ہواہے جبکہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 26 روپے 9 پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بیف 4 روپے 62 پیسے فی کلو مہنگا ہوا۔



پاک بھارت بیک ڈورمذاکرات،مستقل بنیادوں پر امن سب کی خواہش

| وقتِ اشاعت :  


متحدہ عرب امارات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کے کردار کی تصدیق کر دی۔واشنگٹن میں یو اے ای کے سفیر یوسف العتیبہ کا ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع پر کشیدگی کم کروانے اور سیز فائر کروانے میں اہم کردار ادا کیا، توقع ہے ان کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا پاکستان اور بھارت شاید اچھے دوست تو نہ بن سکیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ دونوں آپس میں بات چیت تو کریں۔



مکافات عمل، ملک میں بڑھتے تشددکارجحان، سیاسی جماعتوں کاکردار

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ چند روز سے ملک کے بعض شہروں میں حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں ، ایک مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کیاجارہا ہے اور اس دوران متعددافراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں جن میں عام شہری سمیت سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں اور اس کے ساتھ املاک اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایاگیا جبکہ صوبوں اور اہم شہروں کی شاہراہیں بند کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے پورانظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ مگر یہ پہلی بار نہیں ہورہا بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کے پُرتشدد احتجاج ملک میںہوتے رہے ہیں۔