بلوچستان کے اہم ترین ریکوڈک منصوبے میں مبینہ طور پر قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریفرنس میں 26 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں سابق گورنر بلوچستان امیر الملک مینگل اور سابق چیف سیکرٹری بلوچستان کے بی رند بھی شامل ہیں۔ نیب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان نے رواں سال جون کے مہینے میں انکوائری کے لیے لکھا تھا، جس کے بعد کارروائی کا آغاز ہوا۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے ایک مہینہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک ملک کے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شفقت محمود نے بتایا کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز کا انعقاد کریں گے اور 11 جنوری سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دئیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث تمام امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں۔
حکومت نے بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم اور وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ ایسا قانون لایا جائے کہ متاثرہ خواتین یا بچے بلاخوف و خطراپنی شکایات درج کراسکیں۔وزیراعظم نے زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کے لیے آرڈیننس لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا سخت قانون لایا جائے جس میں متاثرہ خواتین و بچوں کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھا جائے۔
بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی(BYCS)کی طرف سے اکتوبر 2020 کے مہینے میں بلوچستان کی شاہراہوں پر رو نما ہونے والے ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری کردیئے گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اکتوبر کے مہینے میں 1025 حادثات رو نما ہوئے جن میں 127 افراد جاں بحق اور 1388 زخمی ہوئے۔کوئٹہ، مستونگ پشین، قلات بوستان، کچلاک 252 حادثات 350 زخمی اور 38 اموات ہوئے،خضدار، سوراب، لسبیلہ، گڈانی، حب، وندر، اوتھل، 465 حادثات جبکہ 593 زخمی اور 42 اموات، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ میں 69 حادثات کے دوران 99 افراد زخمی جبکہ 7 اموات۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک روزہ دورہ افغانستان کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مزید بہتری کا خواہاں ہے، افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ 60کی دہائی میں کابل سیاحت کے لیے بہترین مانا جاتا تھا۔عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں مذاکرات کے باوجود تشدد پر تشویش ہے، افغان حکومت اور طالبان میں جنگ بندی چاہتے ہیں، ہمیشہ یہی موقف رہا تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ اسکولوں کے حوالے سے فیصلہ اگلے ہفتے اجلاس میں ہوگا، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تجویز ہے کہ سلیبس کو کم اور گرمیوں کی چھٹیوں کو ختم کر دیں یا اکیڈمک سال آگے کردیں لیکن بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیر تعلیم نے کہا کہ پورے ملک میں نصاب کو ایک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ کا سسٹم تیار ہو گیا ہے، جلد نافذ کریں گے۔شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ہیلتھ سہولت کارڈ سے ایک خاندان 7لاکھ 40 ہزار روپے کا علاج کسی بھی اسپتال سے کرا سکتا ہے۔
بلوچستان سے کرپشن کے خاتمے کے لیے باہمی اقدامات پر اتفاق رائے کے حوالے سے نیب اور چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم بلوچستان کے مابین مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہوئے، ڈائریکٹر نیب بلوچستان زاہد شیخ اور چیئرمین سی ایم آئی ٹی سجاد بھٹہ نے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے۔،معاہدے کی تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر اور ڈی جی نیب بلوچستان فرمان اللہ خان نے شرکت کی۔چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی منظوری کے بعد صوبے سے کرپشن کے مکمل خاتمے کے لیے قومی احتساب بیورو بلوچستان اور چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم بلوچستان کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کورونا کیسز چار گنا بڑھ گئے ہیں، ہم نے سارے ملک میں جلسے،جلوس ختم کر دیئے ہیں، دوسروں کو بھی کہیں گے کہ جلسوں کو ملتوی کر دیں۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی اجتماع میں 300 سے زیادہ لوگ اکھٹے کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر قوم سے ماسک کے استعمال کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے ملک میں کورونا کیسز کی شرح میں چار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
بلوچستان میں بنیادی سہولیات کا فقدان ایک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔عوامی مشکلات میں سرفہرست لوکل بسیں ہیں جو شہر میں چلتی ہیں۔ان بسوں کا جائزہ لیاجائے تو یہ انتہائی خستہ حالت میں ہیں ان کی سیٹیں اور ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ من مانی کرایہ بھی وصول کیاجاتا ہے شہریوں کے ساتھ بس کنڈیکٹر کا رویہ بھی درست نہیں ہوتا اس لئے ہر وقت شہری سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں کہ غلط رویوں کے باعث عام شہری لوکل بسوں پر سفرکرنے سے گریز کرتے ہیں۔ خاص کر کوئٹہ کی بات کی جائے تو طلباء، خواتین، بزرگوں کیلئے ان بسوں میں سفر کرنا اجیرن بن چکا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں نے ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور ایسے وزیر اعظم آئے جو بلوچستان کے بجائے لندن زیادہ گئے اور ایسے صدر آئے جو دبئی زیادہ گئے بلوچستان کم آئے۔تربت میں عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں ترقی نہ ہونے کی وجہ ماضی کے حکمران ہیں، بدقسمتی سے ملک میں ایسے سیاسی رہنما آئے جنہوں نے وطن سے زیادہ ذاتی مفاد پر توجہ دی۔ان کا کہنا تھا کہ کمزور طبقے کو اوپر نہ لایا جائے تو قوم ترقی نہیں کرتی، کئی لوگ بلوچستان کی محرومیوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔