کورونا وائرس کے حوالے سے طبی ماہرین کے جو خدشات تھے کسی حد تک وہ درست ثابت ہورہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ملک بھر میں کیسز کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ہی اموات بھی ہورہی ہیں، اس کی بڑی وجہ بے احتیاطی اور لاپرواہی ہے۔ حالانکہ اس پر بار ہا زور دیاجاتارہا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کو لازمی اپنایاجائے اور ایس اوپیز کے تحت شعبوں کو کھولا جائے مگر بدقسمتی سے عوام لاپرواہی برت رہی ہے جس کے بھیانک نتائج آگے سامنے آئینگے۔ اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو کس حد تک اہمیت دیتی ہے۔
گزشتہ روز برمش یکجہتی کمیٹی کراچی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ سانحہ ڈنک کے حوالے سے برمش یکجہتی کمیٹی کے فورم میں شامل شرکاء کامطالبہ انتہائی سادہ اور قانونی تھا جس میں کسی قسم کی کوئی اشتعال انگیزی شامل نہیں تھی بلکہ صرف انصاف کے تقاضوں کوپورا کرنے کامطالبہ کیا گیا۔ مظاہرے کی سرپرستی کرنیوالے رہنماؤں کا کہنا تھاکہ سانحہ ڈنک جیسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں،مکران کے عوام کو مافیاز کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک مزید لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتا اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ٹائیگر فورس کے رضا کاروں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر محدود لاک ڈاؤن کیا تو کورونا ٹائیگر فورس کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں ایسے رضاکاروں کی ضرورت تھی جو عوام میں جا کر کورونا وائرس سے بچاؤ کے طریقوں کے حوالے سے آگاہی دیں۔وزیراعظم نے یہ کہا کہ ہم واحد مسلمان ملک تھے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد کھلی رکھی جائیں گی۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے رواں مالی سال کے محصولات و اخراجات سمیت آئندہ بجٹ کے تخمینوں کا خاکہ پیش کردیا ہے یہ خاکہ آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا گیا جو وزیراعظم کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ وفاقی مشیر خزانہ نے آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی ترجیحات پر وزیراعظم عمران خان کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے اجلاس میں ایف بی آر میں کی جانے والی اصلاحات سے متعلق پیشرفت پر بھی آگاہی دی۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ کاروباری برادری کو ہر ممکن آسانیاں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک نہ پہنچنے کا نوٹس لے لیا۔وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں فوری کمی کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نوٹس لیا اور کہا کہ گندم کی کٹائی کے فوری بعد آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں لہٰذا وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز ذاتی دلچسپی لے کر معاملے کو دیکھیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچایا جائے اور صوبے روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظررکھیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسزمیں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوتاجارہا ہے،حالات سے لگتا ہے کہ وباء مزید پھیلے گا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کرے گا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں وہ پہلے کی نسبت زیادہ ہیں اور اس کی بڑی وجہ بے احتیاطی ہے جس پر بارہا زوردیاجارہا تھا کہ احتیاط کرتے ہوئے عوام ایس اوپیز پر عمل کریں مگرریلیف ملنے کے بعد ایس اوپیز کی دھجیاں اُڑادی گئیں۔اب حکومت بھی اس بات پر سوچ بچار کررہی ہے کہ جس تیزی کے ساتھ کوروناوائرس لوگوں کو متاثر کررہا ہے سخت لاک ڈاؤن کیاجائے۔
ڈنک سانحہ حادثاتی طور پر رونما نہیں ہوا اور نہ ہی اسے ایک عام سی ڈکیتی سے نتھی کیاجاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان میں عرصہ دراز سے ایسے دلخراش واقعات رونماہورہے ہیں جو کہ بسااوقات رپورٹ ہی نہیں ہوتے جس طرح پنجاب اور کے پی کے میں معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی، ساہیوال سانحہ، ایسے انگنت واقعات کو زیادہ میڈیا پر کوریج ملتی ہے بلکہ باقاعدہ میڈیا کے ذریعے اس حوالے سے مہم چلائی جاتی ہے تاکہ ملزمان کو عبرت کا نشان بنایاجاسکے مگر بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر انتہائی محتاط رویہ اپنایا جاتا ہے، اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کیاجاتا ہے مطلب اسے اپنے لئے رسک سمجھ کر رپورٹ کرنے سے گریز کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کی ذمہ دار میڈیا سے زیادہ بلوچستان کی سیاسی خاص کر قوم پرست جماعتیں ہیں جب بھی کوئی معاشرہ بیگانگی اور انتشار کی طرف بڑھنے لگتا ہے تو اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں کمزور نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ اور حکمرانی کے تخت پر بیٹھنے کیلئے سیاست کررہی ہیں۔
وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کی درخواست پر وزارت داخلہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن میں لازمی سروسز ایکٹ کی سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی ہے۔ وفاقی کابینہ کو ارسال کی گئی سمری میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملازمین کے لیے آئندہ 6 ماہ کے لیے ہڑتال اور احتجاج پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔کورونا وائرس کے دوران عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرنے میں تعطل سے بچنے کے لیے لازمی سروسز ایکٹ لاگو ہوگا اور لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہونے کے بعد ہڑتال اور احتجاج کرنے والے ملازمین کو برطرف اور گرفتار کیا جاسکے گا۔
کورونا وائرس کے ساتھ اب رہنا ہی ہے اس لئے وہ اقدامات اٹھانے پرغور کیاجائے کہ کس طرح سے ملکی معیشت کو واپس ڈگر پر لایا جائے۔چونکہ تجارتی سرگرمیوں کی بندش اس کا حل نہیں جس طرح سے رمضان کے آخری عشرے کے دوران تجارتی مراکز کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جس سے تاجر برادری کو بڑے نقصان سے بچنا پڑا وگرنہ صورتحال خراب ہوتی، اس لئے اب اس جانب توجہ دینی چاہئے کہ کس طرح سے وباء کو بھی روکاجائے اور معاشی سرگرمیاں بھی معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ چونکہ غریب عوام مزید سخت لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے ایس اوپیز پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی ہے۔
کوروناوائرس کی وباء دنیا بھر میں پھیلنے کے بعد بیشتر ممالک نے اس سے بچاؤ کیلئے صرف لاک ڈاؤن کو ہی ہنگامی بنیادوں پر نافذکرنے کو اہمیت دی چونکہ یہ وباء ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوکر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اب تک دنیا کے کم وبیش تمام ممالک میں لاک ڈاؤن کی صورتحال برقرار ہے مگر دوسری جانب سخت لاک ڈاؤن کے بعد گرتی معیشت اور عوام کی مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن ماڈل کو پیش کیا گیا جو کسی حد تک کارگر ثابت ہوا مگر بعض شعبے اب بھی بندش کا شکار ہیں،اسی طرح عوام کیلئے سب سے سستا سفری سہولت بس سروس بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہے جس سے براہ راست عام لوگ ہی متاثر ہورہے ہیں۔ ملک میں بس سروس بحالی کے حوالے سے مکمل طور پر فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔