کوروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے سبب وفاقی حکومت نے ملک بھر کے چھوٹے کاروباری طبقے کی تین ماہ تک بجلی کا بل ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔وفاقی حکومت چھوٹے کاروباریوں کے یہ بل”وزیراعظم چھوٹا کاروبار امدادی اسکیم“ کے تحت ادا کرے گی۔وزیر صنعت و توانائی حماد اظہر کاکہناہے کہ وزیراعظم چھوٹاکاروبار امدادی اسکیم میں 80 فیصد کمرشل بجلی کے میٹرز رکھنے والوں کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 35 لاکھ چھوٹے کاروبار رکھنے والوں کو بجلی کے بل میں سہولت دے گی۔ وفاقی حکومت کمرشل بجلی کے بل میں 3 ماہ تک رعایت فراہم کرے گی۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے لاک ڈاؤن کی مدت میں 19 مئی تک توسیع کردی گئی جس کے ساتھ تمام لاگوپابندیاں بھی برقرار رہینگی۔ دوسری جانب کوئٹہ شہر کے مختلف تجارتی مراکز تاجروں نے خود کھول دیئے، کوئٹہ شہر کی اہم مارکیٹس جن میں عبدالستار روڈ، مسجد روڈ، کٹ پیس مارکیٹ اور سیٹلائیٹ ٹاؤن میں دکانوں پر عوام کا جم غفیر دیکھنے کو ملا، جبکہ مسجد روڈاور کٹ پیس گلی میں دوکانیں باہر سے بند، اندر سے کھلی ہوئی ہیں،لیکن پولیس اہلکار اور انتظامیہ نظر نہیں آتی۔ اس وقت بلوچستان میں کورونا وائرس کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مہلک مرض آنے والے دنوں میں مزید پھیلے گا بدقسمتی یہ ہے کہ نادرا آفسز کھولنے کی اجازت تو دیدی گئی مگر سماجی فاصلے کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
لاک ڈاؤن کے بعد ملک میں معاشی صورتحال پر اثرات پڑنے ہی تھے کیونکہ ملکی معیشت اتنی مستحکم نہیں کہ کسی بڑے بحران کامقابلہ کرسکے۔ اس سے قبل بھی یہی باتیں دہرائی جارہی تھیں کہ کورونا وائرس کی وباء کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤ ن کے بعد عام لوگوں کی زندگی میں بہت فرق آئے گا خاص کر معاشی حوالے سے صورتحال خراب ہوجائے گی جبکہ صنعتوں کی بندش اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے معطل ہونے سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔اب جان بچانی ہے یا لوگوں کے روزگار کامسئلہ حل کرنا ہے یہ دونوں انتہائی ضروری ہیں مگربدقسمتی سے جس روز لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیاگیا۔
برطانیہ میں کورونا وائرس کی ویکسین کی وسیع پیمانے پر تیاری کے حوالے سے بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے جینر انسٹیٹیوٹ نے گزشتہ ہفتے اپنی تیار کردہ ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع کی تھی اور اس عمل کے لیے سینکڑوں لوگوں نے رضاکارانہ طور خود کو پیش کیا تھا۔اس ویکسین کی تیاری کے لیے برطانوی حکومت نے بھی 20 کروڑ پاؤنڈ کی فنڈنگ کی ہے۔
کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کی صورتحال اس وقت ملک میں برقرار ہے مگر اس معاملے پر وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان خلیج دیکھنے کو مل رہا ہے، ایک بار پھرسندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاق نے طبی آلات کی خریداری میں سندھ کی کوئی مدد نہیں کی، وفاق کی کیا ذمہ داری ہے، وفاق بڑا بھائی ہے، کیا بڑا بھائی تکلیف کی گھڑی میں ساتھ نہیں دے گا،ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تاجراس لیے پریشان ہیں کہ پشاور اورلاہور میں دکانیں کھلی ہیں، تاجر ہم سے کہہ رہے ہیں کہ لاہور اورپشاور میں دکانیں کھلی ہیں تو ہمیں کیوں روکا جارہاہے۔
ملک میں نوجوانوں کی بڑی تعدادنجی ملازمتوں سے وابستہ ہے جو کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند پڑے ہیں اس گھمبیر صورتحال کے دوران بعض کمپنیوں اور صنعتوں نے اپنے ملازمین کو فارغ کیا ہے جو وقتاََ فوقتاََ میڈیا پر رپورٹ ہوتی ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر کی کچی آبادی سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی انہی کمپنیوں میں کام کرتی ہیں جوکہ ان دنوں شدید متاثر ہیں المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں جدید ٹیکنالوجی کانظام موجود نہیں کہ بیروزگار،برسرِ روزگار، کاروباری، سرکاری ملازمین اور آفیسران کی تفصیلات حکومت کے پاس موجود ہوں، ستر سالوں کے دوران اس جانب کبھی توجہ نہیں دی گئی کہ لوگوں کی آمدن ا ور اثاثہ جات کتنے ہیں۔
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یکم مئی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے جس کی سمری بھی تیار کر لی گئی ہے جو اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی جائے گی۔لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل میں بھی 10 روپے فی لیٹر کمی ہوگی جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم مئی سے ہو گا۔مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کریں گے جس سے سفری اور توانائی لاگت بھی کم ہو جائے گی۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے موجودہ کوروناوائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں عوام کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے وزیراعلیٰ قرض حسنہ اسکیم شروع کردیا گیا ہے، اسکیم کے تحت کوروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے متاثرہ گھرانوں کو بلاسود قرضہ دیاجائے گا،محکمہ خزانہ کے مطابق قرض حسنہ کا مقصد کورونا سے متاثرہ گھرانوں کو باعزت طریقے سے مالی امدادکی فراہمی ہے،قرض حسنہ سے متاثرین اپنے خاندان کے لئے خوراک،ادویات،یوٹیلیٹی بلز اور دیگر اخراجات پورے کر سکیں گے،بلا سود قرضے کی سہولت پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 25 ہزار خاندانوں کو فراہم کیا جائے گا۔
بلوچستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ مقامی سطح پر کیسز زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں۔ اب تک کورونا وائرس سے 8 سو سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں ڈاکٹروں کی بڑی تعداد شامل ہے اور اس میں اہم عہدوں پر فائز ڈاکٹر بھی متاثرہورہے ہیں۔کوروناوائرس سے اب تک 15 اموات ہوچکی ہیں اگر ٹیسٹنگ اور کیسز کی شرح کا موازنہ کیاجائے تو رواں ماہ کے دوران مزید نئے کیسز پچھلے ماہ کی نسبت زیادہ ہونگے جوکہ انتہائی گھمبیر صورتحال کی عکاسی ہے۔
ملک میں ایک عجب سا ماحول چل رہا ہے لاک ڈاؤن کا بنیادی مقصد کیا ہے اس پر کس طرح عمل درآمد کیاجارہا ہے یا کرایا جارہا ہے، عوامی ہجوم، ٹریفک کی معطلی، تجارتی مراکز کی بندش، ٹرانسپورٹ کی بندش، سرکاری اور پرائیویٹ محکموں کے ملازمین کی چھٹیاں، تعلیمی اداروں اور مدارس کی بندش تک کی صورتحال واضح نہیں۔ جب لاک ڈاؤن کافیصلہ حکومتی سطح پر کیا گیا تھا تو کس طرح مقامی سطح پر کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا اور اب مزید سخت لاک ڈاؤن کی صدائیں ڈاکٹروں کی جانب سے بلند ہورہی ہیں جبکہ وفاقی حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن کی باتیں کررہی ہے۔