پاکستان میں سکھوں کے 2 مقدس ترین مقامات ہیں، پہلا جنم استھان ننکانہ صاحب،جہاں سکھ مذہب کے بانی باباگرونانک دیو جی کی پیدائش ہوئی اور دوسرا گوردوارہ دربار صاحب کرتاپور، جہاں باباگرونانک نے اپنی عمر کے آخری 18سال گزارے اور یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبر بنائی گئی ہے۔گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرامقدس ترین مقام لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اورپاک بھارت سرحد سے صرف 4کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے،گوردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سکھ مت کے بانی باباگرونانک دیو جی نے اپنی عمر کے آخری 18سال گاؤں کوٹھے پنڈ میں گزارے اور 22 ستمبر 1539ء کو یہیں وفات پائے، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبربنائی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمدنواز شریف کی صحت کے حوالے سے بہتری کی رپورٹس کم جبکہ خراب صحت کے حوالے سے خود ڈاکٹرز تصدیق کررہے ہیں،ان کے گھر میں ہی انتہائی نگہداشت وارڈ بنایا گیا ہے جہاں پر ان کا علاج ہوسکے۔پہلے یہ خبر باز گشت کررہی تھی کہ میاں محمد نواز شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں اور اپنا علاج ملک کے اندر انہی حالات میں کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ یہ باتیں بھی سنائی دے رہی تھیں کہ نوازشریف نے جیل سے باہرآنے کیلئے بیٹی کی رہائی کی بھی بات کی تھی جنہیں بعض حلقوں میں ڈیل کا نام دیا جارہا تھا جبکہ سنجیدہ حلقے اس پر شدید تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ماضی میں سیاسی غلطیوں اور انتقام کی وجہ سے سیاسی شخصیات کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا گیا اور اب نواز شریف کی صحت ابتر ہے جس پر سیاست کی بجائے اس کی زندگی پر انسانی بنیادوں پر توجہ دینی چاہئے اور ایسے موقع پر ڈیل کی بات کرنا زیادتی ہوگی۔
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے احتجاجی دھرنا جاری ہے تعجب کی بات ہے کہ اب اس احتجاج کا پورا محور ومرکز اپوزیشن جماعتوں سے ہٹ کر صرف مولانا فضل الرحمان اور اس کی جماعت بنی ہوئی ہے، یہ تو واضح ہے کہ احتجاجی دھرنے سے وزیراعظم مستعفی نہیں ہونگے اور نہ ہی اس سے حکومت گھر چلی جائے گی، ماضی کی مثالیں سامنے ہیں کہ پی ٹی آئی کے 126 روزہ دھرنے کے باوجود مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ مدت پوری کی گئی اور یہ جمہوریت کیلئے ایک اچھی بات ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں جمہوری تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے بحرانات کا سامناکرنا پڑا ہے۔
سیاست کامقصد معاشرے میں بہتری لانا ہے جس کے اپنے اصول ہیں البتہ سیاسی فیصلوں میں ہمیشہ عوامی خواہشات اور ترجیحات کو اہمیت دینا ضروری اور فرض سمجھا جاتا ہے مگر بعض اوقات ایسے سیاسی فیصلے اور راستے اختیارکئے جاتے ہیں جو عوامی خواہشات کے برعکس ہوتے ہیں کیونکہ ان سے سیاسی اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں سیاسی مقاصد کو ہمیشہ گروہی بنیاد پرترجیح دی گئی اس لئے ہر وقت سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی اور فیصلوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ملک کی ترقی بغیر استحکام کے ممکن نہیں پاکستان اس وقت بیرونی چیلنجز کا مقابلہ تو کررہا ہے مگر دوسری جانب سیاسی کشیدگی کے باعث اندرونی چیلنجز بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جو کسی صورت ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں اصلاحات پر کام کریں مگر بدقسمتی سے اس جانب کبھی بھی سیاسی جماعتوں نے خاص توجہ مرکوز نہیں کی جس کی نظیر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دیکھنے کو ملتی ہے۔
حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنے کا فیصلہ جب مولانافضل الرحمان کی جانب سے کیا گیا تو اس دوران بارہا جے یوآئی ف کی جانب سے خاص کر یہی بات دہرائی گئی کہ یہ فیصلہ رہبرکمیٹی میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بعد کیا گیا مگر اس حوالے سے ملک کی دوبڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے عملی طور پر کھل کر شرکت کا اظہار نہیں کیا اور جب آزادی مارچ شاہراہوں سے گزری تو محض ان کی جانب سے استقبالیہ چھوٹے کیمپ ہی لگائے گئے جبکہ دونوں جماعتوں کے قائدین بھی کسی مقام پر دکھائی نہیں دیئے البتہ اسلام آباد میں جب مارچ پہنچی تب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین آئے، اپنی شرکت ظاہر کی مگر اس کے بعد وہ مسلسل مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کنٹینر پر دکھائی نہیں دیئے۔
گزشتہ روز سیندک پروجیکٹ انتظامیہ ایم آر ڈی ایل نے مائننگ ڈپیارٹمنٹ میں کام کرنے والے ایک ملازم کو بغیر نوٹس کے جب فارغ کیا تو کمپنی میں شامل دیگر ملازمین نے اس حوالے سے معلومات لینے کی کوشش کی جس کے جواب میں 30 دیگر ملازمین کو بھی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا اورانہیں راتوں رات تفتان منتقل کیا گیا جس پر برطرف ملازمین نے گزشتہ روزاحتجاجاََ پیدل مارچ کرتے ہوئے سیندک کراس پر روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا۔
اسلام آباد میں سیاسی دنگل سج گیا ہے جس سے سیاسی ماحول میں گرماگرمی پیدا ہوگئی ہے بہرحال وثوق سے کہا تو نہیں جاسکتا کہ اسلام آباد میں جنگی ماحول پیدا نہیں ہوگا البتہ جلسے کی تقاریر اور اس کے ردعمل کی سرجری کی جائے تو اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ معاملات نازک صورت بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حزب اختلاف نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔
کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب آتشزدگی کے باعث 73 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے،حادثے کے بعد بوگیوں سے کئی افراد کی جلی ہوئی لاشیں نکالی گئیں،زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے۔ لاشوں اورزخمیوں کو فوری طورپر مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر کے ایمر جنسی نافذ کر دی گئی جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ بوگی میں ایک چولہا اور دو سلنڈر موجود تھے ایک کے پھٹنے سے باقی نے بھی تباہی مچادی، مسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے اسٹیشنز پر موجود ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کا مشترکہ فیصلہ تو کیا گیا تھا مگر آزادی مارچ پنجاب کے جن مقامات سے گزری تھی وہاں پر مسلم لیگ ن کے اہم قائدین کی عدم شرکت سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ اس وقت اپوزیشن میں مکمل اتفاق رائے نہیں ہے جبکہ آزادی مارچ میں شریک شرکاء کی تیاریوں سے یہ لگ رہا ہے کہ وہ ایک دن کیلئے نہیں آرہے بلکہ جمعیت کا ارادہ طویل عرصے تک بیٹھنے کا ہے البتہ یہ واضح نہیں کہ ایک مقام پر بیٹھ کر ہی دھرنا دیا جائے گا یا پھر جگہ تبدیل کیا جائے گا۔