بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر چلنے والی بیشتر گاڑیوں میں پیٹرول اور ڈیزل لوڈ ہوتے ہیں جو ایرانی سرحد سے لیکر ملک کے اندرونی حصوں تک ترسیل کی جاتی ہے گزشتہ کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اس دوران ہولناک حادثات بھی رونما ہوچکے ہیں جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں حد یہ ہے کہ مسافر کوچز کو بھی اب پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے احتجاجی دھرنا اور مارچ کو حتمی شکل دینے کیلئے پہلے اپوزیشن جماعتوں پر اتفا ق نہیں ہورہا تھا مگر مولانا فضل الرحمان نے احتجاج اور اسلام آباد لاک ڈاؤن کی تاریخ میں توسیع کا حتمی اعلان کردیا۔ بہرحال اس وقت سب کی نظریں جمعیت علمائے اسلام ف کے احتجاج پرلگی ہوئی ہیں اورمسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی اب اس احتجاج میں شامل ہوگئی ہیں۔
بلوچستان میں روزانہ ٹریفک حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں غیر محفوظ شاہراہیں تو ایک الگ مسئلہ ہیں مگر چلتے پھرتے بم گاڑیوں کی روک تھام کے حوالے سے بھی حکومتی سطح پر اقدامات دکھائی نہیں دیتے جس کے باعث خطرناک حادثات میں بڑے سانحات رونما ہوتے ہیں جن میں درجنوں لوگ جان سے دھوبیٹھتے ہیں۔
بلوچستان میں اس وقت سب سے اہم اور حساس مسئلہ بلوچستان یونیورسٹی کا اسکینڈل ہے۔ گزشتہ دنوں یہ انکشاف ہو اتھا کہ سینکڑوں طالبات کی ویڈیو بناکر انہیں ہراساں اور بلیک میلنگ کیا جارہاہے اور یہ سلسلہ سالوں سے چلتا آرہا ہے۔
گزشتہ روزکوئٹہ کے معروف کاروباری علاقے ڈبل روڈ پر پولیس مددگار کی گاڑی کے قریب موٹرسائیکل میں نصب بم دھماکے میں ایک اہلکار شہید اور4پولیس اہلکاروں سمیت11 افراد زخمی ہوگئے، دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریب ہی کھڑی4دوسری گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشتگرد فورسز کو نشانہ بنارہے ہیں ماضی میں ایسے واقعات میں ہمسایہ ممالک کا ہاتھ رہاہے۔
ّٓآج کل اپوزیشن آزادی مارچ کے حوالے سے شہ سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے لیکن اس وقت دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کی مکمل شمولیت پر ابہام پایا جاتا ہے گوکہ نواز شریف نے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے مگر میاں شہباز شریف نے حتمی طور پر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا ہے جس کے ہاتھوں میں اس وقت مسلم لیگ ن کی قیادت ہے۔
ملک میں مہنگائی اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس نے سیاسی گہماگہمی بھی پیدا کررکھی ہے اور اسی کا ایک بڑا سیاسی چیلنج کے طور پر حکومت کوسامنا کرناپڑرہا ہے، اپوزیشن کی سیاست اس وقت ملک کی معاشی صورتحال پر دکھائی دیتی ہے جو کہ ملک کا اندرونی مسئلہ ہے جو انتہائی گھمبیر بنتا جارہا ہے کیونکہ غریب عوام کی تنخواہیں وہی ہیں اور اخراجات بے حد بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں بھی شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔
شام میں حکومت کے ساتھ سیاسی اختلافات نے خانہ جنگی کا رخ اختیار کیا، صرف ایک شخص جس کی وجہ سے پورا شام تباہ و برباد ہوگیا۔ ڈھائی لاکھ لوگ ہلاک ہوگئے، 50لاکھ سے زائد لوگ بے وطن اور مہاجر بن گئے۔ لاکھوں لوگ یورپ کا رخ کرچکے ہیں جہاں پر وہ سیاسی پناہ چاہتے ہیں اور امن کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اگر فرد واحد ملک اور قوم کے لئے قربانی دیتا تو پورا شام تباہ و برباد نہیں ہوتا۔
گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ نے بی ایم سی ہاسٹل میں ہاؤس جاب ڈاکٹرز کے ساتھ جو رویہ اپنایا، عوامی سطح پر اس کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے جس طرح سے اے سی صاحبہ نے ڈاکٹروں کی تذلیل کی، ان کو بے دخل کیا اور اپنی حیثیت منوانے کا روش اپنایا یقینا اس طرح کے عمل کو جاہلانہ ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں تعلیم یافتہ اور پھر ایک ذمہ دار آفیسرکی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والی خاتون سے اس طرح کے رویہ کی تو قع نہیں رکھی جاتی، سرکاری افسروں کا کام صرف عوام الناس کی خدمت کرنا ہے اور اپنی حدود میں رہ کر اختیارات کا استعمال کرنا ہے۔
بلوچستان کی روایات اور تاریخ کو بعض جگہ مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں خواتین پر مظالم زیادہ ڈھائے جاتے ہیں انہیں مرد کے مقابلے میں نچلے درجے کی حیثیت دی جاتی ہے یہ وہ زہریلا پروپیگنڈہ ہے جسے کچھ عناصر اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔