بلوچستان کو بجلی کی فراہمی، ایک اچھی خبر

| وقتِ اشاعت :  


مہذب معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار طرز حکمرانی کا ہوتاہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکمرانوں نے قانون کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے غلط حکمرانی کا رواج رکھا، آج جس طرح چور چور کی آواز ایوانوں میں گونج رہی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی اسی مقدس ایوان میں بیٹھے ہوئے ہیں کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد قانون کی بالادستی پر ہے جو سب پر لاگو ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں قانون کوہمیشہ کمزور پر ہی استعمال کیا گیا جبکہ غیر قانونی کاموں کی سرپرستی خود سیاستدان کرتے رہے۔



افغان امن، پاکستان کی کاوشیں

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت متعدد بار افغانستان کا دورہ کرچکی ہے جس میں افغانستان کی سیاسی وعسکری قیادت کے ساتھ پُرامن افغانستان پرزیادہ دور دیا گیا، پاکستان نے ہمیشہ خطے کے امن خصوصاً افغانستان سے تعلقات کو زیادہ اہمیت دی اورمذاکرات کے حوالے سے پہل کیا۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اپنایا خاص کر ایک بات واضح کی ہے کہ حکومت پاکستان کسی بھی طرح سے افغانستان میں بھارت کا کوئی کردار قبول نہیں کرے گامگر اس دوران سب نے دیکھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی بضد رہے کہ افغان خانہ جنگی کے خاتمے میں بھارت کا ایک موثر کردار ہونا چاہئے۔



امریکہ ایران تناؤ

| وقتِ اشاعت :  


امریکہ نے ایران کے خلاف محاذ مکمل کھول دیا ہے جس طرح سے امریکی حکام کے بیانات سامنے آرہے ہیں قوی امکان ہے کہ ایران پر جلدہی امریکہ دھاوا بول دے گا مگر یہ جنگ پھر ایک ملک تک شاید نہیں رک سکے گی بلکہ پوری دنیا پر اس کے انتہائی منفی اثرات پڑینگے، افغانستان میں اب تک امن لوٹ کر نہیں آیا متعدد بار کوششیں کی گئیں مگرنتائج برآمد نہیں ہورہے۔ امریکہ سے جس طرح کی خبریں ایران کے حوالے سے آرہی ہیں وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔



ٹیکس چور سیاسی تاجروں سے حساب لیاجائے

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر قوم کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کی ہے۔قوم کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔10 سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ہزار ڈالر پر چلا گیا، ہم نے جتنا ٹیکس اکٹھا کیا اس کا آدھا ان قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلا گیا، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے پاس ڈیٹا موجود ہے اور بدعنوانی کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔



بلوچستان بجٹ، عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے اگلے مالی سال2019-20ء کا4کھرب19ارب92کروڑ20لاکھ روپے کا خسارے کا حامل بجٹ پیش کردیا گیا،مجموعی طورپر موجودہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لئے ایک بہتر بجٹ پیش کیاجس میں کافی حد تک عوامی معاملات اور مشکلات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے۔



لالاصدیق بلوچ میڈیا اکیڈمی کا قیام، ایک انقلابی قدم

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے آئندہ مالی سال 2019-20میں لالاصدیق بلوچ میڈیا اکیڈمی کے قیام کیلئے تین کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جوکہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جسے صحافتی، ادبی وسیاسی حلقوں سمیت عوام میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔



خطے میں بدلتی صورتحال، ملک میں سیاسی کشیدگی

| وقتِ اشاعت :  


امریکہ اور ایران کے درمیان حالات انتہائی کشیدگی اختیار کرتے جارہے ہیں ایک ایساماحول پیدا ہوچکا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران پر امریکی دبا ؤ مزید بڑھے گا کیونکہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ جنگی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جس کی سب سے زیادہ فکر پاکستانی سیاستدانوں کو ہونی چاہئے کہ اگر اس میں شدت آئی تو کیسی حکمت عملی اپنانی چاہئے مگر بدقسمتی سے اس وقت ملک میں سیاسی کشیدگی چل رہی ہے۔



ایم کیوایم کی یوٹرن پالیسی اور اپوزیشن کی طرف جھکاؤ

| وقتِ اشاعت :  


متحدہ قومی موومنٹ ملک کی واحد جماعت ہے جو صرف سندھ کے چند شہری علاقوں میں اکثریت رکھتی ہے جن میں کراچی سرفہرست ہے، متحدہ قومی موومنٹ کی تاریخی پس منظر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں گوکہ اب اس جماعت میں تبدیلی آئی ہے۔



قرضوں کا حساب سب سے لیاجائے

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ دس سالوں کے دوران ہونے والی کرپشن کے خلاف تحقیقات کو سراہا جارہا ہے کیونکہ ایک اچھا عمل ہے۔جس طرح سے کرپشن کے الزامات سیاستدانوں پر لگ رہے ہیں یہ ان کی ساکھ کو مجروح کررہا ہے اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں کرپشن نہیں ہوئی ہے تو یقینا وہ بھی اپنے دفاع میں قانونی راستہ اپناتے ہوئے دلائل اور ثبوت پیش کرینگے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔



ٹیکس نادہندگان امیروں کے خلاف شکوہ نہیں، کارروائی کی جائے

| وقتِ اشاعت :  


ملکی تاریخ میں کبھی کسی بھی دور میں عوام کو یہ سننے کو نہیں ملا کہ بحرانات ٹل گئے، ملکی معیشت بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے، اب غریب عوام بیروزگاری، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، پانی اور بجلی کی عدم فراہمی سمیت دیگر سہولیات کیلئے ترسے گی بلکہ عوام پہلے سے بھی زیادہ خوشحال ہوگی۔