تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ ادوار میں بھی لوگ لاپتہ ہوتے تھے۔ سالوں ان کی خبر نہیں ہوتی تھی۔ مگر لواحقین کو یہ یقین ہوتا تھا کہ وہ زندہ ہیں سلامت ہیں اور کسی وقت وہ واپس اپنی خاندانی زندگی میں دوبارہ آجائیں گے۔ گزشتہ 15سالوں میں طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا۔ اب اگر کسی کو اُٹھا لیا جاتاہے تولواحقین کو اسی وقت اس کی زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں



غیر معمولی قوانین پر انحصار کب تک

| وقتِ اشاعت :  


روز اول سے ہم نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی تھی اور حکمرانوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ معمول کے قوانین کو زیادہ بہتر اور موثر بنائیں تاکہ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس سے پہلے (Speedy Trial Courts)تیزی کے ساتھ مقدمات کا فیصلہ کرنے والے عدالتیں قائم کیں گئیں تھیں



گڈانی میں ایک اور آتشزدگی

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ روز گڈانی کے ساحل پر ایک اور پرانے جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اس حادثہ میں 6افراد ہلاک اور کچھ لوگ زخمی ہوگئے۔ ان میں سے کئی ایک لاپتہ بتائے گئے ہیں ابھی تک ہلاک اور لاپتہ ہونے والے مزدوروں سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں۔



نیب میں اصلاحات بے معنی ہیں

| وقتِ اشاعت :  


قومی احتساب بیورو کے قوانین میں بعض ترامیم کی جارہی ہیں اور اس میں چیئرمین کے صوابدیدی اختیارات ختم کیے جارہے ہیں۔ ان کے اختیارات پر پاکستان بھر میں بحث کی جارہی تھی اور ان کے صوابدیدی اختیارات کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا خصوصاً عوامی حلقوں کی طرف سے۔



خضدار۔ ایک صنعتی وتجارتی مرکز

| وقتِ اشاعت :  


سی پیک کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہوا جس میں صوبائی وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے بھی شرکت کی ان میں بعض فیصلوں کے علاوہ یہ بھی اعلان کیا کہ خضدار کو بھی صنعتی علاقہ بنایا جائیگا اور سی پیک یعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا اہم حصہ ہوگا



بلوچستان ریلوے نظر انداز

| وقتِ اشاعت :  


جب سے مسلم لیگ کی حکومت آئی ہے اس نے سوائے بلوچستان کے پورے ملک کے ریلوے نظام میں بہتری لانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ مرکزی ریلوے ٹریک پر آرام دہ اور اچھی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں جن کی تعریف کرنی چاہیے اکثر پنجاب اور سندھ کے درمیان چلنے



کو ئٹہ کو مسلم لیگی مےئر کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


وزیر اعلیٰ نو اب ثنا ء اللہ زہری نے کو ئٹہ کے مسا ئل میں اپنی دل چسپی کا اظہار کیا اور کو ئٹہ کا رپوریشن کے دونوں فر یقوں کو وزیر اعلیٰ سیکر ٹریٹ میں مد عو کیا اور ان کے اختلافا ت کو ختم کر انے کی کو ششیں کیں تا کہ کو ئٹہ کے بنیاد ی



بلوچستان میں غیر قانو نی ما ہی گیر ی

| وقتِ اشاعت :  


جس وقت بلوچستا ن ایک صو بے کی صورت وجود میں آیا تو پہلی قا نو نی اور جمہوری حکو مت نیشنل عوامی پارٹی نے بنا ئی۔ گور نر مر حوم غو ث بخش بز نجو تھے اور منتخب وزیر اعلیٰ عطا ء اللہ مینگل تھے اس قو می اور سیا سی حکومت کا پہلا کا م یہ تھا



احتساب کا نظام صوبوں کے حوالے کریں

| وقتِ اشاعت :  


امن وامان صوبائی معاملے ہیں ان سے متعلق تمام اختیارات صوبوں کو ملنے چائیں۔ اس سلسلے میں کے پی کے میں کچھ پیش رفت ہوئی تھی اور صوبائی حکومت نے اپنا صوبائی احتساب کمیشن بنا یا تھا شاید وفاقی اداروں اور شخصیات نے اس کو ناکام بنانے کی کوشش کی اس لئے یہ معاملہ زیادہ تیزی سے آگے نہ بڑھ سکا.



پاکستا ن ایک کثیر القوی ملک

| وقتِ اشاعت :  


پا کستان نیشنل پارٹی 1950کی دہا ئی میں وجو د میں آیا تو اس کے دو بڑے مطا لبا ت تھے ایک ون یو نٹ کو تو ڑنا اوردوسرے پا کستان کو ایک کثیر القومی ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر نا ۔پارٹی کے رہنماء مر حوم خان عبد الغفار خان تھے