بلوچستان میں سیم اور تھور سے تباہی

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے۔ خشک سالی کا ایک سلسلہ ہے جوسالوں سال چل رہی ہے ۔ خشک سالی اور قحط کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے گھروں سے ہجرت کرتے ہیں اور پانی کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ ایک ہماری حکومت ہے



فعال وفاق کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان آج کل اپنی زیست کے سب سے بڑے بحران سے گزر رہا ہے یہ بحران 1971ء سے زیادہ سنگین اور خطر ناک ہے. وجہ حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو بحرانوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ اگر ہم اپنے قرب و جوار کا جائزہ لیں تو ہم تنہا نظر آئیں گے۔ امریکا نے بھارت اور افغانستا کو پاکستان کے خلاف ایک محاذ پر متحد کردیا ہے ۔ دوسری طرف ہمارے سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی وجہ سے ایران ہم کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے ۔



کوئٹہ کے شہری معاملات میں وزیراعلیٰ کی دلچسپی

| وقتِ اشاعت :  


ایک بار پھر وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے کوئٹہ کے شہری معاملات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ایک نجی محفل میں ملاقات کے دوران انہوں نے دبے الفاظ میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور واضح اشارے دئیے کہ وسائل اور فنڈز کوئٹہ کے شہریوں کی



جعلی ادویات کے خلاف حکومتی کارروائی

| وقتِ اشاعت :  


صوبائی حکومت نے تاریخ میں پہلی بار جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ابتداء کی ہے اور مقامی عدالتوں کو 44مقدمات کے چالان روانہ کیے ہیں جن میں غیر معیاری ‘ جعلی اور غیر رجسٹرڈ اور غلط برانڈ کے ادویات کے مقدمے شامل ہیں ۔



کوئٹہ میں تجاوزات

| وقتِ اشاعت :  


شہری انتظامیہ نے تجاوزات ہٹانے کے سلسلے آغاز کردیا ہے اس سلسلے میں کوئٹہ کے کئی شاہراہوں پر سے تجاوزات ہٹا دی گئیں تاکہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لئے اور سڑکیں گاڑیوں کے لیے صاف اور کشادہ رہیں ۔



بجلی سے محروم بلوچستان

| وقتِ اشاعت :  


کم و بیش پورا بلوچستان بجلی کی نعمت سے محروم ہے بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبے بھر میں ٹرانسمیشن لائن کی لوڈ برداشت کرنے کی صلاحیت 400میگا واٹ ہے ۔ بلوچستان نصف پاکستان ہے اور 400میگا واٹ کی صلاحیت کی بجلی محدود ترین علاقوں کو فراہم کی جاتی ہے۔ مکران اور دوسرے بڑے خطے بجلی سے محروم ہیں ۔ گزشتہ ستر سالوں سے حکومتیں ٹرانسمیشن لائن نہیں تعمیر کر سکیں، ان کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں کہ بلوچستان میں ترقی ہورہی ہے ۔



بھارت مکمل جارحیت کی طرف

| وقتِ اشاعت :  


آئے دن بھارت اپنی جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ کرتا آرہا ہے ۔ اڑی سیکٹر میں ڈرامے کے بعد بھارتی تیور بپھرے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد لائن آف کنٹرول پر فائرنگ‘ شیلنگ میں اضافہ ہوا ہے خصوصاً شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ گزشتہ دنوں مسافر بس پر حملہ کیا گیا اور شہری آبادی پر مارٹر گولے گرائے جارہے ہیں ۔ اس کا مقصد بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے بھارت سرحدی علاقوں سے شہری آبادی کو ہر قیمت پر بے دخل کرنا چاہتا ہے اس لیے ان پر مسلسل فائرنگ اور بمباری کی جارہی ہے



ایک سیاسی اورغیر مناسب فیصلہ

| وقتِ اشاعت :  


توقع کے مطابق پوری کی پوری وفاقی حکومت بمعہ اس کے تمام اداروں کے چند پختون رہنماؤں کے دباؤ میں آگئی اور ان کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا کہ افغانستان سے آئے ہوئے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو مزید ایک سال تک پاکستان اور اس کی خراب ترین معیشت پر بوجھ رہنے دیا جائے۔ اور اب یہ غیر قانونی تارکین وطن اگلے سال دسمبر تک ہمارے مزید مہمان ہوں گے ۔ اور ان کو وہ تمام آزادیاں حاصل ہیں جو پاکستانیوں کو اپنے ملک میں حاصل نہیں ہیں ۔ پہلے تو ایک ڈرامہ رچایا گیا



گوادر کو بین الاقوامی ریلوے نظام سے منسلک کریں

| وقتِ اشاعت :  


یہ ایک خوش آئند خبر ہے کہ صوبائی حکومت ریلوے نظام میں دلچسپی لینی شروع کی ہے ۔ وفاقی بجٹ میں بھی رواں سال ریلوے کے لئے زمین خریدنے کے لئے رقم مختص کی گئی ہے اور ریلوے حکام نے بنیادی کام شروع کردیا ہے