سابق صدر پاکستان اور فوج کے سابق سربراہ نے ایک بار پھر جمہوریت کے خلاف لب کشائی کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے لئے جمہوریت موزوں نہیں ہے اس کے لئے صرف اور صرف فوجی آمریت یا بادشاہت موزوں ہے۔ شاید سابق جنرل پرویز مشرف یہی کہنا چاہتے تھے اور وہ کہہ گئے۔
یہ بات اب حقیقت بن چکی ہے کہ موجودہ بحران ملک کا سنگین ترین بحران ہے اور یہ 1971ء کے بحران سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ 1971ء کی جنگ کے دوران افغان اور ایران کی سرحدوں پر قابل اعتماد امن تھا اور وسیع سمندری حدود میں بھی کسی قسم کے خطرات نہیں تھے۔
پاکستان ایک بڑے بحران سے گزررہا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ پاکستانی سیاستدانوں کو اس کا ادراک نہیں ہے۔ وہ ابھی تک اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے تحفظ میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سے ملنے اور بات کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کو بالکل یہ ادراک نہیں ہے کہ ملک کتنے بڑے بحران سے گزررہا ہے۔ معاشی حالات خراب سے خراب تر ہیں۔ معاشی حالات کی خرابی کا اندازہ اس کی گرتی اور ڈوبتی معیشت سے لگایا جاسکتا ہے
پہلے اڑی سیکٹر میں بھارتی فوج کا ڈرامہ اور بعد میں سرجیکل اسٹرائیک سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ بلکہ دونوں ممالک کو تیسری پاک بھارت جنگ کے قریب تر کردیا ہے۔ اس میں بھارت کا بڑا ہاتھ ہے۔ شاید بھارت پورے خطے میں کشیدگی میں اس لئے اضافہ کرنا چاہتا ہے کہ اس سے پاکستان کے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو۔
19ویں سارک کانفرنس 9اور10 نومبر کواسلام آباد میں منعقد ہوناتھی مگر بھارت،افغانستان،بنگلہ دیش اور بھوٹان کی عدم شرکت کے باعث اسے ملتوی کردیا گیا۔سارک کانفرنس میں 8ممالک شامل ہیں جن میں پاکستان،بنگلہ دیش،بھارت،افغانستان،بھوٹان،نیپال،سری لنکا اور مالدیپ شامل ہیں۔
کوئٹہ سول ہسپتال میں خود کش حملے کے دوران 50سے زائد وکلاء جبکہ 74افراد جاں بحق ہوئے تھے جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ تھا جس میں وکلاء کی بڑی تعداد شہید ہوئی تھی۔اس واقعہ میں وکلاء کو ٹارگٹ کیا گیا جس کی منصوبہ بندی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے
ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں الیکٹرانک میڈیا کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے حتیٰ کے گورنر ،وزیراعلیٰ بلوچستان کی پریس کانفرنسز ودیگر ایونٹ کو بھی جگہ نہیں ملتی ۔یہ بلوچستان کے ساتھ الیکٹرونک میڈیا کاناروا سلوک ہے الیکٹرونک میڈیا کی بیشترخبریں لاہور،کراچی،اسلام آباد کی ہوتی ہیں اگر تھوڑی سی جگہ مل جائے تو وہ بھی خیبرپختونخواہ کو ملتا ہے۔
چھ دہائیوں سے ملک میں کرپشن کی وجہ سے عوام کی طرز زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ کسی بھی شعبے کاجائزہ لیاجائے تو وہاں کرپشن کا راج نظر آتا ہے جس کی بڑی وجہ ہمارے یہاں نظام کی بہتر نگرانی کا نہ ہونا ہے جبکہ افسران بالاسرکاری شعبوں میں کرپشن کی باقاعدہ سرپرستی کرتے ہوئے پیسہ بٹورتے ہیں
صحافت جیسے اہم شعبہ میں پڑھے لکھے لوگ ہی آتے ہیں اور میڈیا کے اصول و ضوابط سے واقفیت رکھتے ہوئے خبرکی نوعیت کے مطابق اسے نشر کرتے ہیں۔ یہ میڈیاکی ذمہ داری ہے کیونکہ کروڑوں لوگ میڈیاکو محض اس لیے دیکھتے ہیں کہ وہ حالات سے باخبرر ہیں اور تمام صورتحال کی معلومات ان کے پاس ہو۔
گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ نادرامیں کرپٹ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیاجائے گا جعلی شناختی کارڈ بنانے والے عناصر کا گھیرا تنگ کررہے ہیں۔ چوہدری نثار کا یہ عمل قابل ستائش ہے