ایران سے بہتر تعلقات

| وقتِ اشاعت :  


ایران اس خطے کا سب سے زیادہ امیر اور فوجی لحاظ سے ایک طاقتور ملک ہے۔ ہمسایہ کی حیثیت سے ہم کو ایران کی اہمیت کوکم کرنے کی کوششیں ترک کردینی چاہئیں۔ مقتدرہ کوبخوبی علم ہے



کراچی میں احتجاج یا ہلڑ بازی

| وقتِ اشاعت :  


تحریک انصاف نے جمعہ کے دن کراچی کو مکمل طور پر بند کردیا۔ سڑکوں کو سنسان کردیا۔ ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی۔ دکانیں بند اور سرکاری دفاتر میں حاضری کم رہی۔ ٹرانسپورٹ بند اور عام شہریوں نے بھی دن اپنے اپنے گھروں میں گزارا۔



عوام کو پریشان کرنا حق نہیں ہے

| وقتِ اشاعت :  


آئے دن عمران خان اور اس قماش کے سیاستدان یہ کہتے نہیں تھکتے کہ احتجاج کرنا ان کا حق ہے۔ تحریک انصاف کے اکثر رہنما اس حق میں سڑکوں کو بند کرنا بھی شامل کرتے ہیں۔ احتجاج کا معاملہ پارٹی اور حکومت کے درمیان ہے



چین کے تجارتی گزرگاہ

| وقتِ اشاعت :  


سنکیانگ کو ترقی دینے کے لئے چین کوایک گزرگاہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ سنکیانگ اور شنگھائی بندر گاہ کے درمیان فاصلہ 5ہزار کلومیٹر جبکہ گوادر کراچی سے یہ فاصلہ تقریباً دو ہزار کلومیٹر ہے۔



پاکستان۔ ایران گیس پائپ لائن

| وقتِ اشاعت :  


ایران کے وزیر برائے اقتصادی امور نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان ایران اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی اور دونوں ممالک کے درمیان زیادہ بہتر معاشی تعلقات پر زور دیا۔



انتخابات اور دھاندلی

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان میں جب بھی انتخابات ہوئے اس میں دھاندلی ہوئی۔ صرف 1970کے انتخابات میں دھاندلی اس طرح سے کی گئی کہ صرف دو قوتوں’’ پی پی اور عوامی لیگ‘‘ کو فتح حاصل ہو ئی۔



جعلی ادویات کے خلاف کارروائی

| وقتِ اشاعت :  


ایف آئی اے نے کراچی میں ایک دکان اور گودام پر چھاپہ مارا جہاں سے 25کروڑ روپے کی جعلی ادویات برآمد ہوئیں۔ ایف آئی اے نے چند ایک لوگوں اور خصوصاً دکاندار کو گرفتار کرلیا۔ وفاقی پولیس کے مطابق ان جعلی یا اسمگل شدہ ادویات کی قیمت 25کروڑ روپے تھی۔



عمران خان کی قلا بازی

| وقتِ اشاعت :  


توقع کے مطابق عمران خان کو اپنی پالیسی اور حکمت عملی تبدیل کرنی پڑی۔اب وہ وزیراعظم سے استعفیٰ طلب نہیں کررہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر گزشتہ انتخابات میں دھاندلی ثابت ہوگئی تو حکومت کو استعفیٰ دیناپڑے گا۔



پاکستان امریکہ تعلقات

| وقتِ اشاعت :  


فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف امریکہ کے دو ہفتوں کے دورے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں اور فوجی تعلقات پر امریکی جرنیلوں سے تبادلہ خیال کیا۔