ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے ہمیشہ مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اب بھی کرتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ حقیقی مذاکرات میں بنیادی رکاوٹیں وعدوں کی خلاف ورزی، ناکا بندی اور دھمکیاں ہیں۔
ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا آپ کی مسلسل منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور عمل کے درمیان تضادات کو دیکھ رہی ہے جب کہ ایران نے ہمیشہ مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اب بھی کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت قابلِ قبول ہے جب سمندری ناکا بندی نہ ہو، مکمل جنگ بندی اسی صورت میں معنی رکھتی ہے۔
جنگ بندی کی خلاف ورزی سمندری ناکہ بندی اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے جیسے اقدامات سے نہ کی جائے، جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کی صورت میں آبنائے ہرمزکودوبارہ کھولنا ناممکن ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ہے اور اب یہ امریکا کے کنٹرول میں ہے، کسی جہاز کو ایرانی بندرگاہ جانے کی اجازت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران معاشی بدحالی کا شکار ہے، آبنائے ہرمزپرناکہ بندی سے ایران کو تقریباً 500 ملین ڈالر کا یومیہ نقصان ہورہاہے، ایران چاہتا ہے آبنائے ہرمز کھلے تاکہ وہ 5 سو ملین ڈالر روزانہ کما سکے، یہی وہ رقم ہے جو آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایرانی کھو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمزکی مکمل ناکہ بندی کی ہوئی ہے لیکن ایران آبنائے ہرمز کی بندش نہیں چاہتا، ایرانی صرف شرمندگی سے بچنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ ہرمز بند رہے۔
امریکی صدر بولے 4روز پہلے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ ایران ہرمز کھولنا چاہتا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا ہم نے ہرمز کھولی تو پھر ایران سے امریکا کبھی ڈیل نہیں کرسکے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پوری بحریہ سمندر کی تہہ میں ہے، ایران کی فضائیہ ختم ہو چکی ، اینٹی ائیر کرافٹ اور ریڈار کا صفایا کر دیا گیا ہے، ایران کی نیوکلیئر لیبز اور اسٹوریج ایریاز کو بی 2 بمباروں نے ختم کر دیا تھا، ان کے رہنما بھی مر چکے ہیں۔
بہرحال مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی انتہائی ضروری ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوچکے ہیں،دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے اگر اس معاملے پر جلد پیشرفت نہیں ہوتی تو سیز فائر شاید زیادہ دیر تک نہ رہے ۔
موجودہ نازک صورتحال میں کوئی راہ نکالنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے چند نکات پر اتفاق کی ضرورت ہے کیونکہ اس آبنائے کی بندش سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں، توانائی سمیت غذائی بحران کا شدید قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے جس سے بہت سارے ممالک متاثر ہونگے ۔
امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی بڑھی تو ایک بڑی جنگ کے خطرے کو رد نہیں کیا جاسکتا جو مشرق وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر تباہی کا سبب بنے گا جس سے امن اور معیشت دونوں متاثر ہونگے۔
آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران کے کنٹرول پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات، موجودہ حالات میں مکالمے کی ضرورت!
![]()
وقتِ اشاعت : 2 hours پہلے
Leave a Reply