بلوچستان میں شعبہ صحت کا اسی فیصد بجٹ کوئٹہ اور اس کے سرکاری اسپتالوں پر خرچ ہوتا ہے باقی بیس فیصد پورے بلوچستان پر خرچ ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں اسی وجہ سے لوگ بڑے شہروں اور نجی اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری ٹھیک کہتے ہیں کہ عوام الناس کا سرکاری اسپتالوں پر سے اعتماد بالکل ختم ہوگیا ہے ۔
مسلح افواج نے سرحدی علاقے میں فوجی کارروائی کے دوران 14دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ۔ سرکاری اعلان کے مطابق دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ۔ یہ کارروائی خیبر ایجنسی کے علاقے راج گال میں ہوئی جہاں پر دہشت گردوں پر حملے کیے گئے اور ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ان تمام علاقوں میں فضاء سے بمباری کی گئی۔
وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں دوسرے لوگوں کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں داخلی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا اور بعض اہم فیصلے کیے گئے ۔ان میں سب سے اہم ترین فیصلہ یہ تھا کہ داخلی سلامتی کو زیادہ موثر بنانے کے لئے پیرا ملٹری فورس کے 29نئے ونگ قائم کیے جائیں گے ۔
بلوچستان ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہے اس کی وفاق میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے وفاقی حکومت اور اس کے اداروں میں بلوچستان کے مفادات کی کوئی نگرانی نہیں کرتا بلوچستان کے نام پر غیر بلوچوں کو زیادہ اہمیت اور اولیت دی جاتی رہی اور بلوچستان کے حقیقی وارثوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ۔ حیلے بہانوں سے بلوچستان کے حقیقی عوام کی زبردست حق تلفی کی گئی
پی پی پی کے ہائی کمان نے اپنے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹ کو تاکید کی ہے کہ حکومت کے خلاف کارروائی میں تیزی لائی جائے اور ن لیگ حکومت کے گرد گھیرا زیادہ تنگ کیا جائے۔ حزب مخالف کی جماعتوں سے تعاون کو بڑھایا جائے تاکہ حکومت کے خلاف ایک موثر محاذ قائم ہو ۔یہ سب باتیں اس وقت سامنے آئیں جب بے لگام وزیر داخلہ نے اپنے ذاتی عناد کی بنیاد پر پی پی پی کے رہنماؤں پر الزامات لگائے اور ایان علی کے اسکینڈل کو پی پی پی کے رہنماؤں سے جوڑنے کی کوشش کی
قوم آج جشن آزادی پورے زور وشور سے منا رہی ہے اور اس بات کا دوبارہ عہد کررہی ہے کہ عزیز وطن کے چپے چپے کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے اس بار قوم کو شدید مسائل کا سامنا ہے ان میں سیکورٹی کی صورت حال کو اولیت حاصل ہے ۔سیکورٹی اداروں اور فوجی سربراہوں نے صاف صاف طورپر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ بھارت نے پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کردی ہے
افغان مہاجرین کے ایک وفد نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان سے ملاقات کی اور یہ الزام لگایا کہ ان کو ہراساں کیا جارہا ہے تحریک انصاف کے سربراہ نے اس بات کی تصدیق کی یا نہیں بلکہ انہوں نے اس کی مذمت کر ڈالی۔ اگر واقعی افغان مہاجرین کو ہراساں کیا جارہا ہے تو یہ غیرایک انسانی فعل ہے اور ذی شعور آدمی اس کی تعریف نہیں مذمت ہی کرے گا
کوئٹہ پر دہشت گردانہ حملے کے بعد حکومت اور حکومتی اداروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ کارروائی بلوچستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے ملک میں کارروائی ہوگی، دہشت گردوں کے سلیپر سیلSleeper Cellsتقریباً ہر جگہ موجود ہیں فاٹا کے علاقے سے نکلنے کے بعد ان کی زیادہ توجہ کا مرکز کراچی اور بلوچستان رہا ہے لوگوں کا اندازہ ہے کہ یہ سیل افغانوں کے علاقوں میں خصوصاً وہ افغان جو گزشتہ سالوں غیر قانونی طورپر او ر معاشی وجوہات کی بناء پر بین الاقوامی سرحد پار کرکے پاکستان آئے ہیں ۔
گزشتہ67سالوں میں پاکستان ریلوے کی کارکردگی بلوچستان میں مایوس کن رہی، اتنے بڑے اور طویل عرصے میں سفری سہولیات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا البتہ تباہی بمباری زیادہ ہوئی۔ ان سالوں میں ریلوے لائن کی نہ مرمت ہوئی اور نہ ہی ریلوے کے املاک اور اثاثوں کو تحفظ دیا گیا بلکہ پورے ریلوے نظام کو بلوچستان بھر میں نظر انداز کیا گیا۔
کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعہ میں ستر سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ،اتنے ہی زخمی ہوئے ’ بیس سے زائد زخمیوں کی حالت نازک ہے ۔خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ طالبان کے ایک گروہ نے کوئٹہ میں خودکش حملہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ وکلاء کو کیوں دہشت گردی کا نشایا گیا ۔ عوامی اور انسانی حقوق کے دفاع اور ان کے حقوق کی سربلندی میں وکلاء پیش پیش رہے ہیں اس لئے ان کا سماج بہت زیادہ احترام کرتا ہے