کوئٹہ شہر کو ایک بار پھر خون سے نہلا دیا گیا ،معروف قانون داں بلال انور کاسی پرگھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں وہ جان بحق ہوگئے ۔ وکلاء اور دوسرے افراد نے ان کی لاش کو سول اسپتال کوئٹہ پہنچایا تاکہ لاش کی پوسٹ مارٹم کی جائے مگر سول اسپتال کے شعبہ حادثات کے دروازے پر ہی بہت زبردست دھماکہ ہوا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا اس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 70افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور تقریباً سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے شدید قسم کی خشک سالی کا سامنا ہے ۔ اس صورتحال پر صوبائی اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد پاس کی ہے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے صوبے کو آفت زدہ قرار دیاجائے۔ دراصل معاملہ وہاں سے شروع ہوا جب پرنس احمد علی نے ایک قرار داد پیش کی کہ لسبیلہ ضلع کو آفت زدہ قرار دیا جائے
گزشتہ دنوں بعض میونسپل کونسلرز‘ چئیرمین حضرات نے اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کیا اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا خصوصاً صوبے اور مقامی کونسلوں کے درمیان اختیارات کے لیے۔ افسوس کی بات ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں خصوصاً وہ جماعتیں جو اقتدار میں ہوتی ہیں وہی مقامی کونسلوں کو اختیارات کی منتقلی کی زیادہ مخالفت کرتے ہیں
قیام پاکستان سے لے کر آج تک سریاب کے مکینوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ۔ کوئٹہ میں جو بھی ترقی ہوئی شہر کے مخصوص علاقوں تک محدود رکھی گئی اور سریاب کے لاکھوں مکینوں کو ان تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ۔ آج تک اس رویے میں تبدیلی کے آثار نہیں ہیں لاکھوں لوگوں کو کوئٹہ شہر کے اندر رہتے ہوئے بھی انسان نہیں سمجھا جارہا اس لئے وہ تمام بنیادی سہولیات سے آج بھی محروم ہیں۔ بنیادی سہولیات میں پانی کی فراہمی جو جراثیم سے پاک ہو
اخبارات خصوصاً آزاد اور مقامی اخبارات میں آئے دن خبریں چھپتی رہیں کہ کوئٹہ میں روزانہ درجنوں گاڑیاں افغانستان کے راستے کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں داخل ہورہی ہیں ایک اندازے کے مطابق ایسی گاڑیوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے جن کی کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس ادا نہیں کیے گئے ہیں ۔ لیکن جب کسٹم حکام نے کوئٹہ کی سڑکوں، فٹ پاتھ اور شورومز پر چھاپہ مارا تو ہزاروں گاڑیوں میں سے صرف پندر گاڑیاں قبضے میں لے لیں۔
مئیر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ خان نے صوبائی حکومت سے اربوں روپے امداد کی درخواست کی ہے جس میں بعض اسکیموں کے علاوہ پانچ پارکنگ پلازہ تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔ میٹرو پولٹین کارپوریشن نے ماحول کو بہتر بنانے کے کام کو اولیت نہیں دی مگر پارکنگ پلازہ بنانے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہاہے
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ رکھنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کرنے والی ہے ان لوگوں کو جن کے پاس جعلی شناختی کارڈ یا جعلی دستاویزات ہیں ان کے خلاف 31اگست کے بعد مقدمات درج ہوں گے، ان کو گرفتار کیا جائے گا اور ان پر مقدمات چلائے جائیں گے۔ ان معاملات میں ملوث افراد کو چودہ سال تک قید اور جرمانہ کی سزائیں دی جائیں گی، ان افراد میں وہ لوگ شامل ہوں گے
آئے دن بلوچستان کے ان علاقوں سے احتجاج کی صدا بلند ہوتی رہتی ہے جہاں پر سوئی گیس فراہم کی جارہی ہے۔ ان میں کوئٹہ کے علاوہ مستونگ اور قلات کے علاقے شامل ہیں ۔ گیس کی لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر میں مسلسل کمی کی زیادہ شکایات قلات سے آتی ہیں
بعض سیاستدان صرف اور صرف نعرہ بازی کی سیاست کررہے ہیں اور اکثر مخالفین پر الزامات لگاتے رہتے ہیں کہ وہ بلوچستان کی ترقی کے خلاف ہیں۔ بلوچستان کا کوئی شخص یہ نہیں چاہتا کہ اس کو بنیادی سہولیات سڑک ‘ بجلی ‘ گیس ‘ اسکول ‘ ہسپتال دیگر تعلیمی اور نجی ادارے اور روزگار کے مواقع حاصل نہ ہوں۔ سی پیک اگر کسی حد تک چند ایک ضرورتیں بھی مہیا کرتا ہے
سندھ کی صورت حال میں نام نہاد قومی میڈیا کا کردار منفی رہاہے بلکہ الیکٹرانک میڈیا کو سندھ کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ سندھ کی حکومت اور اس کے منتخب رہنماؤں کے خلاف ٹی وی خبروں میں انتہائی غلط زبان استعمال کی جارہی ہے ۔ نام نہاد قومی چینل اس میں پیش پیش ہیں اور انتہائی گندہ کردار ادا کررہے ہیں جوقابل معافی بھی نہیں ۔