بلوچستان ہمیشہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنا رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ بلوچستان کو بجلی ‘ گیس اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اس کی واضح دو مثالیں آج عوام کے سامنے موجود ہیں۔
گزشتہ روز کوئٹہ اور اس کے گرد ونواح میں تیز بارش کی وجہ سے پوری شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی مقامی انتظامیہ خصوصاً میٹر وپولٹین کارپوریشن کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ۔ تمام گٹر سیلابی نالوں کی صورت ابل پڑے۔ بارش جو خدا کی رحمت ہے
وزیر داخلہ کچھ زیادہ ہی چالاک ثابت ہوئے بڑے سوچ بچار کے بعد انہوں نے غیر ملکی تارکین وطن کو تحفظ دینے کے لیے جعلی شناختی کارڈ کا ڈرامہ رچایا اور پورے ملک کو اس میں شامل کیا کہ ہر پاکستانی کے شناختی کارڈ کی تصدیق ہوگی ۔ پنجابی ‘ بلوچ‘ سرائیکی ‘ گلگتی ‘ بلتسانی ‘ سندھی اور پختون تو پاکستان کے شہری ہیں ۔
بلوچستان وسائل کے لحاظ سے مالا مال ہے مگر لوگ انتہائی غریب ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ساٹھ فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں پوری آبادی جو دیہی علاقوں میں رہتی ہے ان کو کسی قسم کی سہولیات حاصل نہیں ۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان کے عوام اس بات پر مسلسل احتجاج کررہے ہیں کہ ان کو بجلی کی سہولت فراہم نہیں کی گئی ۔ بلوچستان کے طول و عرض میں ٹرانسمیشن لائن موجود نہیں ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت نے اس پر کبھی توجہ دی کہ بلوچستان کو بھی پاکستان
حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے باضابطہ طورپر درخواست کی ہے کہ وہ جلد سے جلد افغان مہاجرین کی پاکستان سے وطن واپسی کے انتظامات کرے۔ یہ بات قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے اقوام متحدہ کے ادارے
کراچی ، کوئٹہ اور ملک کے دوسرے شہروں میں شہری جرائم میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ جرائم کی دنیا میں زیادہ تر نئے لوگ وارد ہورہے ہیں جن کے متعلق مقامی پولیس کو معلومات نہیں ہیں اور نہ پولیس نے زیادہ تگ و دو کرنے
حزب اختلاف کی پارٹیوں نے حکومت کا یہ موقف یکسر مسترد کردیا کہ تمام لوگوں کا پانامہ لیکس کے معاملے میں احتساب ہو سوائے وزیراعظم کے ، جبکہ حزب اختلاف کی تمام پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ احتساب کا عمل وزیراعظم سے ہی شروع ہو کیونکہ
مجموعی طورپر موجودہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لئے ایک بہتر بجٹ پیش کیاجس میں کافی حد تک عوامی معاملات اور مشکلات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے ان میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ ، الاؤنس میں اضافہ ،
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان حکومت نے وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی دعوت مسترد کردی جس میں افغان وزیر خارجہ اور دیگر حکام کو اسلام آباد آنے اور سرحدی امور پر بات چیت کرنے کی دعوت دی گئی تھی