سالوں گزر گئے کراچی میں سیکورٹی آپریشن جاری ہے ۔ البتہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے مگر دہشت گردی کے واقعات کے خطرات ہنوز باقی ہیں کیونکہ دہشت گرد اور طالبان ابھی تک خاموشی سے موجود ہیں کب کارروائی کریں ، کہاں کریں ، کس کو ٹارگٹ بنائیں، اس کی وجہ سے سیکورٹی کی صورت حال مکمل طورپر یقینی نہیں ہے تاہم آئے دن کے سیاسی ہڑتالوں سے جان تقریباً چھوٹ گئی ہے ۔
عمران خان کے علاوہ بہت سی دیگر اہم شخصیات نے یہ اشارے دئیے ہیں کہ ملک کے لئے صدارتی نظام حکومت بہتر ہے یہ تصور فوجی طالع آزماؤں کے لئے تو مناسب ہے کہ جس کی وجہ سے اقتدار کا سرچشمہ صرف شخص واحد ہوتا ہے ۔ اس کو بادشاہ کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اکثر ایسے لوگ من مانی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں ان میں سرفہرست ایوب خان ، یحییٰ خان اور بعد میں جنرل ضیاء الحق تھے۔
بلوچستان کے چیف سیکرٹری سیف اللہ چٹھہ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کوئٹہ کو ملک کا ایک مثالی شہر بنایا جائے گا۔ شہر کا ہر باشندہ اس میں کردار اد اکرے تاکہ شہر صاف ستھرا رہے ۔ بیماریوں اور آلودگی سے پاک رہے ۔ کوئٹہ ایک صحت افزا مقام تھااور اب دوبارہ اسکے وقار کو بحال کیا جائے تاکہ یہ ملک کا سب سے کم خرچ صحت افزا مقام رہے ۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ نوجوان ڈاکٹروں نے اپنے احتجاج کے خاتمے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان وزراء کی ایک کمیٹی سے مذاکرات کی کامیابی کے بعد کیا گیا ۔ ڈاکٹروں کا بنیادی مطالبہ تنخواہوں میں اضافے کا تھا ۔ہر ذی شعور شخص ان کے اس مطالبے کی حمایت کرتا ہے مگر ان کو ہڑتال کرنے اور ہنگامے آرائی کا حق نہیں دیتا ۔ یہ مسئلہ کھڑا ہی نہیں ہوتا اگر پڑھے لکھے ڈاکٹر اور مسیحا مہذب طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے اور عوام الناس حکومت کومجبور کرتے کہ ان کے مطالبات جائز ہیں لہذا ان کو تسلیم کیا جائے ۔
قومی اسمبلی میں اکثر اپوزیشن اراکین اسمبلی نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ پانا لیکس میں درج افراد کے خلاف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائے معلوم نہیں حکومت اس مطالبے کو کیوں تسلیم نہیں
بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت کے ساتھ امن کا عمل معطل ہوچکا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ کے درمیان ملاقات یا
گجراتی بولنے والے پاکستانی سرمایہ داری کو دہائیوں یہ شکایت رہی کہ وہ ملک کی معیشت چلا رہے ہیں اربوں کے ٹیکس ادا کررہے ہیں بلکہ پورا ملک چلا رہے ہیں مگر ان کا حکومت اور حکومتی فیصلوں پر کوئی دسترس نہیں ہے۔
افغانستان میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد لاکھوں افغانوں نے پاکستان کا رخ کیا اس کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی خارجہ پالیسی تھی اور اس وقت پی پی پی کی حکومت نے نئے افغان حکومت جس کی سربراہی سردار داؤد کررہے تھے
موجودہ صوبائی حکومت نے پہلے سو دن مکمل کر لئے ۔ اس دوران بعض اہم فیصلے کیے گئے جن کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے بعض فیصلوں کے اثرات کا جائزہ لینا باقی ہے کہ آئندہ پالیسی کے اثرات زیادہ خوش آئند ہوں گے ۔گوادر اس پورے خطے کی اہم ترین بندر گاہ ہے موجودہ حکومت نے یہ ذمہ داری قبول کر لی ہے کہ اس کو وہ تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی جو گوادر کو ایک بندر گاہ کی حیثیت سے تیز رفتار ترقی دے سکے
کئی دنوں تک اسلام آباد پر مظاہرین اور شرپسندوں کا راج رہا ۔ ناموس رسول کے نام پر انہوں نے ہنگامہ آرائی کی ۔ سرکاری املاک کو نقصنا پہنچایا اور وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ کی حالانکہ اکابرین نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا کہ وہ قادری کے چہلم کے موقع پر دعا کریں گے۔