قومی اثاثے نیلام نہ کریں

| وقتِ اشاعت :  


حکومت بضد ہے کہ پی آئی اے جو ایک قومی اثاثہ ہے اس کو ضرور نیلام کرے گی کیونکہ یہ آئی ایم ایف کا حکم ہے ۔ہوسکے تو حکمران یا اس کے کارندے پی آئی اے خرید کر اربوں ڈالر خود کمانا شروع کردیں۔ البتہ یہ دولت ریاست پاکستان کے پاس نہیں آنی چاہئے۔ یہ تاجر لیگ کا فیصلہ ہے تاجر لیگ کی حکومت کو یہ بڑی غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ وہ پی آئی اے کے ملازمین کے اتحاد کو توڑدے گی



بلوچستان۔۔۔پی آئی اے اور بسوں کی ہڑتال

| وقتِ اشاعت :  


پورا بلوچستان حقیقی معنوں میں دنیا سے کٹ کررہ گیا ہے۔ وجہ ہے پی آئی اے اور بسوں کی ہڑتال۔ صرف ٹرین واحد ذریعہ رہ گیا ہے جس کو بلوچستان کے عوام آمدورفت کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ ٹرینیں بھی صرف چند ہیں۔ ایک کراچی کے لیے، دوسرے لاہور اور راولپنڈی کے لیے۔ ریلوے کا حال خراب ہے، انجن اتنے پرانے اور ناکارہ ہوگئے ہیں کہ بولان میں خوفناک حادثہ کے بعد ڈرائیوروں نے پرانے انجن چلانے سے انکار کیا جس سے ان کی اور مسافروں کی جانوں کو خطرات لاحق رہتی ہے۔



مسئلہ کشمیر اور اس کا حل

| وقتِ اشاعت :  


کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تنازعہ ہے جو ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت بضد ہے کہ اس کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے جبکہ پاکستان اور اس کے عوام کی یہ رائے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جائے جس میں کشمیری عوام کو یہ حق ملنا چاہئے کہ وہ بھارت میں رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ کشمیری عوام کی مرضی ہے۔



حکومت کی اشتعال انگیزی

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ دور میں حزب مخالف کے سیاستدانوں اور مزدور رہنماؤں پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ اشتعال انگیزی میں ملوث ہیں اور اپنے سیاسی اور دوسرے اہداف حاصل کرنے کے لئے اشتعال نگیزی کا حربہ آئے روز استعمال کرتے رہتے تھے۔ مگر آج کل یہ بات حکومت وقت اور اس کے وزراء پر عائد ہوتی ہے جو جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کررہے ہیں اور ملک میں اشتعال پھیلارہے ہیں۔



پی آئی اے کی نجکاری۔۔۔بلوچستان دشمنی ہے

| وقتِ اشاعت :  


ریاست پاکستان نے گزشتہ 67سالوں میں بلوچستان میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرکے نہیں دیا۔ اس وجہ سے پورے صوبے کو سڑکوں کے جال سے جان بوجھ کر محروم رکھا گیا۔ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے روڈ ٹرانسپورٹ ناپید تھا اور لوگ مجبور اونٹوں اور گدھوں پر سفر کرتے رہے۔ یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا۔ مریض بوڑھے، بچے عورتیں سب مجبوراً اونٹ کی سواری کرتے رہے۔ مریضوں کو اونٹ، گدھوں پر اسپتال پہنچایا جاتا رہا۔



پی آئی ملازمین کا قتل

| وقتِ اشاعت :  


پی آئی کے دو ملازمین کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ دونوں ملازمین نجکاری کے خلاف احتجاج میں شریک تھے کہ ان پر گولیاں چلائی گئیں .گولیاں ان دونوں کو لگیں اور دونوں کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں پر وہ ہلاک ہوگئے۔ ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ گولیاں کس نے چلائیں تھیں۔ نہ ہی کسی گروپ یا سرکاری ادارے نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔



پی آئی اے کا بحران

| وقتِ اشاعت :  


پی آئی اے میں بحران اس وقت سے پیدا ہوا جب حکومت نے بین الاقوامی دباؤ میں آکر یہ فیصلہ کرلیا کہ پی آئی اے کی نجکاری ضرور ہوگی۔ اسی دن سے پی آئی اے کے خلاف سازشیں شروع ہوئیں جو آج دن تک جاری ہیں۔ مسلم لیگ کی تاجر لیگ اس بات پر بضد ہے کہ وہ قومی اثاثے اور تمام ریاستی ادارے فروخت کرکے رہے گی۔



سندھ حکومت کے خلاف کارروائی؟

| وقتِ اشاعت :  


ڈاکٹر عاصم حسین اور عزیر بلوچ کی گرفتاریوں کی اعلانات کے بعد بعض سیاسی تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت عنقریب سندھ میں بھرپور کارروائی کرے گی جس میں سندھ حکومت کی برطرفی بھی ہوسکتی ہے۔ا س پر معاملہ ختم نہیں ہوگا، پی پی کے مخالف ممتاز بھٹو کو سندھ کا مرد آہن بنایا جائے گا تاکہ وہ پی پی کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔



بلوچستان کو بجلی دیں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان اور اس کے عوام کا یہ جائز مطالبہ ہے کہ ان کو ضرورت کے مطابق بجلی دیں اور صرف اضافی بجلی دوسرے صوبوں کو فروخت کریں۔ بلوچستان موجودہ وقت میں 2250میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے مگر اس کو صرف 600میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ جبکہ بلوچستان کی موجودہ ضروریات تقریباً 1600میگاواٹ ہے اور زائد بجلی دوسرے صوبوں کو فراہم کی جارہی ہے۔



اخبار نویسوں کو دھمکیاں

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ دنوں ایک وڈیو ریلیز ہوئی جس میں ایک خاتون کو اخبار نویسوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے دکھایا گیا خاتون نے نام لے کر بعض اخبار نویسوں اور اینکرپرسن کو دھمکیاں دیں۔ ان کو اعتراض تھا کہ یہ تمام اینکر پرسن اور اخبار نویس لال مسجد کے معروف امام مولانا عبدالعزیز کی حمایت کیوں نہیں کرتے اور ان پر نکتہ چینی کیوں کرتے ہیں۔