مغربی ایشیاء میں تنازعہ زیادہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے ایران کی جانب سے کچھ احتیاط کا مظاہرہ ہوتا نظر آرہا ہے مگر سعودی عرب کے رویے میں سختی ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔
ساحل مکران ‘ مغربی ایشیاء تنازعہ کا محور
Muatasim Qazi | وقتِ اشاعت :
Muatasim Qazi | وقتِ اشاعت :
مغربی ایشیاء میں تنازعہ زیادہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے ایران کی جانب سے کچھ احتیاط کا مظاہرہ ہوتا نظر آرہا ہے مگر سعودی عرب کے رویے میں سختی ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
مغربی ایشیاء میں تنازعہ زیادہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے ایران کی جانب سے کچھ احتیاط کا مظاہرہ ہوتا نظر آرہا ہے مگر سعودی عرب کے رویے میں سختی ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں اوروہ پاکستانی حکام سے بات کریں گے۔ پاکستان نے اعلانیہ طورپر 34ممالک کے اتحادمیں شمولیت اختیار کر لی ہے مگر دیکھنا یہ ہے
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
بلوچستان میں بے تحاشاوسائل کی موجودگی کا ہر ذی شعور برملااظہار کرتا ہے اور یہاں کے وسائل سے ملکی خزانے کو فائدہ پہنچانے کی باتیں بھی ہمیشہ مرکز میں براجمان جماعتیں کرتی رہتی ہیں جبکہ ملک کے بیشتر سیاسی تجزیہ کار بھی بلوچستان کو پاکستان کی ترقی کی کنجی قرار دیتے ہیں۔مگرافسوس وسائل کے ساتھ کئی دہائیوں سے مسائل سے دوچار بلوچستان کے عوام کی داد رسی نہیں کی گئی اورآج تک یہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ سب سے زیادہ کوئٹہ میں ہوتی ہے یعنی بلوچستان کے داراخلافہ کو بھی گیس صحیح معنوں میں فراہم نہیں کی جارہی جبکہ بیشتر اضلاع میں تو گیس پائپ لائن تک نہیں بچھائی گئی‘ بلوچستان کے کھچ اضلاع ملک کے سرد ترین علاقے میں شمار ہوتے ہیں جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گرجاتا ہے ۔ ایسے عالم میں بھی شدید سردی میں یہاں کے عوام گیس سے محروم ہیں جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوکر گئی ہے۔c
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات ماضی کی نسبت اب زیادہ خراب دکھائی دے رہے ہیں۔ شیخ نمر النمر کی سزائے موت سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور پھر تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیے جانے اور ریاض سے ایرانی سفارتکاروں کی بے دخلی جیسے اقدامات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ خطے میں سیاسی اور مذہبی اثر ورسوخ کی دوڑ میں ریاض اور تہران کے درمیان جاری مقابلہ بازی کے اثرات خلیج کے پرسکون پانیوں سے کہیں دور تک پھیل سکتے ہیں اور شاید ہی مشرق وسطیٰ کا کوئی ملک ایسا ہو جو ان دونوں کی کشیدگی سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکے۔ اگرچہ حالیہ کشیدگی کے باعث ابھی تک دونوں ملکوں میں براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا ہے، تاہم یہ کشیدگی اتنی ہی خطرناک دکھائی دیتی ہے جتنی سنہ 1980 کی دہائی میں تھی۔ ایران سے سعودی عرب،بحرین،سوڈان اور اب کویت نے بھی سفارتی تعلقات ختم کردئیے ہیں جو نیک شگون نہیں کیونکہ اس طرح سے اسلامی ممالک ایک دوسرے کے مد مقابل ہونگے جو خطے کو شدید متاثر کرکے رکھ دے گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ او آئی سی بھی اس قدر مضبوط اور مستحکم نہیں جو بہت بڑا کردار ادا کرے البتہ چند ایسے ممالک ہیں جو اس کشیدگی میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرسکتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کی جانب سے بھی مثبت بیانات سامنے آئے ہیں کیونکہ یہ کشیدگی ان ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس کے بنیادی اسباب شیعہ اور سنی فرقہ واریت کی صورت میں سامنے آئینگے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
سمندری حدود کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ بلوچستان کے ساحل پر منحصر ہے۔ اس سے بھی زیادہ ایرانی بلوچستان ہے جو مکمل طور پر ساحل مکران کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ گزشتہ 60سالوں سے پاکستان کے حکمرانوں نے اس کی اہمیت سے انکار کیا ہوا تھا۔ جب روسی افواج افغانستان میں اپنی حمایتی حکومت کی امداد کرنے پہنچی تو اچانک یہ مغربی پروپیگنڈا سامنے آیا کہ روس ساحل مکران کے ’’گرم پانیوں‘‘ پر قبضہ چاہتا ہے۔ حکمرانوں نے امریکہ کے شہہ پر روس کے خلاف افغان خانہ جنگی میں بھرپور حصہ لیا۔ افغانوں کو دھونس دھمکی اور لالچ کے ذریعے پاکستان بحیثیت مہاجر بلایا گیا تاکہ روس کے حامی افغان قوم پرست حکومت کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا کیا جائے۔ یہ سب کچھ کامیاب ہوگیا لیکن پھر بھی پاکستانی حکمرانوں کو یہ احساس نہیں ہوا کہ ساحل مکران یا خلیج بلوچ کتنا اہم ہے۔ ظلم خدا کا یہ سمندر یا ساحل بلوچ پر حکمرانی وہ لوگ کررہے ہیں جنہوں نے سمندر ہی نہیں دیکھا ، بلوچ اور سندھی عوام اور ان کے نمائندوں کو ساحل کی ترقی سے متعلق پالیسی بنانے سے دور رکھا گیا ساری پالیسی اس طرح بنائی گئی
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں شاہراہوں کی جلد ازجلد تکمیل کو ایک قومی فریضہ سمجھتے ہیں اور اس پر پورے قومی جذبہ سے کام کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ خان زہری نے یہ بات گزشتہ روز تلار میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ ایف ڈبلیو او کی جانب سے زیر تعمیر شاہراہ کے معائنہ کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گوادر میں پانی اور بجلی کی فراہمی کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کے قریب مزید ڈیموں کی تعمیر کیلئے فوری اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے گوادر میں ڈی سیلنیشن پلانٹس کے کام میں حائل رکاوٹوں سے متعلق بی ڈی اے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
سال 2015ء کے دوران دنیا کے تمام نشریاتی اداروں کی شہ سرخیوں میں اول تو پناہ گزین رہے جو اپنے ممالک میں جنگی حالات کی وجہ سے یورپ کی جانب محو سفر رہے اور اس دوران متعدد پناہ گزین خطرناک راستوں کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے‘ دنیا کی نظریں اُس وقت پناہ… Read more »
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
چاروں اطراف میں گِرا کوئٹہ شہرکی فطرتی خوبصورتی لوگوں کواپنی طرف مائل کرتی ہے‘ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے بعد سب سے بڑا مسئلہ شہروں کی خوبصورتی کی بحالی اور یہاں کے بنیادی مسائل حل کرنا تھا‘ ملک میں سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کی بازی تو بلوچستان لے گئی مگر یہاں کے بلدیاتی نمائندگان اختیارات اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے فنڈز نہ ملنے پر سراپااحتجاج تھے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کوئٹہ کو دوسرے شہروں کے مقابلے میں لانے کیلئے پانچ ارب روپے کا پیکج دیاہے جس سے دس بڑے پروجیکٹس شروع کیے جائینگے، جن میں پارکنگ پلازہ، تفریح گاہ، فلائی اوور گوالمنڈی چوک، انڈرپاس بروری روڈ گولیمار چوک، انڈرپاس تاروروڈپشتون آباد، انڈرپاس عسکری پارک نواں کلی، انڈرپاس جی پی او چوک زرغون روڈسمیت دیگر شامل ہیں۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نے اپنی الگ پارٹی بنالی اور ساتھ یہ اعلان کیا کہ ملک میں جمہوری پارلیمانی نظام ناکام ہوگیا ہے اس لئے وہ صدارتی نظام کے لئے جدوجہد کریں گے۔ ملک میں بعض حلقے ان کا احترام کرتے ہیں اور بعض سیاسی حلقے اس کے سیاسی کردارکو جانبدارانہ سمجھتے ہیں۔ ان میں پی پی پی سب سے زیادہ پیش پیش ہے کہ پورے پانچ سال عدالتی نظام کے ذریعے پی پی پی حکومت کو موصوف نے جان بوجھ کر اور نشانہ بناکر مفلوج کیا۔ ملک کے وزیراعظم کو اس بات کی سزادی جو انہوں نے نہیں کیا تھا۔ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ سابق وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو سزا غلط تھی اور سوئس کیس کا وقت گزرچکا تھا اور سرکاری ذرائع نے اس کو تسلیم کیا تھا۔ شاید جسٹس افتخار چوہدری نے یہ عمل جان بوجھ کر کیا تا کہ پی پی پی کی حکومت عدم استحکام کا شکار ہو اور شاید یہ مقتدرہ کے اشارے پر کیا گیا۔ عدالت میں بیٹھ کر جسٹس چوہدری سیاسی بیانات زیادہ دیا کرتے تھے فیصلے کم۔ بلوچستان میں ان کا بہت زیادہ احترام تھا مگر مسنگ پرسنز یا اغواء شدہ افراد کے مقدمے میں بلوچستان کے کسی ایک فرد کو کوئی راحت نہیں دی گئی۔ سالوں سال جسٹس چوہدری ڈرامہ بازی کرتے رہے اور مقتدرہ کے ساتھ تعلقات کوخوشگوار رکھا اور مسنگ پرسنز کے معاملے کو داخل دفتر کیا وہ بھی مقتدرہ کی مرضی اور منشاء کے مطابق۔ بعض مقدمات میں باقاعدہ ثبوت فراہم کئے گئے تھے مگر جسٹس چوہدری نے کسی ایک بھی سرکاری اہلکار کو سزا نہیں دی۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
گزشتہ روزبے نظیر بھٹو کی برسی منائی گئی۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں انہوں نے شہادت پائی۔ موت سے پہلے ان کی تقریر مثالی تھی، یادگار تھی اور اس تقریر نے ان کے عزت اور احترام میں بحیثیت رہنما اضافہ کیا ان کی جنگ کسی اور سے نہیں تھی ان کی جنگ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف سے تھی ان سے معاہدہ ہوا۔ معاہدے میں انتخابات کرانے کا فیصلہ ہوا۔ جنرل پرویز مشرف کی مرضی کے بغیر وہ تشریف لائیں اور ان کا زبردست استقبال ہوا۔ پہلے ہی روز ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، لاکھوں کے اجتماع میں ان کے ٹرک کو نشانہ بنایا گیا