ساحل و وسائل یا صوبائی خودمختاری

| وقتِ اشاعت :  


بی این پی کے صدر اختر مینگل نے گزشتہ روز پارٹی فیصلوں کا اعلان ایک نیوز کانفرنس میں کیا جس میں ساحل اور وسائل پر صوبے کے مکمل اختیار کے مطالبے کو دہرایا اور اعلان کیا کہ وہ اس مسئلے پر ایک آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں بلا رہے ہیں جہاں پر وہ دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں کو بلوچستان کے حالات سے متعلق معلومات فراہم کریں گے ۔ ساحل و وسائل پر صوبوں کی عمل داری ضروری ہے تاکہ مقامی لوگ نہ صرف اس کو کنٹرول کریں بلکہ ان کو عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے استعمال میں لائیں ۔ مگر زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ صوبوں کی وسیع تر خودمختاری پر بات کی جائے



وفاق احتسابی نظام ختم کردے

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان ایک رضاکارانہ وفاقی ریاست ہے اور اس وفاق کو وفاقی اکائیوں نے تشکیل دیا ہے اور رضا کارانہ بنیاد پر تشکیل دیا ہے، رضا کارانہ بنیاد پر وفاق کو بعض اختیارات تفویض کیے گئے ہیں اسلئے ریاست وفاقی اکائیوں کا مرہون منت ہے ۔ ا سلئے اختیارات کا اصلی سرچشمہ صوبوں یا وفاقی اکائیوں کو ہونا چائیے نہ کہ مرکزی حکومت یا اس کے اداروں کو ۔ ایسی صورت میں مرکزی حکومت اوراس کے اداروں کو بہت زیادہ طاقتور نہیں ہونا چائیے کہ وہ یہ تاثردیں کہ پاکستان ایک رضا کارانہ وفاق نہیں ہے یا وفاقی ملازمین کی ایک کالونی ہے اورصوبوں کے عوام ان کے ماتحت یا غلام ہیں ۔



سرکاری سرپرستی میں انسانی اسمگلنگ

| وقتِ اشاعت :  


آئے دن ایرانی حکام ہم کو شرمندہ کرتے رہتے ہیں اور تقریباً روزانہ سو کے لگ بھگ غیر قانونی تارکین وطن کو ایران میں گرفتار کر لیتے ہیں اور بین الاقوامی سرحد پر مقامی حکام کے حوالے کرتے رہتے ہیں، حکومت پاکستان ٹس سے مس نہیں ہوتی اس کا برتاؤ ایسا ہے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ان کو ملک کے وقار اور بے عزتی کی کوئی فکر نہیں ،نہ ہی اس کا کوئی حل تلاش کیا جارہا ہے بلکہ دہائیوں سے یہ کاروبار چل رہا ہے ۔ غریب گھرانے لاکھوں روپے انسانی اسمگلروں کو ادا کرتے ہیں کہ وہ ان کو جنوبی یورپ کے ملکوں میں پہنچائیں مگر وہ بیچارے ایران ہی میں گرفتار ہوجاتے ہیں



کراچی میں دہشت گردی

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ روز ملٹری پولیس کے دو اہلکاروں کو صدر کے علاقے میں گولیوں سے نشانہ بنایا گیا، دونوں اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ موٹر سائیکل پر سوار دو دہشت گردوں نے قریب سے آکر دونوں ملٹری پولیس کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ۔ ہیڈ کو لیگل افسر کے مطابق ایک اسپتال پر پہنچنے پر مردہ پایا گیا دوسرا اسپتال میں زیر علاج تھا کہ اس کا انتقال ہوگیا ۔ پولیس اور تفتیش کاروں کے مطابق دونوں دہشت گرد ملٹری پولیس کی جیپ کا پیچھا کرتے رہے اور تبت سنٹر کے قریب موقع ملتے ہی انہوں نے قریب سے ان پر فائر کیا ان میں سے ایک موقع پر ہی ہلاک ہوا ا ور دوسرا اسپتال جا کر دم توڑ گیا ۔ دونوں کو گولیاں سروں میں لگی تھیں ۔ تفتیش کاروں کے مطابق9ایم ایم کا گن استعمال ہوا ہے ۔



مہنگائی اور منی بجٹ

| وقتِ اشاعت :  


توقع کے مطابق وفاقی حکومت نے منی بجٹ نافذ کردیا اس منی بجٹ کے ذریعے حکومت 379ملین ڈالر یا چالیس ارب روپے ٹیکس کی مد میں جمع کرے گی یہ آئی ایم ایف کا نہ صرف مطالبہ تھا بلکہ دباؤ تھا کہ عوام الناس پر چالیس ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جائے ۔ چنانچہ آئی ایم ایف کا حکم تسلیم کیا گیا اور منی بجٹ کا اعلان کیا گیا ۔ مسلم لیگ چونکہ تاجروں کی جماعت ہے یا اس کے فیصلہ کرنے والوں میں تاجر حضرات پیش پیش ہیں ۔ اس لئے مسلم لیگ کی حکومت عوامی مفادات کو نظر انداز کرتی ہے اور تاجر ‘ صنعت کاروں کی مفادات کے تحفظ کو اولیت دیتی ہے ۔ ٹیکسٹائل مافیاکا ہر مطالبہ پورا کیاجاتا ہے



پاک افغان تعلقات

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی حالیہ کشیدگی کے ماحول میں یہ ملاقات ایک خوش آئند عمل ہے ۔ ملاقات پیرس میں بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران ہوئی ،اس میں برطانیہ کے وزیراعظم کیمرون بھی تصویر میں نظر آرہے ہیں ۔ برطانیہ اس خطے کا حکمران رہا ہے اور افغانستان کے کچھ حصے ، پورا برصغیر اور بلوچستان ایک صدی تک برطانیہ کی نو آبادی رہی ۔ افغان ‘ بلوچ اور ہند کے باشندوں نے برطانوی غلامی کے خلاف پوری صدی جدوجہد کی ۔ بلوچوں نے 100سالوں میں برطانوی افواج کے خلاف 200چھوٹی بڑی جنگیں لڑیں اور 15فوجی آپریشنز کا سامنا کیا ۔



کراچی آپریشن

| وقتِ اشاعت :  


کراچی میں ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں اور سینکڑوں کو ’’ مقابلوں ‘‘ میں ہلاک کیا گیا مگر ابھی تک حالات میں توقعات کے مطابق بہتری نہیں آئی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ غیر فطری آپریشن ہے ۔ آپریشن سندھ رینجرز کررہی ہے جو کراچی یا سند ھ کے حالات اور واقعات سے بہتر آگاہی نہیں رکھتی ۔ اس وجہ سے متوقع نتائج سامنے نہیں آرہے ۔ متحدہ کا خیال ہے کہ اس کا رخ صرف ان کی طرف ہے ان کے لوگ گرفتار ہورہے ہیں یا مقابلے میں مارے جارہے ہیں ۔ ادھر پی پی پی کا بھی یہی خیال ہے کہ اس کے گھر لیاری میں آپریشن کا مقصد پارٹی کو لیاری سے باہر نکالنا ہے بلکہ سندھ حکومت بعض کارروائیوں سے متعلق



وزیراعلیٰ کا جائز مطالبہ

| وقتِ اشاعت :  


نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے باتیں کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ موجودہ اور دستیاب وسائل سے بلوچستان کو ترقی دینا مشکل ہے اس لئے وفاقی حکومت کو کئی سو ارب روپے سالانہ بلوچستان پر خرچ کرنا چائیے تاکہ بلوچستان دوسرے صوبوں کے برابر جلد سے جلد آسکے ۔ بلوچستان کا رقبہ تقریباً آدھے پاکستان کے برابر ہے، اس لیے اس کی ترقی پرسرمایہ کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل مختص کیے جائیں تاکہ ترقی کی رفتار تیز ہو اور لوگوں کو مایوسی کے عالم سے باہر نکالا جائے ۔ صنعتی شعبے میں پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک



ایرانی زائرین کوسہولیات

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ چند دنوں سے ایرانی زائرین کوئٹہ شہر کی سڑکوں پرمظاہرے کررہے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کو ایران جانے کی فوری اجازت دی جائے، سیکورٹی کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور حکومت اس کا فوری انتظام کرے اور اس میں تاخیر نہ کرے چونکہ پاکستان کے اندر سفر پر کوئی پابندی نہیں ہے لہذا کسی کو بلوچستان آنے کے لئے کسی پاسپورٹ اور ویزا کی ضرورت نہیں ہے وہ کسی بھی وقت آسکتے ہیں بغیر اطلاع دئیے آسکتے ہیں اس کے لئے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سیکورٹی کی ذمہ داری حکومت پر ہے ، ریاست اپنے شہریوں کی سیکورٹی کا ذمہ دار ہے ۔



ماحول میں آلودگی اور مقامی ادارے

| وقتِ اشاعت :  


آج کل سیاست اور تجارت میں فرق کرنا زیادہ آسان نہیں ہے پہلے سیاست کو عبادت کا درجہ دیاجاتا تھا اور پوری حکومت اور انتظامیہ ایک غریب اور ادنیٰ سے کارکن کی ہمدردیاں کسی بھی قیمت پر نہیں خرید سکتی تھیں۔ ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس ان کے کردار سے لرزاں رہتی تھی آج کل یہ سب غائب ہوگیا ہے۔ وجہ۔۔۔ سیاست کو اب عبادت کا درجہ حاصل نہیں بلکہ سیاست کو دولت کے حصول کاآسان ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور حقیقتاً ایسا ہی ہے ۔ سیاست صرف اور صرف دولت کمانے کا ذریعہ بن گیا ہے ۔ بعض سیاستدان صرف چند لاکھ کے مالک تھے لیکن اب ان کی دولت کئی اربوں میں ہے