ایک بار پھر متحدہ کے رہنماء فاروق ستار نے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ دہرایا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں مزید صوبے بننے چاہئیں ۔ جہاں تک بات سرائیکی اور پوٹھوہار صوبوں کی ہے ان کا مطالبہ جائز ہے کیونکہ یہ ان لوگوں کی اپنی سرزمین ہے اورصدیوں سے اس سرزمین پر آباد ہیں یہ لوگ باہر سے نہیں آئے ہیں ۔ پوٹھو ہار کے لوگ پنجاب اور پختونوں سے مختلف ہیں ان کا اپنا کلچر ہے رسم و رواج ہے، زبان اور سب سے بڑھ کر ان کی اپنی زمین ہے ۔ اسی طرح سرائیکی بولنے والے لوگ بھی اسی ذمرے میں آتے ہیں انکی بھی پنجابیوں سے الگ زبان کلچر ‘ رسم و رواج ‘ طرز زندگی ‘
ترکی کے ایف 16لڑاکا طیاروں نے روس کے ایس یو 24جنگی جہازکو شام کے سرحد کے اندر مار گرایا ۔ یہ طیارہ ترکی کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا کہ پہلے ہی مار گرایا گیا۔ روس کا دعویٰ ہے کہ پائلٹ نے کسی کو نہ دھمکی دی اور نہ ہی کسی پر حملہ کا ارادہ کیا ۔ دوسری جانب ترکی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کو پانچ منٹ میں دس بار وارننگ دی گئی تھی اور اس کے بعد ایف 16طیاروں نے فضاء سے فضاء میں مار گرانے والے میزائل استعمال کیے ۔ روسی جہاز چار کلو میٹر شام کے سرحد کے اندر گر کر تباہ ہوگیا ۔ دونوں پائلٹ کے متعلق ترکی کا دعویٰ تھا کہ دونوں زندہ ہیں
گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کی حکومت نے وفاق کو خط لکھا ہے کہ افغان مہاجرین کے ملک میں قیام میں مزید توسیع نہ کی جائے ۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس بھیجا جائے ۔ وزیراعلیٰ کا یہ موقف عوامی مطالبے کی تائید ہے کہ افغان تارکین وطن اور خصوصاً افغان مہاجرین کو اپنے ملک جلد سے جلد واپس بھیجا جائے ۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں ۔ پہلے تو یہ افغان بشمول غیر قانونی تارکین وطن ملک کی قومی اور علاقائی معیشت پر زبردست بوجھ ہیں ۔ دوسرے یہ کہ یہ غیر قانونی کاروبار ‘ اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ
دررہ بولان میں حادثہ پیش آیا جس میں درجن بھر سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔ درجنوں دوسرے افراد شدید زخمی ہوئے ۔ ریل حادثہ بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا یہ حادثہ تھا کوئی تخریب کاری نہیں تھی ۔ چونکہ محکمہ ریلوے میں خصوصاً بلوچستان صوبہ میں حکام انجن‘ پٹڑی اور دوسرے چیزوں کی دیکھ بھال نہیں کرتے اسلئے ایسے حادثات پیش آتے رہیں گے اور انسانی جانوں کا نقصان ہوتا رہے گا۔ یہ ممکن ہے کہ ریلوے انجن کی مناسب دیکھ بھال ہوتی اور ٹرین کی روانگی سے قبل ہر ریلوے ٹریک کی چیکنگ ہوتی تو شاید یہ حادثہ پیش نہ آتا ۔ ویسے بھی وفاق اور وفاقی وزارت برائے ریلوے
وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کو مزید دو سال قیام کی اجازت نہ دینے کے متعلق وفاقی حکومت کو خط ارسال کردیا ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب پشاور سانحہ رونما ہوا، نیشنل ایکشن پلان کے مطابق دسمبر2015ء کے آخر تک افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کو یقینی بنانا تھا، گزشتہ ماہ کابل میں سہ فریقی کانفرنس جس میں پاکستان،افغانستان اور ایران کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ جس پر متعلقہ حکام سے کہا گیا تھا کہ افغان مہاجرین کو مزید دو سال کی توسیع دی جائے، یو این ایچ سی آر کے ترجمان کے مطابق اب پاکستان کی وفاقی کابینہ
افغانستان کی شورش زدہ حالات کے بعد افغان باشندوں کی بڑی تعداد نے پاکستان کا رخ کیا جبکہ اس وقت سب سے زیادہ افغان مہاجرین بلوچستان میں آباد ہیں۔ یواین ایچ سی آر کی جانب سے افغان مہاجرین کی جو تعداد بلوچستان میں بتائی جاتی ہے اس پر قوم پرست سیاسی جماعتیں انکاری ہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین بلوچستان میں آباد ہیں جن میں غیر قانونی تارکین وطن سب سے زیادہ ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا
مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری سے خطے کے اربوں لوگوں کی تقدیر بدلے گی اور یہ گیم چینجرکا کردار ادا کرے گی ۔اس قسم کے بیانات مسلسل وفاق کی جانب سے سامنے آرہے ہیں‘ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو‘اگر خطے کے اربوں لوگوں کیلئے نہ سہی کم ازکم اقتصادی راہداری بلوچستان کے مظلوم عوام کی تقدیر بدل دے تو کم ازکم بلوچستان پسماندگی کے دلدل سے نکل جائے گا جس کا انتظار وہ گزشتہ67 سالوں سے کررہے ہیں۔ گیس بلوچستان سے نکلی مگر صنعتیں پنجاب میں لگیں۔ آج بھی بلوچستان کے بیشتر علاقے گیس سے محروم ہیں المیہ یہ ہے
گزشتہ روز آب گم کے مقام پر ریلوے کی بگھیاں الٹنے کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں ریلوے نظام صدیوں پرانا ہے، مگر اس کی نسبت دیگر صوبوں میں بہترین ریلوے نظام متعارف کرائے جارہے ہیں اور وہاں کی شہریوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ مگر بلوچستان میں آج بھی شاہراہیں تک اس قدر خستہ ہیں کہ بیان سے باہرالبتہ یہ ضرور ہے جو ایک المیہ ہے‘ بلوچستان جو آج کل معاشی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرنے کی شہ سرخیوں میں نظر آرہا ہے سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے
پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مصالحتی عمل کابل سے معلومات ’لیک‘ ہونے کی وجہ سے منقطع ہوا تھا۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان اس سال جولائی میں چین اور بعد میں سیاحتی مرکز مری میں ہونے والے مذاکرات کے ختم ہونے کے لیے افغان حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔معلومات ’لیک‘ سے ان کی مراد افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی ہلاکت کی خبر سے ہے جس نے اس مصالحتی عمل کو معطل کر دیا تھا۔جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیشہ سب سے بڑا مسئلہ معلومات کا کابل سے سامنے آ جانا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ خطے کیلئے بھی بھرپور افادیت اور اہمیت کا حامل ہے، تاہم گوادرکے عوام کی ترقی کے عمل میں بھرپور شرکت اور صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں شراکت داری اس سے بھی زیادہ اہم ہے، ابتدائی مرحلے میں چین کو فری ٹریڈ زون کے لیے 644ایکڑ اراضی فراہم کی گئی ہے، جس کی دستاویزات پر دستخط کئے گئے۔ نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن چین کے وائس چیئرمین وانگ شی تاؤ ( Xiaotao Wang Mr.) ، وفاقی وزراء احسن اقبال، کامران مائیکل، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ